نئی دہلی مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے بامعنی مذاکرات کرے‘ بھارتی ڈیموں کی تعمیر رکوانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں: قومی اسمبلی کی متفقہ قراردادیں

نئی دہلی مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے بامعنی مذاکرات کرے‘ بھارتی ڈیموں کی تعمیر رکوانے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں: قومی اسمبلی کی متفقہ قراردادیں

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) بھارتی قابض افواج کے ظلم کا شکار کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے قومی اسمبلی نے کشمیریوں کے حق میں قرارداد متفقہ منظور کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دے، مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے، بھارت پاکستان کے ساتھ بامعنی نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔ یہ قرارداد خصوصی کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمنٰ نے ایوان میں پیش کی اس سے قبل وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے قواعد معطل کرکے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے قرارداد ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دیئے جانے کی تحریک پیش کی جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ مولانا فضل الرحمنٰ نے کہا پاکستانی قوم حکومت، تمام ادارے کشمیریوں کے ساتھ ان کے حق خودارادیت میں ہمیشہ ہم قدم اور شانہ بشانہ رہے ہیں اور یہ کشمیریوں کے ساتھ ایک بڑی اہمیت کی حامل کمٹمنٹ ہے۔ 1993ء سے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی موجود ہے ہر سال 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے اس سال بھی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا۔ کشمیر کمیٹی کی طرف سے 2 وفود تشکیل دیئے گئے ہیں ان میں سے ایک وفد اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں یادداشت پیش کرے گا جبکہ دوسرا وفد کوہالہ کے مقام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر پارلیمنٹ کی جانب سے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے یہ ایوان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جنہوں نے اپنے مقصد کے حصول کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ یہ ایوان اتفاق رائے سے اظہار کرتا ہے جموں و کشمیر پر پاکستان کا موقف اصولوں پر مبنی ہے، آزادانہ، منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہونا چاہئے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ یہ ایوان بھارت پر زور دیتا ہے جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان بھارت کے مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو ضرور ساتھ رکھا جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے مسئلہ کشمیر پاکستان بھارت تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے اس کا حل ضروری ہے۔ قرارداد میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے اور انہیں حریت، تحریر، تقریر اور نقل و حرکت کی آزادی دے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے بھارت متنازعہ علاقوں کی شہری آبادی سے فوج کا انخلا کرے۔ گمنام قبروں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، مقبوضہ کشمیر میں رائج سخت گیر قوانین منسوخ کئے جائیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے بھارت پاکستان کے ساتھ بامعنی نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔ بعدازاں قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اے پی پی کے مطابق قومی اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں نے کشمیریوں کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، دوایٹمی طاقتوں کے درمیان ایسے تنازعہ کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہئے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن میجر (ر) طاہر اقبال نے کہا جمہوریت کے چیمیپئین کہلانے والے اور انسانی حقوق کا علم بلند کرنے والے یوپری یونین کے ممالک کو کشمیر میں مظالم کیوں نظر نہیں آتے۔ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں عالمی برادری کو اس پر توجہ دینی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو  دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو۔ ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے بلکہ یہ چاہتے ہیں  کشمیری قیادت کو ساتھ ملا کر اس مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو ہم جنگ کی لپیٹ میں آ جائیں ، یہ صرف اس خطہ کی جنگ نہیں ہو گی بلکہ عالمی جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبہ میں کشمیریوں کی قربانیوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کا شکریہ ادا کیا جائے۔ ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے کہا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیریوں کی چار نسلوں نے قربانیاں دی ہیں، ہم نے بھی دنیا کے ہر فورم پر اس مسئلہ کو اٹھایا۔ کشمیری حق خودارادیت چاہتے ہیں ہمیں اسے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ اس صورت میں ہم اس جنگ سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا روایتی انداز سے نکل کر ہمیں عملی انداز میں آگے بڑھنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کے رکن نواب محمد یوسف تالپور نے کہا  ہم قرارداد کی پرزور تائید کرتے ہیں قیام پاکستان سے اب تک یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے کشمیریوں سمیت دنیا کے ہر فرد کو اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ پاکستان بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کے ساتھ تجارت کے معاملے میں پاکستانی کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ محمد یعقوب نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں کالے قو انین کا خاتمہ اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرانے کیلئے عالمی برادری کردار ادا کرے۔ تحریک انصاف کے رکن شفقت محمود نے کہا پی ٹی آئی اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس بات پر یقین رکھتی ہے خطہ کی ترقی کیلئے پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں۔ یہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و تشدد برقرار رہے گا۔ کشمیریوں کوا ستصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہمیں ان قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ چیئرمین قومی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے قرارداد کی حمایت پر پورے ایوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا بلا شبہ حق خودارادیت کا مطلب یہ ہے اپنا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت 500 ریاستوں کو یہی کہا گیا کہ پاکستان یا بھارت میں سے جہاں چاہیں شامل ہو جائیں جبکہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ چلا گیا۔ حق خودارادیت کا لفظ تو استعمال ہو رہا ہے مگر اب اس کیلئے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کو ساتھ لے کر مذاکرات کے حق میں ہے۔ بھارت اب اسے اپنا اندرونی مسئلہ قرار دے رہا ہے۔ بھارت اسے متنازعہ مسئلہ نہیں سمجھتا جبکہ اقوام متحدہ اسے متنازعہ مسئلہ قرار دے رہا ہے اور پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہا ہے اب معاملہ طوالت اختیار کر گیا ہے جس سے کشمیریوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا تو الحاق پاکستان کے حوالے سے بھی مایوسی بڑھے گی۔
اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) قومی اسمبلی نے پاکستان کے پانیوں پر بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کئے جانے کی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔  قومی اسمبلی میں پاکستان کے پانیوں پر بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے مسئلے پر رکن قومی اسمبلی بیلم حسنین کی قرارداد پر بحث شروع ہوئی تو پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا یہ انتہائی تشویشناک مسئلہ ہے، بھارت کو ڈیموں کی تعمیر سے نہ روکا گیا تو ہماری 75 فیصد آبادی متاثر ہوگی، ہمیں بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر پر بات کرنی چاہئے نہ کہ بحث کا رْخ اندرونی پانی کی تقسیم کی طرف موڑ دیا جائے۔ ہمیں بھارت کے ساتھ طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔ اس معاملے پر کمیشن بنایا جائے۔  وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا  ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے حکومت کی پالیسی واضح ہے۔ اتفاق رائے کے بغیر کوئی ڈیم تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا بھارت ڈیم بنا کر پاکستان کو کھنڈر نہیں بنا سکتا۔ بجلی بنانے کے حوالے سے بھی بھارت کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھایا گیا ہے اس حوالے سے حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ عبدالرحیم مندوخیل نے کہا بھارت کے ساتھ موثر انداز میں بات نہ کی گئی تو ہم اپنے ہی پانی سے محروم ہو جائیں گے۔ پشتون علاقوں کی سرزمین سے ہی پانی کے ذخائر جنم لیتے ہیں کسی نے ہمارے مسائل کا ادراک نہیں کیا۔ عبدالستار بچانی نے کہا  جوں جوں دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے تمام ممالک پانی کے ذخائر محفوظ بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ افغانستان دریائے کابل پر بھی ڈیم بنا سکتا ہے۔ ہمیں یہاں متنازعہ ڈیموں پر بات کرنے کی بجائے ایوان میں موثر بحث کے بعد قرارداد منظور کرنی چاہیئے۔ ملک کے ساتھ پانی کے معاملے پر جو زیادتی ہو رہی ہے اس پر ہمیں تقسیم ہونے کی بجائے موثر حل تلاش کرنا چاہئے۔ شہاب الدین خان نے کہا سندھ طاس معاہدے کے تحت ہماری پوزیشن مستحکم ہے اس پر نظرثانی کی گئی تو ہمارا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہا  ہمیں اندرونی طور پر پانی کے ضیاع اور پانی کی ری سائیکلنگ پر بھی توجہ دینا ہو گی۔ بھارت ہمیں کشن گنگا ڈیم میں الجھا کر بگلیہار ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بھی ہمیں معاہدہ کرنا چاہئے۔ وولر بیراج پر ٹنل کے ذریعے بھارت نے پانی کا رخ موڑ دیا تو نیلم جہلم منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔  اس کے بعد سپیکر نے قرارداد ایوان میں پیش کی جو اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔