سعودی عرب کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل حل کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے : شاہ محمود قریشی

ریاض (این این آئی+ آئی این پی) پاکستان اور سعودی عرب نے پاک سعودی تعلقات کو سٹریٹجک تعلقات سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ کی اپنے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی مزید تفصیل کے مطابق دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ وزیرخارجہ نے خادم الحرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات میں انہیں صدرزرداری اور وزیراعظم گیلانی کے تہنیتی پیغامات پہنچائے۔ سعودی وزیرخارجہ نے شاہ محمود قریشی کو بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں بریف کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثناءوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ریاض میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور موجودہ جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی‘ پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی صحیح سمت میں جا رہی ہے‘ جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے‘۔آج پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے‘ حکومت عدالتی فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔ سعودی عرب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات حل کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے‘ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پُرامن طور پر حل کرنے کی کوششیں کی ہیں، مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے‘ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے زیادہ اہمیت کشمیری عوام کی مرضی کو حاصل ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا ملی رشتہ ہے‘ اس میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ مضبوطی آرہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کے مطابق”سعودی عرب کے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اس لئے یہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل حل کرانے میں کافی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر سعودی عرب بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرائے‘ دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا سب سے زیادہ پاکستان کو ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم بھارت کے تمام مسائل کے حل کی خاطر جامع مذاکرات کی جلد بحالی کے حق میں ہیں تاکہ جنوب ایشیاءمیں استحکام پیدا کیا جاسکے۔ مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں‘ بھارت کو اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے بات چیت کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ سعودی گزٹ سے انٹرویو مےں شاہ محمود نے مسئلہ کشمیر کو جنوب ایشیائی خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتے ہیں دہشت گردی کو مذاکرات اور باہمی تال میل سے ختم کیا جاسکتا ہے۔اسلام آباد سنجیدگی کے ساتھ نئی دہلی سے جامع مذاکرات بحال کرنے کا متمنی ہے۔ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے جس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کشمیریوں کی مرضی کو مقدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے زیادہ اہمیت کشمیری عوام کی مرضی کو حاصل ہے‘ دہشت گردی ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا سب سے زیادہ پاکستان کو ہی کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا ہم نے بھارت کو ایک طریقہ کار سے آگاہ کیا ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے۔