قطر : افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات شروع : ہر ممکن مدد دینگے : پاکستان

قطر : افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات شروع : ہر ممکن مدد دینگے : پاکستان

دوحہ (رائٹر+ آن لائن) افغانستان میں مفاہمتی عمل کے تحت قیام امن کیلئے قطر میں افغان حکومت اور افغان طالبان میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق 2 روزہ علاقائی کانفرنس شروع ہوگئی ہے جس کیلئے افغان حکومتی وفد دیگر جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ طالبان کا وفد بھی پہنچا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے جاری بیان میں بھی تصدیق کی گئی ہے کہ کانفرنس میں طالبان کا 8 رکنی وفد شرکت کر رہا ہے تاہم اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ تمام فریقین اپنی ذاتی حیثیت میں مذاکرات میں شرکت کررہے ہیں۔ افغان صدارتی ترجمان اجمل عابدی کے مطابق افغان امن کونسل کا وفد طالبان کے ساتھ گفتگو میں شرکت کررہا ہے۔ افغان امن کونسل کے ارکان قطر میں گلبدین حکمت یار کی قیادت میں حزب اسلامی کے 2 نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل 2013ءمیں امریکہ کی رضامندی سے قطر میں طالبان کا دفتر بھی قائم کیا گیا تھا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ طالبان کے رہنما ملا عمر نے اس بات چیت کی منظوری دی ہے یا نہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جیف راتھک کا کہنا ہے امریکہ اس مصالحتی مذاکرات اور گزشتہ سال امریکی سارجنٹ کی رہائی کے بدلے گوانتانامو سے پانچ طالبان کی رہائی کے حوالے قطر سے مسلسل رابطے میں ہے۔ رائٹر کے مطابق طالبان نمائندوں اور افغانستان کی سیاسی شخصیات کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ قطر ان مذاکرات کی میزبانی کررہا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے حوالے سے رسمی مذاکرات کی جانب پیشرفت ہوئی ہے یا نہیں۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ یہ ٹریک ٹو ڈائیلاگ ہیں، امید ہے کہ یہ باضابطہ مذاکرات کےلئے راستہ ہموار کریگی۔ پاکستان قطر میں منعقد ہونیوالی مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ 20 ارکان پر مشتمل افغان وفد قطر میں طالبان کے ساتھ 2 روزہ مذاکرات کیلئے قطر پہنچا تا کہ طویل المدت افغان جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وہ افغانستان میں سکیورٹی، امن اور استحکام کی خاطر مفاہمتی عمل کی میزبانی کر رہے ہیں۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز ) پاکستان نے قطر میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اس لئے وہ ہمیشہ مذکورہ مذاکراتی عمل کی حمایت کرتا ہے۔ بطور سہولت کار فریقین کے درمیان مذاکرات کے لئے ہرممکن مدد فراہم کریں گے۔ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں۔ پاکستان قطر میں افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان رسمی اور غیر رسمی مفاہمتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس ضمن میں تعاون بھی کرے گا۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ خطے میں قیام امن کا دارومدار افغانستان کے حالات پر ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بہتری آئے۔ خطے میں امن کیلئے ہر ممکنہ کوششوں کیلئے تیار ہیں۔ اٹلی نے سانحہ پشاور کے الزام میںگرفتار کچھ پاکستانیوں کو رہا کردیا ہے۔ ان پر الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ اٹلی کی حکومت کو لکھا ہے کہ بغیر تصدیق اور ٹھوس شواہد کسی بھی پاکستانی کا نام میڈیا پر نہ لیا جائے۔ بھارت کی بعض شخصیات نیپالی زلزلے پر بھی پراپیگنڈا سے باز نہیں آرہیں، ہمارا مقصد صرف اور صرف ہمسائے کی مدد کرنا ہے۔ پاکستان میں تعینات نیپال کے سفیر نے بھی بھارتی پراپیگنڈا مسترد کردیا ہے۔ پاکستان نیپال کے غمزدہ بھائیوں کے دکھ میں شریک ہے۔ پرامن افغانستان خطے کے مفاد میں ہے۔ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لئے ہر قسم کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان زلزلے کے بعد نیپال میں امدادی آپریشن کرنے والا پہلا ملک ہے۔ نیپالی وزیراعظم اور نیپالی آرمی چیف نے پاکستان کی امدادی کوششوں کو خوب سراہا ہے۔ پاکستان نے نیپال میں 30 بستر پر مشتمل فیلڈ ہسپتال قائم کیا ہے، نیپال میں کل 55 امدادی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان نیپال میں مزید 20 ہزار خیمے بھیجے گا۔ وزیراعظم ریلیف فنڈ بھی قائم کیا ہے جس میں پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ نیپال میں 35 لاکھ افراد کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے اور پاکستان 20 ہزار خیمے فوری طور پر نیپال بھجوا رہا ہے، خوراک اور ادویات بھی شامل ہونگی۔ افغانستان میں امن خطے میں امن کے لئے ناگزیر ہے‘ پاکستان افغان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، مزید بہتری کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ 6 مئی کو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے، پاکستان میں نیپال کے سفیر، پاک فوج اور پاک فضائیہ کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان نے نیپال کے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امداد روانہ کی، ریلیف آپریشن میں این ڈی ایم اے اور مسلح افواج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس موقع پر نیپال کے سفیر نے پاکستان کی جانب سے زلزلہ زدگان کیلئے بھیجی جانے والی خوراک میں گائے کا گوشت شامل ہونے کی خبروں کو بھارتی میڈیا کا پراپیگنڈا قراردیتے ہوئے مسترد کردیا۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان بحالی اور تعمیرنو کے عمل میں بھی شامل ہو گا۔ پاکستان میں نیپال کے سفیر بھرت راج نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے نیپالی ہم منصب سے زلزلے کے چند منٹوں کے بعد رابطہ کیا، نیپال میں 81 سال بعد زلزلے سے اتنی تباہی ہوئی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی امدادی سامان سے متعلق افواہوں کی تردید کی۔ سیکرٹری خارجہ کے ساتھ موجود چیئرمین این ڈی ایم نے کہا کہ اب تک پاکستانی ڈاکٹروں نے 20 آپریشن کئے، 850 خیمے، 1250 فوڈ پیک ایک ہزار کمبل نیپال بھجوائے ہیں۔ وزیراعظم کی منظوری پر 20 ہزار خیمے، خوراک کی بھاری کھیپ 30 بستروں کا موبائل ہسپتال اور 38 رکنی پاک فوج کی سرچ ٹیم پہلے ہی کٹھمنڈو بھیج دی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیپالی حکومت نے پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا بے بنیاد قراردیدیا ہے۔ نیپال کے سفیر بھرت راج پٹیل نے کہا کہ پاکستانی امدادی اشیا میں ایسا کچھ شامل نہیں جو نیپالیوں کے عقائد اور ثقافت کے منافی ہو۔ پاکستانی حکومت کی امدادی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کا منفی پروپیگنڈا مسترد کرتے ہیں۔
سیکرٹری خارجہ