سکائپ‘ وائبر‘ ٹینگو‘ واٹس اپ‘ سندھ میں انٹرنیٹ رابطوں پر پابندی کا فیصلہ‘ حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں آج سے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان

سکائپ‘ وائبر‘ ٹینگو‘ واٹس اپ‘ سندھ میں انٹرنیٹ رابطوں پر پابندی کا فیصلہ‘ حیدرآباد سمیت کئی شہروں میں آج سے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان

کراچی + اسلام آباد (سالک مجید + نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) سندھ حکومت نے 3 ماہ کے لئے سکائپ، وائبر، ٹینگو اور واٹس اپ انٹرنیٹ رابطوں پر پابندی کا فیصلہ کر لیا اور اس کے لئے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ حکومت نے اسلحہ ساتھ لے کر چلنے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر بھی پابندی لگا دی جبکہ آج سے حیدر آباد سمیت تمام شہروں میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان شرجیل میمن نے کیا۔ شرجیل میمن نے کہا کہ عوام کو اس فیصلے سے ہونے والی پریشانی پر معذرت خواہ ہیں مگر ہم دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑنا چاہتے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں ہتھیاروں کی نمائش پر فوری پابندی لگا دی گئی ہے، 12 اکتوبر کے بعد غیر قانونی اسلحہ کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ گھر گھر جا کر پرچیاں دے کر کھالیں جمع کرنے پر پابندی ہو گی۔ غیر قانونی سمز کی بندش کیلئے بھی وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آج سے حیدر آباد سمیت دیگر تمام شہروں میں بھی ٹارگٹڈ آپریشن شروع ہو گا تاہم کسی خاص جماعت یا گروہ کے خلاف آپریشن نہیں ہو رہا۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات کو آﺅٹ آف ٹرن پروموشن نہیں دی، شاہد حیات ایک ایماندار اور دلیر افسر ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اور رینجرز کے 3 ہزار سے زائد چھاپوں میں 745 ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں امن و امان سے متعلق اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں آئی جی سندھ پولیس‘ ڈی جی رینجرز‘ انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت امن و امان کے قیام سے متعلق اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ پولیس اور رینجرز نے اپنی اپنی رپورٹیں پیش کیں۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 1400 مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں 50 ایسے ملزمان ہیں جن پر قتل کے مقدمات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کو جرائم پیشہ عناصر استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے تین مہینے کیلئے اسکائپ وائبر وغیرہ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف بھی مہم شروع کردی ہے۔ اب پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی اسلحہ کی نمائش نہیں کرسکیں گے۔ دریں اثناءنجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے ٹیلی فونک گفتگو میں غیر قانونی سمیں منسوخ کرنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے سوشل میڈیا سکائپ، وائبر اور ٹینگو بند کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت کے بیان کا نوٹس لے لیا اور اس حوالے سے وفاق اور صوبائی حکومت میں اختلافات سامنے آ گئے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ان ایپلی کیشنز کو بند کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ذاتی طور پر ان ویب سائٹس کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ وزارت داخلہ نے موبائل فون سروس بند کرنے کی بھی مخالفت کی۔ سندھ حکومت کی تجویز آئی تو دیکھیں گے کہ اس میں کتنا وزن ہے۔ بلاجواز عوام کو تنگ نہیں کرنا چاہتے۔ دریں اثناءقائم مقام چیئرمین پی ٹی اے نے کہا ہے کہ وائبر اور سکائپ کو بند کرنے کی قانون میں کیا گنجائش ہے اس کا علم نہیں۔ ذرائع کے مطابق عوامی رابطوں کی ویب سائٹس سکائپ، وائبر اور ٹینگو بند کرنے کا اختیار نہیں۔ ذرائع پی ٹی اے کے مطابق صوبائی حکومت کے پی ٹی اے کو کسی خط لکھے جانے کا بھی علم نہیں۔