سعد رفیق کی کامیابی کالعدم، این اے 125 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
سعد رفیق کی کامیابی کالعدم، این اے 125   میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم

لاہور میں الیکشن ٹربیونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے انتخابی دھاندلی کی درخواستوں پرفیصلہ سنایا۔اسی صفحات پر مشتمل فیصلے میں ٹربیونل نے کہا کہ درخواست گزار دونوں حلقوں میں دھاندلی ثابت نہیں کر سکے اور نہ ہی انتخابی عملے کی ملی بھگت کو ثابت کر سکے ۔تاہم دونوں حلقوں کے سات پولنگ اسٹیشن میں دھاندلی کے شواہد ملے ہیں ۔جسکی بنیاد پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 155میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔فیصلے کے بعد  حامد خان کے وکیل نے کہا کہ ملک میں انصاف کرنے والی عدلیہ موجود ہے۔فیصلے سے تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہوئی۔

 ٹریبونل کا فیصلہ موصول ہوتے ہی  ڈی نوٹی فکیشن جاری کر دیا جائے گا، ساٹھ روز کے اندر ضمنی الیکشن ہو گا:الیکشن کمیشن

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ٹریبونل کے فیصلے کی روشنی میں این اے ایک سو پچیس کے انتخابات کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا ، تاحال الیکشن کمیشن کو ٹریبونل کا فیصلہ موصول نہیں ہوا،ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلینج کیا جا سکتا ہے، عوامی نمائندگی کے آرٹیکل دو سو چوبیس کے تحت الیکشن کمیشن ساٹھ روز میں ضمنی انتخابات کرانے کا پابند ہے-

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو پچیس سے خواجہ سعد رفیق ایک لاکھ تئیس ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے

گیارہ مئی دوہزار تیرہ کو عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے ایک سو پچیس سے پاکستان مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق ممبرقومی اسمبلی منتخب ہوئے، این اے  ایک سو پچیس میں بیس امیدوار میدان میں تھے ۔ تاہم اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان تھا، خواجہ سعد رفیق نے حلقے سے ایک لاکھ تئیس ہزار چار سو سولہ ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ حامد خان چوراسی ہزار چار سو پچانوے ووٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہے،  تحریک انصاف کے ناکام امیدوار حامد خان نے دھاندلی کے الزامات پر انتخابی عذرداری الیکشن کمیشن میں جمع کروائی،حامد خان نے الیکشن ٹربیونل لاہور کے جج کاظم علی ملک پر عدم اعتماد کا اظہارکردیا، جس پر الیکشن ٹربیونل فیصل آباد کے جج جاویدرشیدمحبوبی نے دھاندلی کیس کی سماعت کی،، اس دوران لوکل کمیشن اور نادرا نے نے ٹربیونل میں اپنی رپورٹ جمع کراوئی۔۔ تیس مارچ خواجہ سعدرفیق نے بیان رکارڈ کیا گیا، ستائیس اپریل کو الیکشن ٹربیونل کے جج جاویدرشیدمحبوبی نے این اے ایک پچیس دھاندلی کیس کا فیصلہ محفوظ کردیا ، جو چار مئی کو سنایا گیا، الیکشن ٹربیونل نے اس کیس  کی  بائیس ماہ سماعت کی ،  این  اے ایک سو پچیس ان چار حلقوں میں شامل تھا ،جنہیں عمران خان نے دھاندلی زدہ قرار دیا تھا ،الیکشن کے نتائج آنے کے فوری بعد  تحریک انصاف نے لالک چوک میں دھرنا دیا ، اوریہ دھرنا بھہتر گھنٹے مسلسل اور اس کے بعد کئی دن تک وقفے وقفے سے جاری رہا تھا، این اے ایک سو پچیس سے دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں بھی خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے ،یہ حلقہ  سابقہ این اے ستانوے اور این اے اٹھانوے کو توڑ کر بنایا گیا تھا -