لاہور میں کینسر ہسپتال کے منصوبے کا اعلان‘ مریضوں کو مفت ادویات ملیں گی: شہباز شریف

لاہور میں کینسر ہسپتال کے منصوبے کا اعلان‘ مریضوں کو مفت ادویات ملیں گی: شہباز شریف

لاہور(خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کینسر کے مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب مرحلہ وار پروگرام کے تحت کینسر کے مریضوںکو مفت ادویات کی فراہمی کے لیے ڈیڑ ھ ارب روپے صرف کرے گی۔ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں عالمی کینسر ڈے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں اور خاندانوں کو جس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے یہ صرف وہی جانتے ہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ کینسر کا کوئی مستحق مریض غربت کی وجہ سے مفت ادویات کی فراہمی سے محروم نہ رہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر لاہور میں کینسر ہسپتال کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کینسر ہسپتال کے منصوبے کے لیے زمین اور مشینری پنجاب حکومت فراہم کرے گی جبکہ محکمہ صحت کے حکام اور طبی ماہرین کینسر ہسپتال کے منصوبے کے لیے قابل عمل سفارشات پیش کریں، حکومت اس پر فی الفور پیش رفت کرے گی۔ میں خود کینسرکا مریض رہا ہوں تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لوگوں کی دعاؤں سے مجھے اس موذی مرض سے صحت یابی نصیب ہوئی۔ میرا پختہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے عوام اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے نئی زندگی عطا کی ہے۔ شہباز شریف نے پنجاب حکومت اور نوارٹس کے تعاون کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو علاج معالجے کے درمیان جن مشکلات اور اذیت سے گزرنا پڑتا ہے وہ صرف وہی جانتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اپنے کینسر کے مرض اور اس کے علاج کی روداد پہلی دفعہ بتاتے ہوئے کہا کہ 2003ء میں جدہ میں میرے پیٹ میں رسولی کا انکشاف ہوا اور وہاں پر مصری ڈاکٹر نے چیک اپ کرنے کے بعد میری سرجری کی اور اگلے روز میں گھر منتقل ہوگیا تاہم کچھ روز بعد مجھ پر ہولناک انکشاف ہوا کہ رسولی کینسر زدہ تھی جس پر مجھے نیویارک کے ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں پر ڈاکٹر نے بغیر بائیو آپسی میری سرجری پر حیرانی کا اظہار کیا اور مجھے دوبارہ سرجری کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے دکھی انسانیت کی خدمت کا کام لینا چاہتا ہے،چنانچہ جب 2010ء کو بدترین سیلاب نے لاکھوں گھروں کو تباہ و برباد کیا اور میں مصیبت میں گھرے اپنے بھائی بہنوں کی مدد کے لیے دیوانہ وار کام میں مشغول رہا تو مجھے شدت سے یہ احساس تھا کہ میری زندگی کا مقصدعوام اور دکھی انسانیت کی خدمت ہی ہے، اسی طرح جب 2011ء میں ڈینگی کی وباء نے لاہور پر حملہ کیا اور مجھے سری لنکن ماہرین نے بتایا کہ آپ ڈینگی کے بہت بڑے حملے کا شکار ہوگئے ہیں اور اس سے 25ہزار انسانی زندگیوں کو خطرہ ہے تاہم ہماری شبانہ روز محنت اور کام سے لگن رنگ لائی اور چند سو افراد ڈینگی کے باعث جاں بحق ہوئے لیکن ہم نے ایک عزم، حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ کام کیا اور2012ء میں ناممکن کو ممکن بنا دیا اور2012ء میں ڈینگی سے کوئی شخص جاں بحق نہیں ہوا۔ یہ وہ انسانی خدمت کے کام ہے جنہیں میں نے ایک ٹیم ورک کے ساتھ سرانجام دیا اور آج 10برس ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ میری زندگی رکھے ہوئے ہے اور میرا پختہ یقین ہے کہ یہ زندگی عوام کے لیے ہی ہے۔ بلاشبہ کینسر کے مریضوں کے لیے امید کا پیغام ہی زندگی ہے اور جہاں امید نہ ہو وہاں زندگی کی رمق باقی نہیں رہتی اور وہی اقوام ترقی کرتی ہیں جو صحت مند معاشرے میں زندگی بسر کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے نوارٹس کمپنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جانب سے مفت ادویات کی فراہمی کینسر کے مریضوں کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے، جس سے ان کی زندگی میں امید پیدا ہوئی ہے۔ میں اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ جب تک میری جان میں جان ہے میں خادم بن کر صوبے کے عوام کی خدمت کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں بھی میں نے صوبے میں کینسر ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بنایا تاہم مجھے کہا گیا کہ یہ قابل عمل نہیں ہوگا کیونکہ اس پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں۔ میں آج عالمی کینسر ڈے کے موقع پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ لاہور میں کینسر ہسپتال کے قیام کے منصوبے کے لیے زمین اور مشینری کے لیے تمام رقم حکومت پنجاب فراہم کرے گی تاہم ماہرین اس ضمن میں قابل عمل سفارشات پیش کریں۔ بلا شبہ کینسر کے غریب مریضوں کو زندگی کی امید دینے والے دنیا میں جنت کمارہے ہیں۔ بڑے بڑے محلات کے مالک اور اشرافیہ کے علاج کے لیے کوئی مشکل نہیں لیکن عام آدمی آج بھی مارا مارا پھرتا ہے، ہمیں عام آدمی کے لیے سوچنا ہے اور اسے علاج معالجے کے لیے بہترین سہولتیںفراہم کرنا ہیں۔ نظام میں موجود خامیوں کو دور کرکے غریب اورمستحق مریضوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ پاکستان ہم سب کا سانجھا ملک ہے۔ تقریب سے خواجہ سلمان رفیق، فرانسیس باؤچرڈ، بابر حیات تارڑ اور مختلف ماہرین نے بھی خطاب کیا۔