دیت کے معاملے پر 5 رکنی بنچ بنانے کا فیصلہ‘ لواحقین قاتل کو معاف کر دیں تو بھی ریاست تعزیرات نافذ کر سکتی ہے: سپریم کورٹ

دیت کے معاملے پر 5 رکنی بنچ بنانے کا فیصلہ‘ لواحقین قاتل کو معاف کر دیں تو بھی ریاست تعزیرات نافذ کر سکتی ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے دیت کے نام پر معافی کے معاملہ پر پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیئے ہیں کہ دیت کے نام پر دس دس قتل کرنے والوں کو معافی مل جاتی ہے اور وہ آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ اسلام کے رہنما اصول موجود ہیں ان پر عمل نہ ہونے سے جرائم بڑھ رہے ہیں۔ فی سبیل اللہ معافی اس لئے دی گئی تھی کہ فسادات نہ پھیلیں۔ اصول انتہائی سنہرے ہیں لیکن لگتا ہے بااثر ان کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ پیسے والے قتل کرتے ہیں لیکن اس کے بعد فی سبیل اللہ کے نام پر چھوٹ جاتے ہیں لوگوں کو مجبور کر کے اللہ کے نام پر معافی دلوائی جا رہی ہے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ پہلے ٹرائل کے دوران گواہ خریدے جاتے تھے اب اسلامی اصولوں کو ڈھال بنایا جاتا ہے لواحقین کو معافی کا حق ہے لیکن ریاست تعزیرات نافذ کر سکتی ہے۔ قصاص کی چھوٹ ورثا اپنی حد تک دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے منڈی بہاﺅالدین کے محمد عارف قتل کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیت کے نام پر معافی کے معاملہ پر پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جائے گا، کیس اہم ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل منیر اے ملک، عدالتی معاون شاہد حامد اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے اپنی معروضات عدالت میں پیش کر دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شریعت کے اصولوں کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیسے والے کے لئے قتل کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ معافی مانگے بغیر ہی قاتل کو معافی مل جاتی ہے قرآن و سنت کے اصولوں سے فائدہ لینا چاہئے ان کا غلط استعمال روکنا چاہئے۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ پہلے گواہ بکتے تھے اب اسلامی اصولوں کو ڈھال بنایا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی اصولوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے جرائم بڑھ رہے ہیں۔ یہ رعایت زمین پر فساد روکنے کے لئے دی گئی اب امیر پیسے دے کر قتل کر کے مقدمہ سے بچ جاتے ہیں، فی سبیل اللہ معافی پر واضح م¶قف اختیار کرنا ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ وہ تمام قانونی نکات کا جائزہ لے کر اور عدالتی معاونین کو سننے کے بعد کمپرومائز کی بنیاد پر جو ملزمان بری کر دیئے جاتے ہیں اس حوالہ سے رہنما فیصلہ جاری کرے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فساد فی الارض کو روکنے کیلئے پارلیمنٹ کو قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق کرنا ہو گی‘ قتل کرنے والے کو ورثاءکی جانب سے معافی کے باوجود معافی دینا فساد فی الارض کے زمرے میں آئے گا‘ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دئیے کہ حدود وہی ہو گی جہاں ثبوت ہو گا‘ قصاص کی چھوٹ ورثاءصرف اپنی حد تک دے سکتے ہیں‘ عدالت کو ملزم کو سزا دینے سے نہیں روک سکتے۔ شاہد حامد کا کہنا تھا کہ جرم ثابت ہو جائے اور سمجھوتہ بھی ہوجائے تب بھی قاتل کو دس سے پندرہ سال کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی سخت سزا کی بات کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قصاص فساد فی الارض کو روکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہو گا کہ قصاص کن شرائط اور صورتوں کیساتھ ہوا ہے۔ کیا یہ اسلامی تعلیمات کے منافی تو نہیں ہے کیونکہ شریعت نے اس بارے میں بڑے ہی سنہری اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے باہر نہیں جا سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیت اور قصاص کی واضح تعریف ہونی چاہئے۔ اصل مسئلہ غریب لوگوں کا ہے کہ جن کے لوگ قتل ہو جاتے ہیں مگر وہ بیچارے اپنے بچوں کے قاتل کو معاف کرنے کے سوا کچھ نہیں کرپاتے۔ امیر معافی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ہم اس پر جامع فیصلہ دینا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ ہر قصوروار کو شریعت کے مطابق سزا دی جاسکے اور مقتول کے ورثا کی بھی حق تلفی کا مداوا ہوسکے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 10 روز کیلئے ملتوی کر دی۔ اس دوران عدالت نے اٹارنی جنرل سمیت چاروں ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس بھی جاری کر دیئے۔