بارشوں‘ سیلاب سے تباہ کاریاں جاری‘ ہلاکتیں 100 ہو گئیں‘ ڈی جی خان‘ راجن پور میں ایمرجنسی نافذ‘ کراچی بدستور پانی میں ڈوبا رہا

بارشوں‘ سیلاب سے تباہ کاریاں جاری‘ ہلاکتیں 100 ہو گئیں‘ ڈی جی خان‘ راجن پور میں ایمرجنسی نافذ‘ کراچی بدستور پانی میں ڈوبا رہا

کراچی/کوئٹہ/پشاور(کرائم رپورٹر+ بیورو رپورٹ+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں ) کراچی، بلوچستان سمیت ملک بھر میں بارشوں، سیلاب سے تباہ کاریاںجاری ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد 100 ہوگئی ہے۔ دوسرے روز بھی کراچی بدستور پانی میں ڈوبا رہا، ڈی جی خان، راجن پور میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک معطل ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور سیلاب کے باعث شاہراہ قراقرم چلاس کے مقام پر بند ہوگئی اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔کراچی سے کرائم رپورٹر کے مطابق کراچی میں بارش کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے کئی علاقوں میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی روڈ بھی زیر آب ہوگیا جبکہ کرنٹ لگنے چھتیں اور دیواریں گرنے اور برساتی ندی نالوں میں ڈوبنے سے کمسن بچی سمیت مزید 13افراد ہلاک ہوگئے اور دو روز کے دوران مرنے والوں کی تعداد 33تک پہنچ گئی۔ گڈاپ سے آنے والا ریلا ہفتہ کو رات گئے سعدی ٹاﺅن اور امروہہ سوسائٹی میں داخل ہوا اور گھروں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہوجانے کے سبب لوگ چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے جبکہ قیمتی سامان تباہ وبرباد ہوگیا ان علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لئے پاک بحریہ کے جوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ منگھو پیر کے علاقے کنواری کالونی میں دو سگے بھائیوں سمیت تین بچے برساتی نالوں میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔ پاپوشنگر میں ایک 31سالہ عورت بھی نالے میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی عزیز آباد کے علاقے بھنگوریہ گوٹھ میں ایک شخص 35سالہ علی زمان کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا اسکے علاوہ گلستان جوہر میں 40سالہ عثمان ، بفر زون کے علاقے بنگالی پاڑہ میں 26سالہ اشرف اور لیاری میں سومارو سٹاپ کے پاس ایک 35سالہ شخص بھی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے امروہہ سوسائٹی میں ایک نوجوان 25سالہ امیر علی برساتی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا ، گلستان جوہر بلاک 9میں مکان کی چھت گرنے سے ایک عورت 35سالہ خیر النساءاور بچہ 12سالہ کاشف ملبے تلے دب کر ہلاک ہوگئے ، سرجانی ٹاﺅن میں کمسن بچہ 5سالہ کاشان ولد عمران برساتی نالے میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔ جبکہ کراچی میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوجی دستوں نے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق فوجی دستوں نے سعدی ٹاﺅن‘ صفورا اور ملحقہ علاقوں میں تین سو سے زائد افراد کو ریسکیو کیا اور امدادی کاموں کے دوران کشتیوں اور پانی نکالنے کی مشینوں( ڈی واٹرنگ پمپس) کا استعمال کیا گیا۔ بارش اور سیلاب کے متاثرین میں اشیاءخورد نوش بھی تقسیم کی گئیں جبکہ امدادی کارروائیوں کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی گئی۔ نامہ نگاران کے مطابق اندرون سندھ طوفان بارشوں نے تباہی مچادی‘ سیکڑوںدیہات زیر آب آگئے۔ کئی شہروں کا زمینی راستہ ایک دوسرے سے کٹ گیا۔ مختلف حادثات میں ایک شخص ہلاک اور20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ٹھٹھہ میں تیز بارش کے باعث 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے جبکہ ماہی گیروں نے اپنی کشتیاں ساحل سمندر پر کھڑی کردیں اور مچھلی کا شکار بند کردیا۔کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے اکثراضلاع میں اتوار کو بھی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ جھل مگسی کے مقام پردریائے مولا میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ جاری کردی گئی ہے آبپاشی حکام کے مطابق سیلابی صورتحال کے پیش نظر پٹ فیڈر کینال کو عارضی طور پر دریائے سندھ سے پانی کی سپلائی معطل کردی گئی ہے تربت میں ریلے میںبہہ کر3 خواتین جاں بحق ہوگئیں، بلوچستان میں چوبیس گھنٹوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد10 ہوگئی۔ این این آئی کے مطابق جیکب آباد کی یونین کونسل قادر پور سے گزرنے والے بیگاری کینال کو 150 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے باعث یونین کونسل قادر پور کے قصبہ فرید بلیدی، ابراہیم گولو، کرم مغیری، مولا بخش کھوسو سمیت 10 گاﺅں پانی میں ڈوب گئے ہیں اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی چاول کی فصل بھی پانی کی لپیٹ میں آگئی، سینکڑوں گھروں کے منہدم ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔ آن لائن کے مطابق خیبر پی کے فاٹا کے مختلف علاقوں میں شدید سیلاب کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 18 ہوگئی۔ کراچی تاحال پانی میں ڈوبا ہوا ہے، پانی نے شاہراہ فیصل اور ائرپورٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، سعدی ٹاﺅن میں لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور جبکہ ٹرپ ہونے والے 225 فیڈرز سے 100 فیصڈ تاحال ٹھیک نہیں ہوسکے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں نوڈیرو کے قریب رائس کینال میں چار بچیاں ڈوب گئیں نجی ٹی وی کے مطابق ڈوبنے والی دو بچیوں کو بچا لیا گیا۔ خضدار میں سونے جی کے مقام پر دو بچے بارش کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ نوائے وقت نیوز، ایجنسیوں کے مطابق کراچی میں بارش سے متاثرہ گھروں کو چھوڑ کر جانے والوں کی عدم موجودگی میں جرائم پیشہ عناصر نے گھروں میں گھس کر لوٹ مار کی، راجن پور میں ریلے سے دو یونین کونسلیں زیر آب آگئیں، جس کے بعد زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں برساتی ریلے نے تباہی مچادی، ہارون آباد کالونی میں 6 فٹ پانی جمع ہو گیا جس سے 60 سے زائد کچے مکانات پانی میں بہہ گئے، کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں بھی بارش جاری ہے، پہاڑوں سے اترنے والے پانی نے ریلوں کی شکل اختیار کرلی ہے جس نے راجن پور اور جام پور میں دھاوا بولا تو چاروں طرف تباہی مچ گئی، محکمہ موسمیات نے سندھ، قلات، سبی، مکران، لاہور ڈویژنوں، مالاکنڈ، ہزارہ، گوجرانوالہ ڈویژنوں اور کشمیر میں بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اتوار کو کراچی کے علاقے سعدی ٹاون، امروہہ سوسائٹی اور اطراف کے علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ پانی گھروں میں داخل ہوگیا، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے جبکہ ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کراسنگ کا راستہ بند ہو گیا۔ بارش کے باعث اب تک کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 28 ہو گئی ہے، بارش کے باعث کراچی کے بیشتر علاقے جن میں، سعدی ٹاو¿ن، امروہہ سوسائٹی، صفورہ گوٹھ، گلشن معمار، بھٹائی آباد، گلستان جوہر، ملیر اور لیاری ندی سے ملحقہ علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا جس سے وہاں پر موجود لوگ پھنس گئے۔ جنھیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے آرمی، نیوی، محکمہ بلدیات اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، بارش کی وجہ سے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔ گزشتہ روز بارش کا پانی بھٹائی آباد کی جانب سے ائیر پورٹ کے احاطے میں داخل ہو گیا، رن وے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ شاہراہ فیصل پر بھی پانی جمع ہو گیا ہے۔ کراچی کے علاقے سعدی ٹاون میں رات گئے آنے والے ریلے کا پانی تاحال نہیں نکالا جا سکا، سعدی ٹاون میں بعض مقامات پر گھروں کی پہلی منزل تک پانی میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ 6 فٹ تک پانی علاقے میں بہہ رہا ہے۔ کراچی میں ٹرپ کرنے والے دو سو پچیس فیڈرز میں سے ایک سو سے زائد فیڈرز کی بجلی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ بجلی نہ ہونے سے شہریوں کی بڑی تعداد نے افطاری کے بعد سحری بھی اندھیرے میں کی۔ منگھو پیر میں تین بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ صوبہ بلوچستان کے اضلاع نصیر آباد، جھل مگسی اور دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ ریلے کی باعث متعدد کچے مکانات تباہ جبکہ بڑے پیمانے پر کھڑی فصلیں پانی میں بہہ گئیں۔ حب کے علاقے میں بارش کے باعث فیکٹری کی دیوار گرنے کے نتیجہ میں 6بچے جاں بحق جبکہ 4افراد زخمی ہوگئے۔ ضلع جھل مگسی میں 27دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ لورالائی کے علاقے میں درجنوں کچے مکانات پانی کی نذر ہوگئے اور 2افراد بھی جاں بحق ہوگئے۔ پی ڈی اے کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں کنٹرول قائم کر دیا گیا ہے اور نصیر آباد کے علاقے میں ایک ہزار ٹینٹ، 5کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھیج دیا گیا ہے جبکہ ضلع لورا لائی، سبی اور جھل مگسی کیلئے بھی اشیائے ضروریات روانہ کر دی گئی ہیں۔ خضدار میں بارش سے دیوار اور چھت گرنے سے 3 بچے اور ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، تربیلا، تونسہ، گڈو کے مقام پر نچلے جبکہ چشمہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ مشرقی بلوچستان کے پہاڑی ندی نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ ٹھٹھہ میں بارش کے باعث 40 دیہات زیر آب آ گئے ہیں جبکہ ٹانک میں سیلابی ریلے کے باعث رابطہ پل بہہ گیا جس سے 40 دیہات کا دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ پاک فوج نے وہاں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ کندھ کوٹ میں توج نہر میں شگاف پڑنے سے زرعی اراضی زیر آب آ گئی ہے اور سینکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان کے نالہ لونی میں طغیانی سے گولاچی کے متعدد علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ تربت میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی تین خواتین کی نعشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ دو بدستور لاپتہ ہیں۔ کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا گلستان جوہر بلاک نمبر 9 میں پی آئی بی سوسائٹی میں مکان کی چھت گرنے سے ماں بیٹا اور بیٹی جاں بحق ہو گئے۔ عزیز آباد میں یونائٹیڈ گراﺅنڈ میں بجلی کے تار ٹوٹ کر گر گئے اور کرنٹ پھیل گیا جس کے نتیجہ میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ ماڑی پور مچھر کالونی نالہ سٹاپ کے قریب ایک شخص کی پانی میں ڈوبی ہوئی نعش برآمد ہوئی بفرزون بنگالی پاڑہ کے علاقہ میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ سعدی ٹاﺅن کے علاقہ میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں سے بہہ کر ڈیرہ اسماعیل خان کے لوئی برساتی نالے میں آنے والے ریلے نے تحصیل کلاچی میں تباہی مچا دی۔ کمشنر ڈی جی خان چودھری محمد امین نے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر کے تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں جبکہ تونسہ میں متاثرین سیلاب کے لئے 15 ریلیف کیمپ قائم کر دیئے گئے ہیں جبکہ راجن پور میں درہ، کاھا اور درہ چھاچھڑ ندیوں میں کوہ سلیمان سے آنے والے ریلے کا بہاﺅ بتدریج کم ہو رہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان میں لونی برساتی نالے سے بہنے والے ریلے نے تباہی مچا دی، 60 سے زائد کچے مکانات پانی میں بہہ گئے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں دریائے مونسہ میں سیلاب کی سطح دوبارہ بلند ہوگئی جبکہ تربت میں پانی میں ڈوب کر تین خواتین جاں بحق ہوگئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سیلاب گنداواہ شہر میں داخل ہوگیا۔ ڈی سی جھل مگسی طارق الرحمان کے مطابق قریبی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔ چمن کے علاقے توبہ اچکزئی میں موسلا دھار بارش سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ بارش کے باعث درخت گر گئے۔ چار گاڑیاں اور متعدد بہہ گئیں۔ حب میں ٹھور ندی کے پل کے قریب سڑک کا کچھ حصہ ریلے میں بہہ گیا۔ مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک معطل ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ جبکہ سیلاب سے شاہراہ قراقرم چلاس کے مقام پر بند ہوگئی اور زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سیلابی ریلے کا پانی ڈپٹی کمشنر ہاﺅس میں داخل ہوگیا۔
لاہور/ فیروزوالہ (نیوز رپورٹر+ خبرنگار + خصوصی نامہ نگار+ نامہ نگار) محکمہ آبپاشی پنجاب نے صوبے بھر میں دریا کے بند اور پشتوں کی مانیٹرنگ مکمل کرلی ہے جس کے تحت صوبے کے تمام دریاﺅں پر بند اور پشتے مکمل محفوظ ہیں۔ لاہور میں سگیاں، شاہدرہ، موٹر وے اور جی ٹی روڈ پرانا راوی روڈ پل میں تمام فلڈ پروٹیکشن بند اور پشتے محفوظ ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ آبپاشی کے ترجمان نے بتایا لاہور میں راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ہے آج پانی کی سطح مزید کم ہو جائیگی جس کے باعث کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔ انہوں نے بتایا صوبے بھر میں تمام تنصیبات مکمل محفوظ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا لاہور میں شاہدرہ اور موٹر وے کے درمیان بہت زیادہ لوگوں نے دریا کی بیلٹ میں آبپاشی شروع کر رکھی ہے جو غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا یہ تاثر درست نہیں ہے کہ لاہور میں راوی میں کوئی سیلاب کا خطرہ ہے لاہور اور اس کے مضافات راوی کے سیلاب سے محفوظ ہیں کیونکہ تمام جگہوں پر بند اور پشتے مکمل محفوظ ہیں محکمہ آبپاشی کی تمام ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ لاہور سے خبرنگار کے مطابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر لاہور نسیم صادق نے دریائے راوی میں پانی کے بہاﺅ میں تیزی آنے پر دریائے راوی کے کنارے پر موجود خانہ بدوشوں کو علاقہ فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے اور ریسکیو اداروں، سول ڈیفنس کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ڈی سی او لاہور نسیم صادق نے کہا کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ پوری طرح تیار ہے۔ فیروز والا سے نامہ نگار کے مطابق نالہ بھیڑ میں طغیانی آنے سے کالا خطائی ریلوے سٹیشن کے قریب پانی ریلوے لائن کے اوپر سے گزر رہا ہے جس کے باعث نارووال سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں نالے کا پانی حمزہ فلور ملز کے قریب سے باہر نکل آیا جس سے وسیع پیمانے کھڑی فصل پانی میں ڈوب گئی۔ برساتی نالے کا پانی مردانہ، چکرالی اور دیگر دیہات میں داخل ہوگیا جس سے فصل کو شدید نقصان پہنچا۔ سمبڑیال سے نامہ نگار کے مطابق برساتی نالہ ایک کے پانی میں ڈوبنے سے 11 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ این این آئی کے مطابق سیالکوٹ کی تحصیل پسرور اور ضلع نارووال میں نالہ ڈیک کی طغیانی میں کمی آنے سے سڑکیں اور ریلوے ٹریک کھول دیئے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفس نارووال کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پانی کے بہاﺅ میں کمی آگئی جس کے بعد پسرور نارووال روڈ اور ریلوے ٹریک ٹریفک کے لئے کھول دیئے گئے۔ پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) محمد آصف نے جام پور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا وزیر اعلی کی ہدایت پر سیلاب کے پانی سے مرنے والوں کے لئے پانچ پانچ لاکھ فی کس مالی امداد ان کے لواحقین کو دی جائے گی۔ اسی طرح جن سیلاب متاثرین کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں حکومت انہیں بیج اور کھاد مفت مہیا کرے گی جبکہ زرعی زمین، گھروں، سڑکوں اور دیگر مقامات کو پانی سے پہنچنے والے نقصانات کے سروے کے لئے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا آرمی کے دو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پانی میں گھرے افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے جبکہ متاثرین کو شیلٹر دینے کے لئے خیموں کی بستیاں قائم کر دی گئی ہیں اور محکمہ صحت کا عملہ انہیں کسی بھی متعدی امراض سے بچاﺅ کے لئے ٹیکے لگا رہا ہے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق نالہ ڈیک میں تتلے اور ہلووال کے مقام پر 2 شگاف پڑ گئے جس کے نتیجہ میں پانی 20 دیہات میں داخل ہوگیا اور کئی ایکڑ اراضی زیر آب آگئی۔ وسیع اراضی متاثر ہونے کے ساتھ پانی گھروں میں بھی داخل ہوگیا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق سیالکوٹ کے برساتی نالہ ایک میں طغیانی کی وجہ سے تحصیل سمبڑیال میں پڑنے والا شگاف دو روز گزر جانے کے باوجود پُر نہ ہو سکا جس کی وجہ سے درجنوں دیہاتوں اور ہزاروں ایکڑ رقبہ میں پانی اب بھی بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں دیہاتیوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں میں امدادی سرگرمیاں بھی شروع نہ ہوسکی ہیں۔لاہور سے خصوصی نامہ نگار کے مطابق قائم مقام سپیکر پنجاب اسمبلی شیر علی گورچانی نے راجن پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں فاضل پور، قصب پور کے دورہ کے دوران کہا سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاءکو وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے اور مال مویشی، مکانات اور فصلوں کے نقصانات کے الزالہ کیلئے خادم اعلیٰ کارڈ کے ذریعے امداد اور کھاد و بیج بھی فراہم کیا جائے گا۔
راوی/سیلاب