”مجھے یہودی ایجنٹ ثابت کریں“ عمران خان کا فضل الرحمن کو عدالت لے جانے کا اعلان

”مجھے یہودی ایجنٹ ثابت کریں“ عمران خان کا فضل الرحمن کو عدالت لے جانے کا اعلان

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ میرے بیان کو سمجھنے میں غلط فہمی ہو سکتی ہے، معافی کس بات کی مانگوں۔ توہین عدالت کیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے، زیادہ بات نہیں کروں گا۔ توہین عدالت کا 28 اگست سے پہلے جواب دیدوں گا، اس روز تیاری کے ساتھ جائیں گے۔ ہم ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، کبھی توہین نہیں کی، ہماری پارٹی کے منشور کا پہلا نقطہ ہی آزاد عدلیہ ہے۔ عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کو عدالت لے جانے کا اعلان کرتے کہا کہ وہ عدالت میں ثابت کریں کہ میں یہودی ایجنٹ ہوں۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے، ہم نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ مہنگائی بڑھے گی۔ پٹرول، ڈیزل مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ بجلی 75 سے 100 فیصد مہنگی ہونے والی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کا معاشی قتل ہونے والا ہے۔ شہباز شریف قوم سے کئے گئے وعدے یاد رکھیں۔ چار لاکھ غیرقانونی کنکشن پکڑے گئے ہیں مگر کسی سرکاری افسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ گیس اور بجلی کی چوری ملی بھگت سے ہو رہی ہے۔ بجلی چوری کی وجہ سے سارا بل ایماندار عوام بھرتے ہیں۔ ٹیکس وصولی کے درست نظام کی ضرورت ہے۔ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں۔ دھاندلی کے خلاف وائٹ پیپر جاری کرینگے۔ 3 برسوں کے دوران سب سے زیادہ مہنگائی جولائی میں ہوئی ہے۔ جولائی میں 24 فیصد مہنگائی بڑھی۔ مولانا فضل الرحمن نے مجھ پر یہودیوں کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا، میں انہیں عدالت لے کر جاﺅں گا۔ وہ عدالت میں ثابت کریں کہ میں یہودیوں کا ایجنٹ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے تباہی آنے والی ہے۔ الیکشن میں کرپشن اور ٹیکس چوری کم کرنے کے دعوے کئے گئے لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے ٹیکس چوری کنٹرول کرنے کی بجائے مہنگائی بڑھا دی۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر اسمبلی میں اور باہر آواز اٹھائیں گے۔ روپے کی قدر میں کمی سے قرضے کی قسطوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ڈالر کی قدر بڑھنے سے غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی ہوئی۔ ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جائیگی۔ کالے دھن کو سفید کرنے کے اقدامات کو روکنا چاہئے۔ روپے کی گراوٹ کو روکا جانا چاہئے۔ حکومت بجلی چوروں کیخلاف فوری کارروائی کرے۔ ہم ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ رہے ہیں، اس کی کبھی توہین نہیں کی۔ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں۔ سپریم کورٹ جمہوریت کو بچائے۔ محکموں کی ملی بھگت سے بجلی چوری ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے لوگ ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملہ لمحہ¿ فکریہ ہے۔ مہنگائی کے حوالے سے حکومتی اعددو شمار کا حوالہ دےتے ہوئے چیئرمےن عمران خان نے بجلی کے نرخوں میں اضافہ مسترد کر دیا اور کہا کہ حکومت کو 90 دن گزر گئے، کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ جولائی مےں مہنگائی کی شرح 24فےصد تک رہی جو گذشتہ 3برس مےں سب سے زےادہ ہے۔ اس مےں اضافہ تےزی سے جاری رہے گا۔ بجلی کے نرخوں مےں مجوزہ اضافے کو ہدف تنقےد بناتے ہوئے عمران خان نے کہا پہلے حکومت نے بجٹ مےں انتہائی غےر موثر ٹےکسوں کا نظام دےا جس نے غرےبوں پر بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھاےا جبکہ اب بجلی کی قےمت مےں اضافے کے ساتھ غےر مساوی انداز مےں بوجھ ان طبقات پر منتقل کےا جا رہا ہے جو پہلے ہی شدےد دباﺅ کا شکار ہےں۔ حکومت کو وسائل کے بہتر انتظام کےلئے سب سے پہلے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑنا، بعدازاں مرحلہ وار ٹےکس چوری اور بجلی چوری کا خاتمہ کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت اس کے بالکل برعکس بجلی کے نرخوں مےں اضافے سے بوجھ ان صارفےن پر منتقل کرنے کی تےارےوں مےں ہے جو اےمانداری سے اپنے واجبات بھی ادا کرتے ہےں اور اس مہنگائی سے براہ راست متاثر بھی ہےں ۔ بجٹ مےں جنرل سےلز ٹےکس کی شرح مےں اضافہ اور بالواسطہ ٹےکسز کے نفاذ کے حکومتی اقدامات کو مہنگائی مےں اضافے کی بنےادی وجوہات قرار دےتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پٹرولےم مصنوعات کے بعد بجلی کی قےمتوں مےں اضافے سے 144ارب کا بوجھ شہرےوں اور کاروباری حضرات پر منتقل کرنے کی تےارےاں کی جا رہی ہےں جس سے ملکی کاروبار اور صنعت بری طرح متاثر ہوں گے۔ حکومتی اقدامات کے نتےجے مےںرہائشی صارفےن کے نرخوں مےں 30سے 30فےصد کاروباری صارفےن کے نرخوں مےں 22سے 65فےصد جبکہ صنعتی صارفےن کے نرخوں مےں 25سے 96 فےصد تک اضافہ متوقع ہے۔ حکومتی توجیہات مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ حکومتی اقدمات سبسڈی کے خاتمے کےلئے نہےں بدعنوانی اور چوری کی قےمت کو شہرےوں ، کاروباری حضرات اور صنعتی صارفےن پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انتخابی دھاندلےوں کے حوالے سے 16اگست کو وائٹ پیپر قوم کے سامنے لانے کا اعلان کےا۔ خےبر پی کے مےں دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب مےں چیئرمےن پاکستان تحرےک انصاف کا کہنا تھا کہ اےک برس کے دوران صرف صوبے مےں 172دہشت گرد حملے ہوئے جبکہ اس کے مقابلے مےں پورے ملک مےں 101حملے ہوئے جس کا واضح مطلب ہے کہ خےبر پی کے دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے۔ امرےکی وزےر خارجہ سے ملاقات کے دوران ڈرون حملوں پر ہونے والی بات چےت کے حوالے سے اےک سوال کے جواب مےں عمران خان نے بتاےا کہ انہوں نے جان کےری کے سامنے اپنا موقف نہ صرف موثر انداز مےں رکھا بلکہ پشاور ہائی کورٹ کے فےصلے کی روشنی مےں ڈرون حملوں کے نقصانات کے حوالے سے اعدادوشمار بھی امرےکی وزےر خارجہ کے سامنے رکھے جن کے مطابق گذشتہ 5برس مےں ڈرون حملوں کے نتےجے مےں 1500معصوم افراد جاں بحق اور 330زخمی ہوئے جبکہ محض 45دہشت گردوں کو ہلاک کےا جا سکا۔ عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کےا کہ وہ قوم سے سچ بولے۔ ڈی آئی خان جےل واقعے کو پوری قوم کےلئے لمحہ فکرےہ قرار دےتے ہوئے عمران خان نے انکوائری رپورٹ قوم کے سامنے لانے کا اعلان کےا اور کہا کہ سوچنا چاہئے کہ اےک ڈوےژن فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد نے دہشت گردوں کے مقابلے کی بجائے فرار کا راستہ کےوں اختےار کےا۔ انہوں نے خےبر پی کے مےں معلومات کے حوالے سے قوانےن مستقبل قرےب مےں لانے کا اعلان کرتے ہوئے گاﺅں کی سطح تک بلدےاتی اداروں کے قےام کے حوالے سے صوبائی مقننہ مےں قانون سازی کا بھی اعلان کےا۔ دریں اثناءوفد سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا جمہوریت کو بچانے کے لیے اگر سڑکو ں پر نکل کر احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے، کارکن خود کو تیار کر لیں، دھاندلی قبول نہیں کی، حکومت کو موقع دیا ہے کہ وہ معاملات کو درست کرلے اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ دھاندلی کو قبول کر لیا ہے، جب تک الیکشن کمیشن کا احتساب نہیں ہوگا تب تک انتخابی عمل درست نہیں ہو سکتا۔
عمران خاں