امن کیلئے ہر قدم اٹھائیں گے‘ تعاون چاہئے: شہباز شریف‘ مثبت اقدام کی حمایت کرینگے: فضل الرحمن

امن کیلئے ہر قدم اٹھائیں گے‘ تعاون چاہئے: شہباز شریف‘ مثبت اقدام کی حمایت کرینگے: فضل الرحمن

لاہور (خصوصی رپورٹر + خصوصی نامہ نگار) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف سے جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، اہم قومی معاملات اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اے پی سی کے فیصلوں پر جلد از جلد عملدرآمد کو یقینی بنائے، تاخیر سے امن کے خلاف سازشیں ہوتی رہیں گی، جے یو آئی کے ترجمان مولانا امجد خان کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد سمیت دیگر امور زیر بحث آئے، وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت امن و امان کے قیام کے لئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے گی اور اسکے لئے ہمیںجے یو آئی کا تعاون درکار ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت کے ہر مثبت اقدام کی تائید و حمایت کریگی۔ مذاکرات سے ہی مسائل کو بہتر انداز سے حل کیا جا سکتا ہے اور اسکے لئے حکومت کو روڈ میپ وضع کرنا چاہیے تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکے۔ دریں اثنا وزیراعلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کی امداد بھرپور طریقے سے جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر امدادی اشیاءمتاثرہ علاقوں میں بھجوائی جا رہی ہیں۔ صوبائی وزرائ، ارکان اسمبلی اور سینئر افسران امدادی اشیاءکی ترسیل اور تقسیم کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ میں خود بلاناغہ اس ضمن میں رپورٹ طلب کرتا ہوں۔ پنجاب کی حکومت اور عوام نے مشکل کی گھڑی میں اپنے بلوچ بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ان کی امداد اور بحالی کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔ پنجاب حکومت نے مصیبت میں گھرے اپنے بلوچ بہن بھائیوں کی فوری امداد کیلئے وزیراعظم کے ریلیف فنڈ برائے بحالی زلزلہ متاثرین بلوچستان میں 10 کروڑ روپے جمع کرائے ہیں جبکہ پنجاب کابینہ کے ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان پنجاب اسمبلی نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ بھی وزیراعظم کے ریلیف فنڈ میں عطیہ کی ہے۔ اسی طرح میرا ہیلی کاپٹر بھی بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ وہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ زلزلے نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ مشکل کے ان حالات میں پاکستان کے عوام قومی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصیبت میں گھرے بلوچ بہن بھائیوں کی مدد کیلئے اٹھ کھڑ ے ہوئے ہیں۔ ان کی ہدایت پرصوبائی وزراءرانا ثناءاللہ اور میاں مجتبی شجاع الرحمن کی سربراہی میں دوسرا وفد رحیم یار خان پہنچا ہے جو بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے ضروری اشیاءکی تقسیم اور ترسیل کی نگرانی کرے گا اوراس سلسلے میں رحیم یار خان میں بیس کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیلئے پنجاب حکومت نے لسبیلہ میں رابطہ دفتر قائم کیا ہے۔ صاحب ثروت حضرات میری اپیل پر بڑھ چڑھ کر عطیات دے رہے ہیں۔ میری صاحب ثروت حضرات، صنعتکاروں اور تاجروں سے اپیل ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے بلوچ بہن بھائیوں کی مدد کیلئے دل کھول کر عطیات دیں۔ پنجاب حکومت عوام کے عطیات سے سوات کی طرز پر بلوچستان کے زلزلہ متاثرہ علاقے آواران میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ کابینہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر امدادی اشیاءکی ترسیل کاجائزہ لے رہی ہے، انہو ںنے کہا کہ بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور بلوچ بہن بھائیوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کریں گے۔نوائے وقت نیوز کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے خیبر پی کے میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور مخدوش صورتحال سے شہباز شریف کو آگاہ کیا جبکہ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات میں طالبان سے مذاکرات پر علماءاور فقہاءکی اپیل سے متعلق بھی بات چیت ہوئی جس میں وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات سے متعلق پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کا موقف سامنے لاچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ حیران ہیں کہ یہ طالبان کا کیسا نظام ہے جس میں ایک کلمہ گو دوسرے کلمہ گو کو مار رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت ہر صورت ملک میں امن قائم کرے گی۔ فضل الرحمن نے یقین دہانی کرائی کہ انکی جماعت حکومت کے ہر مثبت اقدام کی حمات کرے گی۔ علاوہ ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ اگر طالبان سے مذاکرات میں فاٹا جرگہ کو شامل نہیں کیا جائےگا تو اس پراسس کی مخالفت تو نہیں کرینگے البتہ اسکا حصہ نہیں بنیں گے، ہمارے مطالبے کے بعد طے کئے جانےوالے میکنزم میں اس پر بات ہو رہی ہے ‘ تمام تر کارروائیوں کے باوجود حکومت مذاکرات کےلئے پر عزم ہے جو اطمینان بخش ہے ‘ وزیر اعظم ابھی امریکہ کے راستے میں ہی تھے کہ پشاور چرچ کا واقعہ ہو گیا جس سے نواز شریف ڈرون حملوںکے حوالے سے اس قوت سے بات نہیں کر سکے جسکی ضرورت تھی ‘ مذہبی قوتیں جتنی پر امن ہیں انہیں تو نوبل انعام ملنا چاہیے ‘ وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات میں طالبان سے مذاکرات کے میکنزم سمیت دیگر امورپر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ مذہبی تنظیموں کے لوگ انتہا پسند نہیں ہیں ، اگر سات آٹھ لوگوں نے بندوق اٹھا لیںتو انہیں مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور اسکا یہ مطلب نہیں کہ انکے نام سے جہاد الاٹ ہو گیا۔ سوات میں امن معاہدے کو سبوتاژ کیا گیا ، اگر وہ لوگ آئین اور عدلیہ کو نہ مان کر بغاوت کر رہے تھے تو ان سے معاہدے پر دستخط کرنے والے کس زمرے میں آتے ہیں؟۔ اس معاہدے کا پشتو میں متن اور تھا لیکن جب اسکا اردو میں ترجمہ کیا گیا تو اسکا ترجمہ کچھ اور ہو گیا اور انگریزی میں ترجمہ بالکل ہی مختلف کیا گیا اور کہا گیا کہ ان لوگوںنے معاہدہ توڑا ہے انکے خلاف آپریشن ہوگا۔ میں نے اسی لئے کہا تھاکہ اسکی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ ہمارا پاکستان جل رہا ہے۔ حکومت تمام تر کارروائیوں کے باوجود مذاکرات کے لئے پر عزم ہے اور میر ے خیال میں ٹریک ٹو اور تھری پر کام ہو رہا ہے اور ٹریک ون کے لئے بھی باضابطہ عمل شروع ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف ایک مینڈیٹ لیکر امریکہ جارہے تھے لیکن راستے میںہی پشاور چرچ کا واقعہ ہو گیا اس لئے وہاں وزیر اعظم کے لئے یقینا مشکلات پیدا ہوئیں اور انہوں نے چند دن امریکہ میں نفسیاتی دباﺅ میں گزارے ہوں گے۔ اگر ایک معاملات طے کرنے والی لابی ہے تو اس عمل کو سبوتاژ کرنے والے بھی ہیں۔