حکومتی کمیٹی وضاحتیں طلب کرتی رہی‘ مذاکرات کا پہلا دور نہ ہو سکا‘3 رکنی کمیٹی ہی فائنل ہے اسی سے بات کرنا ہو گی: طالبان

حکومتی کمیٹی وضاحتیں طلب کرتی رہی‘ مذاکرات کا پہلا دور نہ ہو سکا‘3 رکنی کمیٹی ہی فائنل ہے اسی سے بات کرنا ہو گی: طالبان

 اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نیوز ایجنسیاں) حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی تنازعے کا شکار ہو گئے، مولانا سمیع الحق نے وزیر اعظم ہاو¿س میں مذاکرات سے معذرت کر لی جبکہ حکومتی کمیٹی نے طالبان کی نامزدکردہ کمیٹی کو وضاحت طلب امور کی فہرست تھماتے ہوئے طے شدہ اجلاس منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا، نئی ملاقات کےلئے وقت کا تعین نہیں کیا گیا، ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے واضح کر دیا کہ ہماری 3رکنی کمیٹی فائنل ہے، کوئی نیا نام شامل نہیں کیا جائے گا۔ جس کو مذاکرات کرنے ہیں اسی سے کرنے ہونگے۔ سمیع الحق کو فون کر کے آگاہ کر دیا ہے۔ حکومت اور طالبان کی جانب سے قائم مذاکراتی کمیٹیوں کا پہلا اجلاس منگل کو ہونا تھا اور اس مقصد کےلئے حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے مولانا سمیع الحق کو وزیر اعظم ہاو¿س میں آنے کی دعوت بھی دے رکھی تھی تاہم مولانا سمیع الحق نے یہ کہہ کر وزیر اعظم ہاو¿س جانے سے انکار کر دیا کہ حکومتی کمیٹی نے ہمارے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا اس لئے حکومتی کمیٹی کو ہمارے پاس آنا چاہیے۔ مولانا سمیع الحق کے انکار کے بعد حکومتی کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم ہاو¿س میں ہوا جس میں مولانا سمیع الحق کے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، عمران خان اور مفتی کفایت اللہ کی جانب سے طالبان کی کمیٹی میں شمولیت سے انکار اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے معاملات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک طالبان کی 5 رکنی کمیٹی مکمل نہیں ہوتی اور مذاکرات سے متعلق امور واضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک دونوں کمیٹیوں کے اجلاس سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا جس کے بعد حکومتی ٹیم نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم سے طے شدہ ملاقات کو منسوخ کر دیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں طالبان کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی سے کچھ وضاحتیں طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے گزشتہ روز مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے کہاکہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں اس کے بعد عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کی طرف سے انکار کیا گیا تو میرے ذہن میں سوال اٹھا اس کمیٹی کی نمائندہ حیثیت کیا ہے؟ کیا ارکان میں اضافہ ہو گا یا صرف تین رکنی کمیٹی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کمیٹی کے سربراہ وزیراعظم ہیں، ہم خود نہیں بلکہ کسی اتھارٹی کی بنیاد پر بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ طالبان کی 9رکنی کمیٹی بھی بنی ہے اور اس کمیٹی کا کچھ تعلق یا جوڑ ہے یا نہیں، کیا کمیٹی کے پاس اختیارات بھی ہیں ان اختیارات کی حد کیا ہے؟، ہم کمیٹی کا احترام کرتے ہیں جو وضاحتیں مانگی ہیں ان کی وضاحت دے دیں جب ہم مذاکرات کے لئے بیٹھیں تو پھر ہمیں ان چیزوں کی طرف نہ دیکھنا پڑے پھر اس مقصد کےلئے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا عمران خان کی علیحدگی سے کمیٹی کا قد کاٹھ کم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی نے کیا فیصلے کئے ہیں اس کا ہمیں علم نہیں ہے‘ یہ طے ہوا تھاکہ دونوں کمیٹیاں آپس میں مل بیٹھ کر طے کریں گے کہ مذاکرات کو کیسے آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کا فرض تھا کہ ہم سے رابطہ کرتے۔ طالبان نے ہمیں مکمل مینڈیٹ دیا ہے۔ حکومت کی کمیٹی ملاقات کی اہمیت نہیں سمجھتی۔ حکومتی کمیٹی نے پہلے دن سے ہی لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ہم امن کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ ہم مل کر بیٹھنے کو تیار ہیں۔ ہم مکمل بااختیار ہیں جبکہ حکومتی کمیٹی دبا¶ کا شکار ہے۔ حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔ حکومتی کمیٹی کو ہمارے معاملات میں دخل اندازی کا کوئی حق نہیں۔ طالبان کمیٹی میں مسجد کا موذن یا کوئی بچہ بھی ہو گا تو اس سے بات کرنا ہو گی۔ بے شمار طاقتیں ملک میں امن نہیں چاہتیں، حکومت اور طالبان اشتعال میں نہ آئیں حوصلہ رکھیں۔ وزیراعظم نیک نیت ہیں مگر دباﺅ میں آجاتے ہیں۔ امریکی دباﺅ میں اس کمیٹی کو بھی پسپا کر دیا گیا۔ ملک کو بڑی جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مذاکرات شروع ہوں گے تو دوبارہ فریقوں سے اپیل کریں گے کہ سیز فائر کیا جائے۔ ہر مسجد ہمارا دفتر ہے۔ میں بات چیت کے لئے طالبان کو اسلام آباد بھی بلوا سکتا تھا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت آپریشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ حکومتی روئیے سے آپریشن کی بو آرہی ہے، ہم چاہتے تھے حکومتی کمیٹی کے ارکان 2 منٹ کے لئے ہی آ جاتے۔ سمیع الحق نے کہا کہ پوری قوم مذاکرات کی منتظر ہے حکومتی کمیٹی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے۔ بعدازاں عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ ہم نے کبھی مذاکرات سے انکار کیا اور نہ کریں گے۔ طالبان کمیٹی کے بارے میں صرف وضاحت طلب کی تھی۔ بعدازاں وزیراعظم نواز شریف سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے ملاقات کی اور طالبان کی کمیٹی سے ملاقات نہ ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔ عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ طالبان کی قائم کردہ کمیٹی پر تحفظات دور ہو گئے اور اب طالبان کی کمیٹی سے ملاقات کے لئے تیار ہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ ہماری کمیٹی کتنی بااختیار ہوگی اس کا فیصلہ تب ہوگا جب مذاکرات شروع ہونگے۔ عمران خان اور مفتی کفایت اﷲ کی علیحدگی کے بعد ہماری تین رکنی کمیٹی فائنل ہے جس نے بھی مذاکرات کرنے ہیں ہماری اسی کمیٹی سے کرنے ہونگے۔ حکومت کو جو وضاحت چاہئے وہ ہم موقع کی مناسبت سے دیتے رہیں گے۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے پہلے بھی ہمارے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا تاہم انہیں حوصلہ افزا جواب نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے مذاکرات کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ بی بی سی کے مطابق شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ہمیں اپنی کمیٹی پر مکمل اعتماد ہے، طالبان کی سیاسی شوریٰ کے حوالے سے جو تفصیلات دی جا رہی ہیں وہ درست نہیں۔ شوریٰ کے ممبران کی تعداد نہیں بتانا چاہتے تاہم امیر قاری شکیل ہیں۔ فضل اللہ پاکستان میں ہی ہیں اور ان کی نگرانی میں مذاکراتی عمل ہو گا اپنے کسی آدمی کو اس لئے کمیٹی میں شامل نہیں کیا کیونکہ اس سے پہلے بھی ہمارے مذاکرات کاروں کو دھوکے سے پکڑا گیا۔ مسلم خان اور مولوی بشیر کو پہلے پکڑا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ہم اپنی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ ملاقات کریں گے لیکن اس سے قبل ہم اپنے مطالبات میڈیا کے سامنے نہیں رکھنا چاہتے اور جو بھی کہا جائے گا مذاکرات کی میز پر کہا جائے گا۔ انہوں نے تردید کی کہ ان کی تنظیم کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم تحریک کے ترجمان نے قیدیوں کی اصل تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے مذاکرات کی بات تو ہو رہی ہے لیکن دوسری جانب حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔گذشتہ روز بھی سکیورٹی فورسز پر تین حملے کیے گئے؟ اس سوال کے جواب میں شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ جب تک جنگ بندی نہیں ہوگی تب تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ’مذاکرات ہوں گے تو ان میں جنگ بندی کی بات ہوگی۔ اس وقت ہمارے خلاف صرف قبائلی علاقوں میں آپریشن نہیں ہو رہے بلکہ یہ کارروائیاں کراچی سے خیبر تک ہو رہی ہیں۔‘ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اس وقت ہم دفاعی جنگ لڑ رہے ہیں اس وقت قبائلی علاقوں میں کوئی ایسا علاقہ نہیں جو مکمل طور پر ہماری عملداری میں ہو۔ رائٹرز کے مطابق طالبان کی کمیٹی کے ارکان مقررہ وقت پر دوپہر 2 بجے ملاقات کے لئے پہنچ چکے تھے تاہم حکومتی کمیٹی نے وضاحتوں کی فہرست دے کر ملنے سے معذرت کر لی جس پر مولانا سمیع الحق نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ حکومت کی ٹیم نے اس کے بعد طالبان کمیٹی سے ملاقات کے لئے پھر رابطہ کیا اور بتایا کہ حکومت کی کوئی پیشگی شرط نہیں۔ قبل ازیں مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی پر ملکی اور غیر ملکی دبا¶ ہے اللہ نہ کرے مذاکرات سبوتاژ ہوں تاہم کمیٹیوں کے مابین ہونے والے مذاکرات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ بعدازاں کوآرڈینیٹر طالبان کمیٹی یوسف شاہ نے بتایا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی نے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ مولانا سمیع الحق اور کمیٹی کے دیگر ارکان جا چکے ہیں۔ آج (منگل کے روز) مذاکرات ممکن نہیں۔ قبل ازیں رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وضاحتیں نہ ہونے تک مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ حکومتی کمیٹی کے رکن اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ ایک سے دو روز میں حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات ہو جائے گی۔ ’ایک بڑی وضاحت ہو گئی ہے اور ممکن ہے کہ طالبان سے جو دیگر وضاحتیں طلب کر رہے ہیں وہ بھی دے دی جائیں گی۔‘ طالبان قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یو سف زئی نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کی خواہش ہے کہ ان کے قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ کرنا ہے تو ہمیں جلدی کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے عوام کی مصیبتیں دور ہوں۔ ’اگر مذاکرات میں کوئی تعطل پیدا ہوتا ہے تو وہ سب کے لئے نقصان دہ ہوگا اور اگر پیش رفت نہیں ہو گی تو ظاہر ہے ایسی صورت میں مذاکرات لمبے عرصے تک نہیں چلیں گے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا حکومتی مذاکراتی کمیٹی طالبان سے مطالبہ کرے گی کہ وہ مذاکرات کا عمل شروع ہونے کے ساتھ اپنی کارروائیاں روک دیں؟ اس پر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ترجیح ہو گی کہ طالبان اپنی کارروائیاں بند کریں۔ اسلام آباد سے وقائع نگار خصوصی کے مطابق مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی ”تعطل“ کا شکار ہو گئے۔ دونوں اطراف ”انا“ آڑے آگئی۔ مذاکراتی کمیٹیوں نے ایک دوسرے کے تجویز کردہ مقام پر مذاکرات شروع کرنے سے معذرت کر لی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو نامکمل قرار دے کر مذاکرات سے گریز کیا۔ بعدازاں جب طالبان نے تین رکنی ٹیم کو اپنی حتمی مذاکراتی کمیٹی قرار دیا تو حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مولانا سمیع الحق سے مذاکرات کیلئے رابطہ قائم کیا گیا تو وہ سخت غصے کے عالم میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کئے بغیر اکوڑہ خٹک واپس چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق بعدازاں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان سے ملاقات کی اور انکو طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے پیدا ہونیوالے تعطل سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران حکومتی کمیٹی کے بعض ارکان نے چودھری نثار کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی قبول کرنے پر اصرار کیا تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوں تاہم وفاقی وزیر داخلہ کمیٹی کی سربراہی قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آرہے۔ ملاقات کے دوران چودھری نثار علی خان نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی مکمل بااختیار ہے مذاکراتی ٹیم کو حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے اپنے اجلاس میں اس معاملہ پر بھی غور کیا کہ ہمارے اجلاس سے قبل طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کو مذاکرات کیلئے کیونکر مدعو کر لیا گیا۔ عرفان صدیقی نے مولانا سمیع الحق کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کیلئے مدعو کر رکھا تھا دوسری طرف مولانا نے جماعت اسلامی کے دفتر میں پریس کو مدعو کر رکھا تھا اور مذاکراتی کمیٹی کے لئے ظہرانہ کا اہتمام کر رکھا تھا لیکن حکومتی ٹیم پریس کے سامنے کوئی ”ڈرامہ“ نہیں لگانا چاہتی تھی اسلئے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔