تلخ فیصلوں کا وقت آ گیا‘ مہنگی بجلی کی کڑوی گولی نگلنا پڑیگی: پرویز رشید

تلخ فیصلوں کا وقت آ گیا‘ مہنگی بجلی کی کڑوی گولی نگلنا پڑیگی: پرویز رشید

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + اے این این) وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر ہمارے ووٹرز دکھی ہیں مگر انہیں یہ کڑوی گولی نگلنا ہو گی، اب غریب کے خون پسینے پر امیروں کے بیڈ رومز میں اے سی نہیں چلیں گے ،ڈنگ ٹپاﺅ یا چل چلاﺅ پالیسی کے حق میں ہیں نہ نوٹ چھاپ کر ملک چلائیں گے، تلخ فیصلوں کا وقت آ گیا، بجلی کی قلت دور کرنے کے لئے پرامید ہیں سبسڈی کلچر کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ آٹھ کروڑ عوام کے لئے بجلی کی قیمت نہیں بڑھائی، 90ءکی دہائی میں آئی پی پیز کے ریٹس کم نہ کرتے تو آج گردشی قرضہ ایک کھرب ہوتا، خسارے کی معیشت ورثے میں ملی، سستی بجلی پیدا کرنے میں مزید آٹھ، نو سال لگیں گے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ شوق نہیں مجبوری سے کیا ہے ، اگر سبسڈی کا نظام جاری رکھیں تو پھر 600 ارب روپے کا سالانہ گردشی قرضہ چڑھ جائے گا۔ وقت آگیا ہے کہ اس گردشی قرضے سے نجات حاصل کی جائے، اگر ہم 1990ءکی دہائی میں آئی پی پیز کے ریٹ کم نہ کراتے تو یہ گردشی قرضہ ہزار ارب روپے سالانہ ہو جاتا، ہم نے تب بھی ان منصوبوں کیخلاف آواز بلند کی تھی جو بے نظیر دور میں شروع کئے گئے تھے۔ دوسرا طریقہ نوٹ چھاپ کر معیشت چلانے کا ہے لیکن اس سے افراط زر اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے، ہم آخر کب تک نوٹ چھاپ کر معیشت چلائیں گے۔ ہم نے طویل مشاورت، غور و خوض اور بحث کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، عوام کو اچھے مستقبل کے لئے یہ کڑوی گولی نگلنا ہو گی، ہمیں قیمتیں بڑھانے پر خوشی نہیں لیکن کیا کیا جائے معیشت خسارے میں ہے، ہمیں عوام کی مشکلات کا علم ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں ووٹ دیئے ہیں اور ہمیں اقتدار تک پہنچایا ہے، قیمتیں بڑھنے سے ہمارے ووٹرز ناراض ہوں گے لیکن ہم نے سبسڈی کے نظام سے مستقل نظام چھڑانا ہے۔ ایئرکنڈیشنر چلانے والوں کے بل غریب عوام نہیں دے سکتے، اب غریب کے پیسے پر امیروں کی روشنیاں جلیں گی اور نہ ہی ان کے کتے بلیاں پلیں گے، یہ بات باعث افسوس ہے کہ امراءکی رہائش گاہوں میں کتوں اور بلیوں کے لئے بھی الگ کمرے ہیں جن میں بلب، اے سی اور پنکھے چل رہے ہیں ، ان کی چار چار کروڑ کی پجارو گاڑیاں بھی پٹرول اور سی این جی پر سبسڈی مانگتی ہیں حالانکہ سبسڈی کا تصور صرف غریبوں کے لئے ہے۔ امیروں کے گھروں میں مصنوعی باکسوں میں جو مچھلیاں تیر رہی ہوتی ہیں وہ بجلی کی موٹر پر چل رہی ہوتی ہیں، ہم امیروں کے بچوں کو خوش کرنے کے لئے غریبوں کے بل نہیں بڑھا سکتے، سبسڈی ختم کرنی ہے تو صرف امیر پر ختم کرنی ہے، غریبوں کو اب بھی ہم 126 ارب روپے کی سبسڈی دینگے جو مہینے میں صرف 200 یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کی تعداد 8 کروڑ ہے جو آبادی کا 42 فیصد ہے۔ مہلک مرض سے بچانے کے لئے مریض کو کڑوی گولی دینا پڑتی ہے جو ڈاکٹر ایسے مریض کو کڑوی گولی نہیں دیتا وہ مریض کا دوست نہیں دشمن ہے، ہم موقع پرست یا مفاد پرست نہیں کہ عوام کو وقتی خوش کردےں اور ان کو ہمیشہ کے لئے مسائل کے سمندر میں پھینک دیں، ہم چل چلاﺅ یا ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کے حق میں نہیں ہیں، تلخ فیصلوں کا وقت آ گیا ہے، ہمیں معلوم ہے کہ عوام تنقید کریں گے، ہمیں معیشت کو درست کرنا ہے ، اس فیصلے پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ صرف مسلم لیگ (ن) کو اس کا فائدہ ہے اور دوسروں کو اس کا نقصان، موجودہ حالات ہمارے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ بجلی پانی سے پیدا ہوا کرتی تھی لیکن 90ءکی دہائی میں ایک غلط فیصلے نے انرجی مکس تبدیل کیا اور آج ساٹھ فیصد بجلی ہم تیل پر پیدا کر رہے ہیں جس نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ حکومت نے متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، ہم پانی کے ذریعے سستی بجلی پیدا کرینگے، روس نے کاسا منصوبہ کے تحت بجلی فراہم کرنے کی پیش کش ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات سے متعلق سیاسی جماعتوں کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشاورت جاری ہے، چودھری نثار بھی اس سلسلے میں رابطو ں میں ہیں جو بھی قدم اٹھایا جائے گا وہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہو گا۔ بجلی چوری کے مکمل خاتمے کا میکانزم بنا لیا ہے، قیمتوں میں اضافے سے قبل بجلی چوروں کو پکڑ اور دسمبر تک ہر گرڈ سٹیشن پر سمارٹ میٹر لگا دیں گے۔ اس نظام کے تحت بجلی چوری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ڈسکوز کے نئے چیف ایگزیکٹوز لانے کی کوشش کر رہے ہیں، گیس اور بجلی چوری کے خلاف قوانین میں ترامیم کی گئیں، بجلی چوروں کے خلاف سیاسی مداخلت نہیں ہونے دی۔علماءکی جانب سے طالبان کو جنگ بندی کی اپیل کے حوالہ سے سوال پر پرویز رشید نے کہاکہ علماءحق نے جو فریضہ انجام دیا، اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ کراچی میں سیاسی جماعت کے دفتر پر چھاپہ اور بھارتی اسلحہ کی برآمدگی کے حوالہ سے سوال پر انہوں نے کہاکہ کراچی میں جو لوگ بھی پکڑے گئے، وہ انفرادی فعل ہے، اس کو پارٹی سے ملانا مناسب نہیں۔ کراچی میں آپریشن جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہورہا ہے کسی سیاسی جماعت سے اسے منسوب نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی انفرادی فعل انجام دیتا ہے تو اسے کسی جماعت سے ملانا مناسب نہیں ہوگا۔ چیئرمین نیب کی تقرری کے لئے قائد حزب اختلاف سے مشاورت جاری ہے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ادارہ خدمت ادب وادیب کی کاوش کو سراہا۔