رحیم یار خان : ڈاکوﺅں کا پولیس چوکی پر حملہ سات اہلکار اغواءبازیابی کیلئے آپریشن‘ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ

رحیم یار خان : ڈاکوﺅں کا پولیس چوکی پر حملہ سات اہلکار اغواءبازیابی کیلئے آپریشن‘ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ

رحیم یارخان(کرائم رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) رحیم یارخان میں کچہ کے علاقے میں واقع پولیس چوکی کیمپ ٹو پر ڈاکوﺅں نے رات گئے حملہ کرکے کیمپ میں موجود 7 پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ سمیت اغوا کرلیا جبکہ 3 اہلکاروں نے موقع سے بھاگ کر جانیں بچائیں۔ گزشتہ شب تھانہ ماچھکہ کے علاقہ میں واقع دریائی چیک پوسٹ کیمپ ٹو پر اچانک درجنوں ڈاکوﺅں نے اس وقت دھاوا بول دیا جب ڈیوٹی پر موجود اہلکار سورہے تھے۔ ڈاکو کیمپ ٹو پر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروںہیڈ کانسٹیبل ممتاز بلا، محمد علی، کانسٹیبل محمد آصف، عارف شاہ، ضیاءالرحمن، طاہرعلی، عبدالشکور کو چیک پوسٹ پر موجود سرکاری اسلحہ جس میں 12.7 گن جو بکتربند گاڑیوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے سمیت اغواءکرکے سندھ کے علاقہ کی جانب فرار ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر رات گئے ڈی پی او، ایس پی انویسٹی گیشن مستوئی بھی بھاری نفری کے ہمراہ پہنچ گئے تاہم پولیس اہلکاروں کی بازیابی کےلئے کی جانے والی کوششیں بارآور نہ ہوسکیں۔ ذرائع کے مطابق کچہ کے علاقہ میں گزشتہ کئی روز سے گھوٹکی، کشمور، راجن پور اور رحیم یارخان اضلاع کی پولیس مشترکہ آپریشن کرنے میں مصروف ہے۔ واضح رہے ایک سال قبل بھی کچہ کے علاقہ میں واقع چیک پوسٹ پر جرائم پیشہ افراد نے حملہ کرکے 9 پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا تھا جن میں سے ایک کانسٹیبل شہید ہوا تھا جبکہ باقی 8 اہلکاروں کو مطالبات پورا ہونے پر بازیاب کرایا جاسکا تھا۔ اغوا کئے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ایک روز قبل کی گئی تھی اور اغوا سے چند گھنٹے پہلے ہی دریائی چیک پوسٹ کا چارج حاصل کیا تھا۔ 7 پولیس اہلکاروں کے اغوا پر وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کو بازیاب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پولیس اہلکاروں کو بازیاب کرنے کیلئے ڈی آئی جی بہاولپور رحیم یارخان پہنچ گئے۔ وہ آپریشن کی نگرانی کریں گے، آپریشن کیلئے حساس اداروں سے بھی مدد لی جائے گیجبکہ آپریشن کیلئے 2 ہیلی کاپٹر بھی پولیس کو مہیا کردیئے گئے ہیں۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 7 مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کیلئے فضائی آپریشن شروع کردیا۔ گھوٹکی میں رونتی کے کچے کے علاقے میں ڈاکوﺅں کے ٹھکانوں پر گن شپ ہیلی کاپٹرز سے شیلنگ کی گئی۔ آپریشن ڈاکو چھوٹو باقرانی اور سلطوشر کے خلاف کیا جارہا ہے۔ نوائے وقت نیوز/ آن لائن کے مطابق پولیس چوکی پر 30سے زائد ڈاکوﺅں نے حملہ کیا۔ مسلح ڈاکو اے ایس آئی سمیت 7پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے لے گئے اور ساتھ سرکاری اسلحہ بھی لوٹ لیا۔ پولیس کے مطابق پولیس اہلکاروں کو چھوٹو گینگ، س±لتوشر اور گڈوشر کے ڈاکووں نے اغوا کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے ڈاکوو¿ں اور پولیس کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں اور علاقے میں جاری آپریشن کے لئے ضلع بھر کی پولیس کو بھی طلب کرلیا گیا ہے جبکہ یہ حملہ پولیس گھوٹکی کے علاقے میں ڈاکوو¿ں کے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ ادھر ڈاکوﺅں نے اغوا کئے گئے 7 پولیس اہلکاروں کے بدلے اپنے 7 ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق 3 ڈاکو رحیم یار خان اور 4 ڈاکو بہاولپور جیل میں قید ہیں۔ ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے ڈاکوﺅں کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا جائیگا۔ ڈاکوﺅں کے ٹھکانوں پر شیلنگ سے 5 ٹھکانے تباہ ہوچکے ہیں۔ ڈاکوﺅں کے خلاف آپریشن میں کمانڈوز سمیت 2 ہزار اہلکار شریک ہیں۔پولیس نے ڈاکوﺅں کیخلاف زمینی آپریشن کی تیاری کرلی۔ کچے کے علاقے کو پانچ اضلاع کی پولیس نے سیل کردیا۔ گھوٹکی، سکھر، خیر پور، رحیم یار خان اور کشمور پولیس آپریشن میں شریک ہے۔ ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی رہائی کی خوشخبری جلد دیں گے۔ ناکہ بندی کیلئے دریائے سندھ پر بھی پولیس چوکیاں قائم کردی گئیں۔ دو موٹر بوٹس تھانہ ماچھکا پہنچا دی گئیں۔
آپریشن/حملہ
چوکی پر حملہ