پنجاب : 32 جیلوں میں 48 ہزار قیدیوں کیلئے 10 ہزار وارڈن‘ اکثر کو اسلحہ چلانا ہی نہیں آتا

پنجاب : 32 جیلوں میں 48 ہزار قیدیوں کیلئے 10 ہزار وارڈن‘ اکثر کو اسلحہ چلانا ہی نہیں آتا

لاہور (محسن گورایا سے) پنجاب کی جیلوں کی سیکورٹی یقینی طور پر سپرد خدا ہے کیونکہ جیل کیلئے بنائے گئے حکومت کے 1250 قواعد میں سے ایک بھی قاعدہ جیل حکام کو جیل کی دیواروں کے باہر سکیورٹی قائم کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اسی لئے جیلوں کی دیواروں پر بنائے گئے حفاظتی مورچوں (واچ ٹاورز) کے منہ جیلوں کے اندر کی طرف ہیں اور یوں جیل کے باہر کی طرف سے آنے والے کسی دہشت گرد کا جیل حکام کو اس وقت تک اندازہ ہی نہیں ہو سکتا جب تک وہ ان کے سر پر نہ پہنچ جائے ۔ جیل سے باہر سکیورٹی کی ذمہ داری ملکی و صوبائی قوانین کے مطابق پولیس کی ہے مگر اپنے کم وسائل اور پروٹوکول ڈیوٹیوں کی وجہ سے وہ اسے پورا کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ جب ڈیرہ اسماعیل خان جیل کی طرح کا دہثت گردی اور جیل توڑنے کا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو پھر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر دکھاوے کیلئے چند اجلاس اور دورے کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہی ”ڈھاک کے تین پات“۔ پنجاب کی 32 جیلوں میں 48,612 قیدیوں کیلئے 10,000 کے قریب وارڈنز (سپاہی) اور افسر ہیں جن کی اکثریت کو اسلحہ چلانا تو دور کی بات شاید ڈنڈا چلانا بھی ٹھیک سے نہیں آتا۔ جیل قواعد کے مطابق جیل کے اندر اسلحہ نہیں لے جایا جا سکتا۔ جیل کے اندر موبائل فون کا استعمال دہثت گردی اور دوسری غیر قانونی کارروائیوں کیلئے سب سے مو¿ثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے اسلئے جیل کے اندر اس کا استعمال بہت بڑا جرم تصور ہوتا ہے مگر آج کل صرف چند ہزار روپے دے کر جو قیدی چاہے موبائل فون رکھ سکتا ہے اور اگر کوئی قیدی زیادہ مالدار نہیں تو جیل حکام اس کے لئے سستی موبائل ٹیلی فون کال کچھ روپوں میں خود کرانے کی سہولت مہیا کرنے کیلئے ہر وقت تیار پائے جاتے ہیں۔ دہثت گردی اور فرقہ وارانہ مقدمات میں ملوث قیدیوں کو سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ اب تک جیل ٹوٹنے کے زیادہ واقعات انہی قیدیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں مگر حیرت کی بات ہے ان قیدیوں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہے جبکہ ایسے قیدیوں کے لئے عمومی طور پر ہائی سکیورٹی جیل بنائی جاتی ہے مگر پنجاب میں ساھیوال اور میانوالی جیل کو ہائی سکیورٹی جیل بنانے کے منصوبے کئی سال سے بنتے ٹوٹتے چلے آ رہے ہیں۔ کئی سال کے طویل صلاح مشوروں کے بعد بھی یہ منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل کے واقعہ کے بعد پنجاب میں اڈیالہ جیل راولپنڈی، سنٹرل جیل لاہور، سنٹرل جیل ساہیوال، سنٹرل جیل ملتان اور سنٹرل جیل ڈیرہ غازیخان میں دہشت گردی کا شدید خطرہ ہے کیونکہ ان جیلوں میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے جرائم میں ملوث قیدی موجود ہیں، پنجاب حکومت نے ان جیلوں کیلئے وفاقی محکمہ داخلہ سے ہیلی کاپٹر اور رینجرز طلب کئے ہیں جو ابھی تک نہیں پہنچے۔ دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیوں کے بعد چند دنوں کیلئے ”ڈنگ ٹپاﺅ“ سکیورٹی انتظامات ہمیشہ کئے جاتے ہیں مگر لانگ ٹرم اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے 1250 قوانین میں جیل کے باہر سکیورٹی کا ذکر ہی نہیں کیا گیا نہ تو ان رولز کو تبدیل کیا جا رہا ہے نہ ہی جیل کے باہر اور اردگرد پولیس اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری پوری کرتی ہے۔ انسپکٹر جیلخانہ جات میاں فاروق نذیر کا تعلق ”پرزن سروس“ سے ہے۔ وہ سپرنٹنڈنٹ جیل اورڈی آئی جی جیل رہنے کی وجہ سے تجربہ کار افسر ہیں، انکی دانست میں پنجاب کی جیلوں میں ڈی آئی خان جیل کی طرح کا کوئی واقعہ روکنے کی وہ پوری صلاحیت رکھتے ہیں، جیل کی فورس کو ایلیٹ اور فوجی ٹریننگ کرائی جا رہی ہے اب تک 2000 وارڈنز یہ تربیت حاصل کرچکے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا، جیلوں کی دیواروں پر بجلی کی ریزر وائرز اور بڑی بڑی سرچ لائٹیں لگانے کا عمل جاری ہے اسی طرح لائٹ مشین گنیں اور رائفلیں بھی منگوالی گئی ہیں۔ میاں فاروق نذیر نے کہا کہ جیل کے باہر سکیورٹی انتظامات ہمارا کام نہیں، یہ ذمہ داری پولیس کے پاس ہے۔ جیلوں کی سکیورٹی کے حوالے سے نوائے وقت کو کچھ ایسی دستاویزات بھی دیکھنے کو ملی ہیں جن کے مطابق سوا سال قبل پنجاب میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آئی جی پولیس نے یہ ذمہ داری لی تھی کہ وہ صوبے کی تمام جیلوں کو جانے والی قریبی سڑکوں پر سینڈ بنکرز (ریت کی بوریوں سے لیس مورچے) بنائیگی، وہاں پولیس گارد لگا کر آنے جانے والوں کو چیک کیا جائیگا، اسی طرح ڈیلٹا بیریئرز لگائے جائیں گے۔ 24 گھنٹے وہاں پولیس گشت کرے گی جیلوں کے باہر نشانے باز ٹرینڈ پولیس فورس تعینات ہو گی۔ پولیس کے اس وقت کے آئی جی نے یہ ذمہ داری لی تھی کی پولیس، جیلوں سے ملحقہ آبادیوں پر خصوصی نظر رکھے گی۔ آبادیوں میں مدرسوں اور مساجد کا جائزہ لیا جائیگا کہ وہاں کون کون آتا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ پولیس نے ان میں سے کوئی ایک بھی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ہوم سیکرٹری پنجاب میجر اعظم سلیمان اور آئی جی پولیس پنجاب خان بیگ چند روز قبل وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر پر اڈیالہ جیل کی سکیورٹی چیک کرنے گئے تو وہاں بھی پولیس کی پٹرولنگ اور سکیورٹی ذمہ داریوں میں کچھ دیکھنے کو نہیں ملا۔ چند ہفتے قبل تعینات ہونے والے ہوم سیکرٹری پنجاب میجر اعظم سلیمان سے گزشتہ روز جیلوں کی سکیورٹی کے حوالے سے نوائے وقت نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جیلوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بہت مسائل ہیں مگر حکومت پنجاب اس سلسلے میں غافل نہیں وہ خود، پولیس اور جیل کے آئی جیز کے ساتھ اڈیالہ جیل کا معائنہ کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہوم سیکرٹری نے بتایا کہ حکومت نے جیل کے اندر محکمہ جیل اور باہر پولیس کو چوکس کر دیا ہے مگر عید کے بعد جیلوں کی سکیورٹی کے حوالے سے فول پروف اور لانگ ٹرم اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس حوالے سے انہوں نے ہوم ورک پورا کرلیا ہے۔ جیلوں کے اندر موبائل فونوں کی موجودگی کے حوالے سے آئی جی جیل کا کہنا ہے کہ موبائل فون جام کرنے کا منصوبہ تین سال قبل ہم نے بنایا تھا اور پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر لاہور کی جیلوں میں اسے شروع بھی کردیا گیا تھا مگر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور بعض موبائل فون کمپنیوں کے دباﺅ پر یہ منصوبہ روکدیا گیا تھا اب ہم پھر اسے شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ موبائل فون کے حوالے سے جیلوں میں کرپشن کو انہوں نے تسلیم کیا اور کہا کہ محکمے میں موجود بعض کالی بھیڑیں اس میں ملوث ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیلوں میں لینڈ لائن پی سی او لگائے جا رہے ہیں تاکہ قیدیوں کا اپنے گھر والوں سے رابطہ رہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جیلوں کی سکیورٹی کیلئے سب سے بڑے خطرے یعنی جیلوں کے اندر موبائل فون کے غیر قانونی استعمال کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا۔ محکمہ جیل کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جیل حکام کی بدنیتی کے سبب شروع نہیں ہوسکا کیونکہ اس وقت جیلوں میں کرپشن کا ایک بہت بڑا ذریعہ موبائل فون ہے۔ یہ موبائل فون جیل حکام کی ملی بھگت سے ہر جیل میں موجود ہیں۔ اس کیلئے صرف تین ہزار ماہانہ جیل حکام کی نذر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جیل حکام کے اپنے اعداد و شمار اور ریکارڈ کے مطابق ہر جیل سے ماہانہ سینکڑوں فون برآمد کئے جاتے ہیں جو عملی طور پرصرف ڈرامہ ہوتا ہے کیونکہ چند ہفتوں کے بعد جیل کے اندر موبائل فون برآمد کرنے کیلئے چھاپہ مارا جائے تو پھر اتنی ہی تعداد میں موبائل فون ”درآمد“ ہوجاتے ہیں۔ پنجاب کی جیلوں کی موجودہ صورتحال دیکھ کر اور اعلیٰ حکام سے بات کر کے یہی کہا جا سکتا ہے کہ جیلوں میں دہشت گردی کی روک تھام حکومت کی ترجیح ہی نہیں، پولیس مادر پدر آزاد ہو چکی ہے، جیل حکام کے بار بار کہنے پر بھی وہ جیل کی بیرونی سکیورٹی کیلئے کچھ نہیں کرتے اسلئے اب محکمہ جیل کو اپنی ایک کوئیک رسپانس فورس خود ہی بنانا ہو گی۔ اسی طرح جیلوں سے موبائل فون کا خاتمہ اور جیل سٹاف کی وارڈن سے سپرنٹنڈنٹ تک لازمی سکیورٹی تربیت بھی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
پنجاب/ جیلیں