قومی اسمبلی کے حلقہ NA-125 میں خواجہ سعد رفیق کی کامیابی کالعدم قرار دے دی گئی

قومی اسمبلی کے حلقہ NA-125 میں خواجہ سعد رفیق کی کامیابی کالعدم قرار دے دی گئی

حلقہ این اے ایک سو پچیس میں دھاندلی کیس کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل نے سنا دیا  ٹربیونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا  دھاندلی کیس کا تفصیلی فیصلہ اسی صفحات پر مشتمل ہے، جس کے مطابق  حلقے کے دو سو پینسٹھ پولنگ اسٹیشنز میں سے سات میں بے ضابطگیاں پائی گئیں،آدھے سے زیادہ فارم نمبر چودہ پر پریذائیڈنگ افسر کے دستخط تھے نہ نشان انگوٹھا   ریٹرننگ افسر نے غیر مصدقہ نتائج کی بنیاد پر حتمی نتیجہ بنایا ،اس لئے تمام امیدواراپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے ، فیصلے میں کہا گیا کہ نادرا نے تصدیق کی کہ انگوٹھے کےنشان ڈبل یا شناختی کارڈ ہی جعلی ہیں ،   الیکشن ٹریبونل کے جج کے مطابق الیکشن کمیشن ایسا قانون بنائے کہ دھاندلی میں تمام خرچ متعلقہ فریق سے وصول کیا جائے ، آر او فارم چودہ کےبجائے خود تھیلے کھول کر حتمی رزلٹ بناتا تودوبارہ پولنگ کا فیصلہ نہ ہوتا  اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق اب ممبر قومی اسمبلی نہیں رہے،  ٹربیونل کے فیصلے کے مطابق حلقے میں ساٹھ روز کے اندر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے، جبکہ  ٹربیونل کے فیصلے کو صرف سپریم کورٹ میں ہی چیلنج کیا جاسکتا ہے، خواجہ سعد رفیق  ایک ماہ کے اندر اپیل کا حق رکھتے ہیں ،جبکہ ساٹھ دن کے اندر ضمنی انتخاب آئین کے آرٹیکل  دو سو چوبیس کے تحت ہوگا، دوسری جانب ٹریبونل نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ ایک سو پچپن میں بھی دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیدیا،پی پی ایک سو پچپن سے مسلم لیگ(ن)کے میاں نصیر احمد کامیاب ہوئے تھے، جبکہ  پی ٹی آئی کے حافظ فرحت عباس(ن)لیگ کے مد مقابل تھے،میاں نصیر احمد نے  باسٹھ ہزار آٹھ سو اٹھتیس ووٹ حاصل کیے تھے،جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے حافظ فرحت عباس نے بیالیس ہزار نو سو بیالیس ووٹ لیے تھے، جس کے بعد تحریک انصاف کے حافظ فرحت عباس نے میاں نصیر کی کامیابی کو چیلنج کیاتھا، ادھر پی پی ایک سو چھپن کے پٹیشنز کے انتقال کے باعث درخواست خارج کر دی گئی