اورکزئی‘ مہمند ایجنسی : جھڑپ‘ امن کمیٹی پر حملہ‘ 40 شدت پسند‘ 3 رضاکار جاں بحق

اورکزئی / سوات (ایجنسیاں + ریڈیو نیوز) اورکزئی ایجنسی مےں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں مےں کمانڈر سمیت 40شدت پسند مارے گئے، 8گرفتار کر لئے گئے، بونیر سے مالاکنڈ ایجنسی مےں داخل ہونے والے تین شدت پسند فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے ان مےں ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ مہمند ایجنسی مےں امن کمیٹی پر حملے مےں تین رضا کار جاں بحق ہوگئے، جوابی کارروائی مےں 2عسکریت پسند بھی مارے گئے، سوات مےں قومی جرگہ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر آصف زرداری اور وزیراعظم گیلانی سوات کے عوام سے معافی مانگیں، ضلع کی تباہی کی ذمہ دار حکومت ہے اور ضلع مےں عملاً مارشل لاءنافذ ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ درجنوں کی تعداد میں شدت پسندوںنے گزشتہ روز اورکزئی ایجنسی کے علاقے سید خیل کلے مےں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا، شدت پسندوں نے گرنیڈ و مارٹر گولے داغے اور مشین گنوں سے فائرنگ کی تاہم سکیورٹی فورسز جنہیں ٹینکوں اورآرٹلری کی مدد بھی حاصل تھی نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 27 کے قریب شدت پسند جاں بحق اور دس کو زخمی کر دیا۔ بعدازاں شدت پسندوں نے شنہ کڑاپہ مےں ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں ایک درجن کے قریب شدت پسند مارے گئے، جھڑپ میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار زخمی ہوا۔ فورسز نے شنہ کڑاپہ میں قائم شدت پسندوں کے مورچے پر شدید جھڑپ کے بعد قبضہ کر لیا، عسکریت پسندوں کے 4 مراکز مسمار کر دیئے۔ ذرائع کے مطابق 40 شدت پسندوں کی لاشیں سڑک پر پڑی تھیں جنہیں ان کے ساتھی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ قوم وزیر اور مقامی قبائل سے تعلق رکھنے والے فرنیٹئر کانسٹیبلری کے 13 اہلکاروں نے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے اور سکیورٹی فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں پر ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا۔ جی این آئی کے مطابق اورکزئی ایجنسی مےں سکیورٹی فورسز کی کارروائی مےں مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد اٹھاون ہوگئی ہے۔ باڑہ مےں پانچ روز قبل ایف سی قلعے پر ہونے والے حملے مےں اہم شدت پسند کمانڈر سیفور جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی، اس کے سر کی قیمت 25لاکھ روپے مقرر تھی۔ پولیٹیکل ایجنٹ اورکزئی ریاض مسحود نے میڈیا کو بتایا کہ لوئر اورکزئی ایجنسی کے 90فیصد علاقوں پر فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس سے ہنگو اور کوہاٹ محفوظ ہو جائیں گے، اپر اورکزئی کے علاقوں غلجو اور ڈبوری مےں بہت جلد آپریشن شروع کیا جائے گا۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل لکڑو کے علاقے بخمل شاہ مےں شدت پسندوں نے رات گئے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا، باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند اور چہارمنگ مےں 28شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا ہے۔ مہمند ایجنسی کی تحصیل بانڈی میں شدت پسندوں نے امن کمیٹی کی بنائی گئی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جوابی کارروائی میں چار شدت پسند مارے گئے۔ سوات قومی امن جرگہ کے مشران نے مطالبہ کیا کہ فوج سوات میں صرف آپریشن تک محدود رہے۔ تعمیر و ترقی کے کام سول ایڈمنسٹریشن کے سپرد کئے جائیں۔ گرفتار ترجمان مسلم خان اور اہم کمانڈر محمود خان کو گرین چوک مینگورہ میں پھانسی پر لٹکایا جائے جبکہ سوات کے عوام کے مجرم سابق کمشنر مالاکنڈ کو کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔ دوسری جانب گرلز پرائمری سکول شاہدرہ مینگورہ میں ہینڈ گرنیڈ برآمد کر لیا گیا۔ بنوں ایف آر جانی خیل مےں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول سے بم حملہ کیا گیا۔ باڑہ کمر خیل مےں سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ کے بعد شدت پسند فرار ہونے مےں کامیاب ہوگئے۔ گولہ گرنے سے شدت پسند کمانڈر کا گھر تباہ ہوگیا۔