مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جائیگا‘ وزیر دفاع‘ عدالت جائیں‘ صہبا کی درخواست پر وزارت داخلہ کا جواب

مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جائیگا‘ وزیر دفاع‘ عدالت جائیں‘ صہبا کی درخواست پر وزارت داخلہ کا جواب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے مشرف غداری کیس میں مدعی حکومت پاکستان ہے، نام ای سی ایل سے کسی صورت نہیں نکالا جائے گا،کسی خفیہ ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کوئی بیرونی دباو¿ نہیں۔ اے این این کے مطابق نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا مشرف کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، انکا کیس عدالت میں ہے وہیں سامنا کریں۔ انہوں نے کہا پرویز مشرف نے ماضی میں نہ قانون کا احترام کیا نہ آج کر رہے ہیں انکے ساتھ کسی قسم کی کوئی خفیہ ڈیل نہیں ہوسکتی، سابق صدر کے اربوں روپے کے اکاﺅنٹس کہاں سے آئے؟ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا مشرف غداری کیس میں حکومت پاکستان مدعی ہے اس معاملے میں حکومت پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کسی کا کوئی دباﺅ نہیں۔ آئی این پی کے مطابق خواجہ آصف نے کہا مشرف کو بہادری سے عدالت کا سامنا کرنا چاہئے۔ اے پی اے کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کیلئے انکی اہلیہ صہبا مشرف کی درخواست پر وزارت داخلہ نے عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیدیا۔ ذرائع کے مطابق، صہبا مشرف کی طرف سے وزارت داخلہ کو دی گئی درخواست میں پرویز مشرف کی بیماری سمیت کئی وجوہات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے پرویز مشرف کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالا جائے اور انہیں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ صہبا مشرف کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے۔ وزارت داخلہ اس حوالے سے ازخود کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق صہبا مشرف نے درخواست میں کہا ہے پرویز مشرف اہلخانہ کے ہمراہ بیرون ملک سفر کرنا چاہتے ہیں اسلئے انکا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکال دیا جائے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست مسترد کر دی۔ وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے پرویز مشرف کا معاملہ عدالت میں ہے اور نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔ پرویز مشرف کے خلاف دائر مقدمات کے فیصلے ہونے تک وزارت داخلہ نام ای سی ایل سے نکالنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے متعدد درخواستیں وزارت داخلہ کو ارسال کی گئی تھیں جو تمام کی تمام مسترد کر دی گئی ہیں۔ اے این این کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے سے روکنے سے متعلق لال مسجد کی شہداءفا¶نڈیشن کی طرف سے دائر درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی جس کی سماعت پیر 6 جنوری کو ہوگی۔ ذرائع کے مطابق درخواست میں م¶قف اختیار کیاگیا ہے کہ پرویزمشرف کیخلاف لال مسجد آپریش اور غازی عبدالرشید قتل سمیت کئی مقدمات زیر سماعت ہیں اور ملزم کے خلاف تفتیش ہو رہی ہے۔ انہیں پاکستان میں بہترین علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔ درخواست میں وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد ، عبدالرشید غازی قتل کیس میں قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ خالد خٹک کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ ملزم پرویز مشرف کیخلاف مقدمے کی تفتیش جاری ہے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ این این آئی کے مطابق پرویز مشرف نے بیرون ملک جانے کی خواہش ظاہر کردی۔ اس ضمن میں صہبا مشرف نے وزارت داخلہ کے نام خط میں خاوند کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی ہے۔ سیکرٹری وزارت داخلہ کے نام خط میں صہبا مشرف نے کہا پرویز مشرف کی طبیعت ناساز ہے اور دبئی میں مقیم انکی والدہ بھی شدید علیل ہیں۔ پرویز مشرف اہلخانہ کے ہمراہ بیرون ملک جانا چاہتے ہیں اسلئے انکے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم کی جائے۔ خط میں کہا گیا ہے پرویز مشرف بھاگیں گے نہیں وہ وطن واپس آئیں گے اور تمام مقدمات کا سامنا کریں گے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرائع نے کہا غداری ناقابل ضمانت جرم ہے۔ پرویز مشرف کو خصوصی عدالت باہر جانے کی اجازت دے سکتی ہے۔ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکال بھی دیا جائے تو وہ باہر نہیں جاسکتے۔ وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی تو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔آن لائن کے مطابق وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے فرانسیسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اس وقت پرویز مشرف کو بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں، انہوں نے ان رپورٹس کی تردید کردی کہ مشرف کی اہلیہ صہبا مشرف نے وزارت داخلہ میں ان پر عائد سفری پابندی اٹھانے کے حوالے سے کوئی درخواست دائر کی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا صہبا مشرف کی جانب سے کوئی تازہ درخواست نہیں دی گئی اور یہ واضح ہے مشرف پر عائد سفری پابندی نہیں ہٹائی جارہی۔
سماعت کیلئے منظور
وزیر دفاع