بدین : ذوالفقار مرزا کا حامیوں کیساتھ تھانے پر دھاوا‘ ڈی ایس پی سے تلخ کلامی‘ توڑ پھوڑ ساتھی زبردستی چھڑا لیا

بدین : ذوالفقار مرزا کا حامیوں کیساتھ تھانے پر دھاوا‘ ڈی ایس پی سے تلخ کلامی‘ توڑ پھوڑ ساتھی زبردستی چھڑا لیا

بدین (نوائے وقت نیوز+ آن لائن+ آئی این پی) سابق صوبائی وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی قیادت میں تاجروں اور شہریوں نے بدین میں ریلی نکالی اور قاضی واہ پل سے پولیس سٹیشن تک مارچ کیا۔ اس دوران ساتھی کی گرفتاری کی کوشش پر ذوالفقار مرزا نے بدین تھانے پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے ڈی ایس پی بدین عبدالقادر سموں سے تلخ کلامی کی اور ان کی میز کا شیشہ اور موبائل توڑ دیا۔ بعدازاں ذوالفقار مرزا کے مسلح ساتھیوں نے بازار بند کرا دئیے جس کے خلاف پیپلزپارٹی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد شہر میں کشیدگی بڑھ گئی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار مرزا نے ہدایت کی ضلع بھر سے پیپلزپارٹی کے ایم این اے اور ایم پی اے کے سائن بورڈ اتار دئیے جائیں۔ انہوں نے کہا میرے کسی ساتھی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہوگی، ملک کے دفاع کے لئے عوام گولی، لاٹھی اور پتھر سے بھی لڑیں گے۔ ذوالفقار مرزا تھانے سے ساتھی کو بھی زبردستی چھڑاکر لے گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذوالفقار مرزا کے قریبی ساتھی ندیم مغل کو گرفتار کیا گیا تھا جس پر ذوالفقار مرزا اپنے ساتھی کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے تھانے کا گھیراﺅ کیا اور ساتھیوں کے ہمراہ زبردستی تھانے کا گیٹ کھول کر تھانے میں داخل ہو گئے۔ ذوالفقار مرزا کے مسلح اور ڈنڈا بردار حامیوں نے بدین شہر کو بند کرا دیا۔ بعدازاں ذوالفقار مرزا اور ان کے حامےوں کی جانب سے پی پی رہنما و تاجر تاج ملاح اور امتےاز مےمن کی دکانےں زبردستی بند کرانے اور ان کے ملازمےن کو زخمی کرنے کے الزام مےں ماڈل تھانے بدےن پر ذوالفقار مرزا اور اس کے 21 حامےوں کے خلاف 2مقدمات درج کرلئے گئے ہےں۔ دونوں مقدمات پی پی رہنما و تاجر تاج محمد ملاح اور امتےاز مےمن نے درج کرائے ہےں۔ آئی این پی کے مطابق پولیس کے مطابق مقدمہ میں دکان میں توڑپھوڑ اور اقدام قتل کی دفعات شامل ہیں۔ ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے اپنے ساتھیوں کو تنہا نہیں چھوڑوں گا اور ان کے خلاف انتقامی کارروائی بالکل برداشت نہیں کرون گا۔ ان کا کہنا تھا ان لوگوں کا یہ قصور ہے انہوں نے حق اور سچ کا ساتھ دیا، ذوالفقار علی بھٹو کے لئے کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں اور بے نظیر بھٹو کو اپنی ماں، بیٹی اور بہن سمجھ کر ان کا ساتھ دیا لیکن باہر سے مسلط ہونے والے آصف علی زرداری نے بے نظیر بھٹو کی پارٹی کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ذوالفقار مرزا نے گرفتاری کی پیشکش کردی ، ذوالفقار مرزا کا کہنا ہے کہ ساتھیوں پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، ایس ایس پی راﺅ انوار اور ایس پی بدین کو گرفتاری نہیں دوں گا، ڈی آئی جی، ایس ایس پی حیدر آباد کو گرفتاری دے سکتا ہوں۔ بی بی سی کے مطابق ذوالفقار مرزا اپنے ساتھیوں سمیت ماڈل تھانے پہنچے اور ڈی ایس پی قادر سموں کو پاکستان پیپلز پارٹی کی ضلعی قیادت اور ایس ایس پی بدین خالد کورائی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا۔ پولیس حکام کی جانب سے مقدمہ نہ درج کرنے پر ذوالفقار مرزا کی ڈی ایس پی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور تاجروں نے ماڈل تھانے پر دھرنا دیا، جس کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سمیت 20 افراد پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ذوالفقار مرزا کی گرفتاری کا فیصلہ عارضی طور پر موخر کردیا گیا اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ذوالفقار مرزا کی بجائے صرف ان کے حامیوں کو گرفتار کیا جائے گا، ایس ایس پی آفس میں ہونے والے اجلاس میں ٹھٹھہ، بدین اور حیدر آباد کے ایس ایس پیز نے شرکت کی اور کہا گیا ذوالفقار مرزا کی گرفتاری سے ان کے سیاسی قدکاٹھ میں اضافہ ہو جائے گا۔





ذوالفقار مرزا