دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ انسداد دہشت گردی قوانین میں خامیاں دور کی جائیں: وزیراعظم

دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں‘ انسداد دہشت گردی قوانین میں خامیاں دور کی جائیں: وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف نے انسداد دہشت گردی کے قانون میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث افراد کو سزا دلائی جا سکے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی جس میں انسداد دہشت گردی کے لئے قانون سازی کے بارے میں بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں کوئی سقم یا خامی نہیں ہونی چاہئے تاکہ دہشت گرد مذموم جرائم کر کے نکل نہ سکیں۔ ہمیں شفاف اور سخت قوانین کی ضرورت ہے۔ قوانین میں ترامیم کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو سزا دلانے کے لئے موجودہ قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے دہشت گردی کے خلاف قوانین میں ترامیم کو فوری حتمی شکل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ حکومت انسداد دہشت گردی قوانین میں خامیاں دور کرنا چاہتی ہیں موجودہ اور نئی قانون سازی سے دہشت گردوں کو فائدہ نہیں ملنا چاہئے، دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے قابل بھروسہ اور قابل گرفت قوانین ضروری ہیں، موجودہ ترمیم کے بعد قوانین میں ایسی خامیاں نہ چھوڑی جائیں جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھا سکیں۔ انسداد دہشت گردی قوانین میں خامی برداشت نہیں کریں گے، ایسی خامی سے دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سزاو¿ں کو مو¿ثر بنانے کے لئے قانون میں ضروری ترامیم فوری کرنا ہوں گی اور ترامیم کے بعد منظوری کے لئے قوانین کو فوری پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ حکومت انسداد دہشت گردی قوانین میں خامیاں دور کرنا چاہتی ہے۔ دہشت گردوں کو فائدہ نہیں ملنا چاہئے۔ ترمیم کے بعد قوانین میں ایسی خامیاں نہ چھوڑی جائیں جس سے دہشت گرد فائدہ اٹھا سکیں۔ ترامیم کے بعد منظوری کے لئے قوانین کو فوری پارلیمنٹ میں لایاجائے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سخت اور شفاف قانون چاہئے۔ انسداد دہشت گردی قوانین میں سقم برداشت نہیں کریں گے، دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے قابل بھروسہ اور قابل گرفت قوانین ہونے چاہئیں۔ ترجمان وزیراعظم ہاو¿س کے مطابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین میں ترامیم کے امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر اطلاعات پرویزرشید، زاہد حامد و دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے خیرپور میں واقع لطیف گیس فیلڈ کا افتتاح کیا ہے جس سے یومیہ 360 ملین کیوبک فٹ گیس سسٹم میں شامل ہو گئی ہے۔ وزیراعظم ہاو¿س میں لطیف گیس فیلڈ خیرپور کی افتتاحی تقریب ہوئی۔ لطیف گیس فیلڈ میں آسٹریلیا کی کمپنی او ایم وی بھی شراکت دار ہے، وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لطیف گیس فیلڈ کا افتتاح میرے لئے باعث افتخار ہے، گیس فیلڈ منصوبے سے توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے میں مدد ملے گی، اس سے ملنے والی گیس سے اربوں روپے کا زرمبادلہ بچے گا، نئی پٹرولیم پالیسی سے نیا دور شروع ہو گا۔ لطیف گیس فیلڈ 2007ءمیں دریافت ہوئی تھی اور اس سے حاصل ہونے والی گیس نیشنل گرڈ سٹیشن کا 3 فیصد ہے، گیس فیلڈ کو 50 کلومیٹر لمبی پائپ لائن کے ذریعے سواں پراسیسنگ پلانٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ میں 70 فیصد حصہ پاکستان کا ہے۔ لطیف گیس فیلڈ سے پیداوار شروع ہونے سے گیس کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی اربوں روپے کے زرمبادلہ کی بچت ہو گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی جس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے مرتب ہونے والے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کر کے حکومت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے‘ گھریلو صارفین کو 167 ارب روپے کی سالانہ سبسڈی دے رہے ہیں۔ 67 فیصد گھریلو صارفین 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں جو اس اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حکومت کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر بوجھ نہیں ڈالے گی۔ وزیراعظم نوازشریف نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بجلی کے کم یونٹ استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پربوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ حکومت پہلے ہی غریب صارفین کیلئے 176 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ دوسو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے نئے نرخوں سے استثنیٰ حاصل رہے گا۔ انہوں نے اقتصادی اور توانائی کی صورتحال اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان برطانیہ کو قریبی دوست اور حقیقی ترقیاتی شراکت دار سمجھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی سینئر وزیر مملکت برائے امور خارجہ اور دفتر دولت مشترکہ سعیدہ وارثی سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبو د کے لئے سعیدہ وارثی کی کوششوںکو سراہا۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کے فوری بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا دورہ پاکستان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا عکاس ہے۔ سعیدہ وارثی نے وزیراعظم کو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان وسیع سٹرٹیجک مذاکرات میں پیش رفت، تجارتی سرمایہ کاری روڈ اور پاکستان میں برطانیہ کے عالمی ادارہ ترقی کی جانب سے شروع کئے گئے مختلف منصوبوں کے بارے میں بتایا۔ وزیراعظم نے برطانیہ میں مسلمانوں کے کاز اور پاکستانی برادری کے تعلقات مضبوط بنانے کے اقدامات کے حوالے سے بیرونس سعیدہ وارثی کی کوششوں اور کردار کو سراہا۔ پاکستان برطانیہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے عام انتخابات کے بعد پہلے سربراہ حکومت کی حیثیت سے دورہ پاکستان سے خصوصی روابط کی عکاسی ہوتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر مربوط سوچ موجود ہے۔ بیرونس سعیدہ وارثی نے وزیراعظم نوازشریف کو پاکستان برطانیہ وسیع تر مکالمے، تجارت، سرمایہ کاری روڈ میپ اور پاکستان میں مختلف منصوبہ جات کیلئے برطانوی محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کی فراہم کردہ معاونت پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے افغان صدر حامد کرزئی کو ٹیلی فون کیا اور ان سے پاکستان افغان تعلقات اور خطے میں قیام کے لئے تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان، افغانستان کے استحکام اور ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ دونوں رہنما¶ں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔