مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہی قبول ہے : جنرل راحیل شریف

مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہی قبول ہے : جنرل راحیل شریف

دشمن کے عزائم ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت ہے‘ کسی کو اپنے ملک میں پراکسی وار کی اجازت نہیں دینگے
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک میں پراکسی وار لڑنے کے خلاف ہے اور کسی کو پاکستان میں پراکسی وار لڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ بات ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پر آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے ٹوئٹر پر دیئے گئے پیغام میں کہی گئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پر آر کے بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران کہا کہ مستقبل میں لڑی جانے والی جنگوں کے نقش و نگار بدل گئے ہیں۔ ’ہمارے دشمن ملک میں دہشت گردوں کی حمایت کر کے مسلح تصادم کو ہوا دے رہے ہیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے لیکن دشمن کے مذموم عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے۔‘ انہوں نے کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے پاکستان اور کشمیر کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ’اگرچہ ہم خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں، لیکن ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ مسئل کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دہشت گردوں کیخلاف آخری ضرب لگانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اب شہری علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ ’اس سلسلے میں سول ملٹری روابط میں مزید بہتری انتہائی اہم ہو گئی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ انگریزی کے لفظ ”پراکسی وار“ کا مطلب ہے کہ کوئی ملک پس پردہ رہ کر کسی دوسرے ملک کے خلاف خفیہ طریقے سے جنگ کرے۔ اپنے خطاب میں آرمی چیف نے ان ہی خفیہ لڑائیوں کا حوالہ دیا ہے۔ جنرل راحیل نے مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی اور کہا کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے پاکستان اور کشمیر کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں کامیابی سے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ حتمی اور آخری کامیابی کیلئے سول ملٹری تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مستقبل کی جنگوں کا طریقہ کار تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہمارے دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ نیم روایتی طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے لیکن پاک فوج ملک کے خلاف دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہے اور اسکی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ جنرل راحیل نے کشمیر کے بارے میں اس وقت دو ٹوک بیان دیا ہے جب دو روز پہلے بھارتی وزارت خارجہ نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا تھا۔ جنرل راحیل نے کہا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق قابل قبول ہے۔ پائیدار امن کے لئے مسئلے کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ دہشت گردی کے جلد خاتمے کے لئے پرامید ہیں۔ آپریشن ضرب عضب سے سیاسی و عسکری قیادت میں ہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔ دشمن دہشت گردوں کی حمایت کرکے ہمیں آپس میں لڑانا اور غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ دشمن کے ناپاک ارادوں کو شکست دینے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں یہ کسی صورت جدا نہیں ہو سکتے، مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے، خطے اور پاکستان میں قیام امن کے لئے دعا گو ہوں۔
جنرل راحیل