ملا برادر پشاور منتقل‘ افغان طالبان کمانڈرز نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

ملا برادر پشاور منتقل‘ افغان طالبان کمانڈرز نے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا

اسلام آباد / پشاور (رائٹرز) افغان طالبان کمانڈرز نے پشاور میں اپنے سابق چیف ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ ملا برادر کے ساتھ پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی ہے۔ اس انکار سے افغان امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے‘ یہ بات یہاں سکیورٹی اور عسکریت پسندوں کے ذرائع نے بتائی‘ افغانستان اور امریکہ کو یقین ہے کہ ملا برادر افغانستان میں جنگ روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ طالبان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے 20 ستمبر کو ملا برادر کو رہا کر دیا تھا لیکن وہ اب بھی پاکستانی اہلکاروں کی نگرانی میں ہیں۔ ایک افغان طالبان کمانڈر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان رہنماﺅں نے ملا برادر سے ملاقات کیلئے پشاور آنے سے انکار کر دیا ہے‘ کیونکہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار ان کے ساتھ موجود رہتے ہیں۔ ملا برادر کو رہائی کے بعد کراچی میں رکھا گیا تھا جہاں سے انہیں پشاور کے ایک محفوظ مکان میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ملا برادر کس سے ملنے کے خواہشمند ہیں اور انہیں کتنا عرصہ پشاور میں رکھا جائے گا اور پاکستانی سکیورٹی عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ملا برادر امن عمل پر ابتدائی بات چیت کیلئے پشاور میں ہیں۔ ایک طالبان عہدیدار نے کہا کہ ملا برادر آزاد نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ ان سے ملتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور طالبان عہدیدار کا کہنا ہے کہ ملا برادر کو ترکی یا سعودی عرب منتقل کر دیا جائے جہاں طالبان حج کیلئے ایک گروپ بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔