وزیراعظم کی روضہ رسول پر حاضری‘ ملکی سلامتی‘ دہشت گردی سے نجات کیلئے دعائیں

وزیراعظم کی روضہ رسول پر حاضری‘ ملکی سلامتی‘ دہشت گردی سے نجات کیلئے دعائیں

جدہ (این این آئی+ثناءنیوز+اے پی اے) وزیراعظم نوازشریف کی جدہ میں پاکستان جرنلسٹ فورم سے بات چیت کی مزید تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے کہا پاکستان اور بھارت جب تک اسلحہ کی دوڑ میں توازن پیدا نہیں کرتے اسوقت تک علاقائی امن کو خطرہ رہے گا ¾ پاکستان اور بھارت کو تنازعات کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں، پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتا ہے، ترقی اور خوشحالی امن کے بغیرممکن نہیں۔ نوازشریف نے کہا توانائی بحران کے حل کیلئے حکمت عملی طے کرلی ہے 3 سے 4 سال میں بجلی کی طلب اور رسد میں فرق ختم کر دیں گے اور عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے آنے والے وقت میں گوادر خطے کا معاشی اور تجارتی مرکز بنے گا اس سلسلے میں حکومت نے گوادر کاشغر تجارتی راہداری کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے جس پر جلد ہی کام شروع ہوجائے گا۔ اس منصوبے سے پاکستان اور چین کے علاوہ بھارت، افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ نواز شریف نے کہا پاکستان اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے کیونکہ ترقی اور خوشحالی امن کے بغیرممکن نہیں اور اس سلسلے میں پاکستان اور بھارت دونوں کو تنازعات کے حل کےلئے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی دونوں ملکوں کو عوام کے معیار زندگی میں بہتری کو ترجیح دینا ہوگی اس سلسلے میں امریکہ اور روس کی طرح پاکستان اور بھارت بھی اپنے دفاعی بجٹ میں کمی لاسکتے ہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق نوازشریف نے کہا پاکستان اور بھارت کو ہتھیاروں کی دوڑ میں توازن لانا ہوگا وگرنہ خطے میں امن و سلامتی کے حوالے سے خدشات موجود رہیں گے دونوں ممالک کو ہتھیاروں پر بھاری رقم خرچ کرنے کی بجائے سماجی انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اے پی اے کے مطابق نوازشریف نے کہا پاکستان اور بھارت جب تک اسلحہ کی دوڑ میں توازن پیدا نہیں کرتے، علاقائی امن کو خطرہ رہے گا۔ انہوں نے کہا اس وقت ملک کو درپیش سب سے بڑا بحران توانائی کا ہے جس کے لئے حکمت عملی طے کر لی ہے۔ انہوں نے کہا وہ ایک صوبے یا جماعت کے نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں غوام کو متحد رکھنا ان کا اولین فرض ہے۔

طائف (ممتاز احمد بڈانی+آئی این پی )وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اتوار کی رات رحمت اللعالمین حضور نبی پاک کے روضہ اقدس پر حاضری دی۔ وزیراعظم جدہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو ہوائی اڈے پر گورنر مدینہ منورہ اور اعلی سعودی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ ہوائی اڈے سے سیدھے روضہ رسول پر پہنچے۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ نے روضہ رسول پر ملکی سلامتی‘ ترقی و خوشحالی اور ملک کو دہشت گردی سمیت دیگر مسائل سے نجات دلانے کیلئے گڑگڑا کر اشکبار آنکھوں سے دعائیں کیں۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ نے 27 ویں رمضان المبارک شب قدر روضہ رسول پر عبادات میں گزاری۔ وزیراعظم کے ہمراہ انکی والدہ شمیم اختر‘ اہلیہ کلثوم نواز اور سمدھی اسحاق ڈار‘ بیٹے حسین نواز کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد سعودی عرب کے نجی دورے پر ہیں۔ اس دورے کے تمام اخراجات وزیراعظم نے خود برداشت کئے ہیں اور وہ سپیشل جہاز میں آنے کی بجائے پی آئی اے کی کمرشل پرواز سے سعودی عرب آئے۔ وزیراعظم کی طرف سے اس دورے میں سادگی اور کفایت شعاری کی نئی روایات قائم کرنے پر سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے گہری خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سراہا۔ مسجد نبوی میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے پاکستانیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں نے وزیراعظم نوازشریف سے اپنی گہری محبت اور وابستگی کا اظہار کیا جس پر وزیراعظم ہاتھ ملاکر ان کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ سعودی سکیورٹی حکام نے وزیراعظم کی آمد کی وجہ سے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کررکھے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف اور انکے اہل خانہ دو تین روز تک مدینہ منورہ میں قیام کرینگے اور انکی 6 یا 7 اگست کو پاکستان واپسی متوقع ہے۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران وزیراعظم نوازشریف مقیم پاکستانیوں سے بھی ملاقات کرینگے۔ سعودی عرب میں آج 27ویں شب کے حوالے سے حرمین شریفین اور مسجد نبوی میں تمام انتظامات کئے گئے تھے۔ 20 لاکھ سے زائد فرزندان اسلام نے حرم شریف میں عبادت کی اور دعائیں مانگیں۔ وزیراعظم نواز شریف لیلة القدر مدینہ منورہ مسجد نبوی میں گزارنے کے لئے جدہ سے خصوصی طور پر گئے۔ زائرین کی سہولت کے لئے حرم شریف کے تمام دروازے کھول دیئے گئے۔
نوازشریف