راولپنڈی میں فائرنگ‘ کسٹمز انسپکٹر قتل‘ ایان علی کو گرفتار کرنیوالی شفٹ کا حصہ تھے : ذرائع

راولپنڈی میں فائرنگ‘ کسٹمز انسپکٹر قتل‘ ایان علی کو گرفتار کرنیوالی شفٹ کا حصہ تھے : ذرائع

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نیٹ نیوز) تھانہ وارث خان کے علاقے محلہ قاسم آباد میں دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے کسٹمز انسپکٹر چودھری اعجازکو قتل کردیا، حملہ آور فرار ہوگئے، یہ سٹریٹ کرائم ہے یا قتل کا منظم واقعہ؟ پولیس نے ان پہلو?ں پر تفتیش شروع کردی جبکہ قتل کے اس واقعہ کو سپر ماڈل ایان علی کرنسی سمگلنگ کیس میں ان کے تفتیشی ٹیم کا مبینہ طور پر حصہ ہونے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ایس ایچ او راجہ رشید نے نوائے وقت کو بتایا کہ کسٹمز انسپکٹرکو بدھ کی شام ساڑھے پانچ بجے گھر کے گیٹ پر دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے روکا اور فائرنگ کردی۔ مقتول کے بھائی نے تھانہ وارث خان میں اقدام قتل کی ایف آئی آر درج کرانے کیلئے درخواست دی لیکن بدھ کو بے نظیر بھٹو ہسپتال میں دوران علاج معالجہ انسپکٹر چودھری اعجاز ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ اے ایس پی وارث خان سرکل بہرام خان نے بتایا کہ یہ سٹریٹ کرائم میں چھینا جھپٹی کی واردات ہے یا قتل کا محرک کچھ اور ہے جلد ہی سچ سامنے آجائے گا، ابتدائی تفتیش میں مقتول کسٹم انسپکٹر کا کوئی سرگرم رول اس کیس میں سامنے نہیں آیا، ایان علی کی گرفتاری اور پانچ لاکھ، چھ ہزار،آٹھ سو ڈالر کی برآمدگی میں بھی انسپکٹر چودھری اعجازکا کوئی رول نہیں تھا، وہ صرف شفٹ میں شامل تھے، مقتول کے بھائی نے ایک روز قبل کسٹم انسپکٹر چودھری اعجاز کے فائرنگ میں زخمی ہونے کے واقعہ کی اطلاع تھانے دی تھی جس کیلئے دفعہ324 مقدمہ درج کیا گیا، دریں اثنائ￿ ریجنل پولیس افسر راولپنڈی ریجن محمد وصال فخر سلطان راجہ نے غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانہ وارث خان کو معطل جبکہ ایک انسپکٹر اور سب انسپکٹر کو ضلع جہلم تبدیل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سنگین وقوعہ پر بروقت نہ پہنچنے پر، سینئر افسروں کو اطلاع نہ دینے اور مقدمہ کا صحیح دفعات پر اندراج نہ کرنے پر آر پی او فخر سلطان راجہ نے انسپکٹرراجہ عبدالر رشید کو فی الفور معطل کر دیا۔ دوسری طرف پاکستان کسٹمز نے وضاحت کی ہے کہ اعجاز چودھری کا ایان علی کیس سے کوئی تعلق تھا نہ وہ تفتیشی افسر یا تحقیقاتی ٹیم کا حصہ تھے جبکہ وہ کیس کے گواہ بھی نہیں تھے۔ علاوہ ازیں کسٹمز عدالت نے کرنسی سمگلنگ کیس میں گرفتار ماڈل ایان علی کی درخواست ضمانت ایک بار پھر خارج کر دی، ماڈل ایان علی پر 5لاکھ ڈالر سمگلنگ کا کیس چل رہا ہے، کیس کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان نے وکلائ￿ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو بعدازاں سنا دیا گیا۔سماعت میں ایان علی کی طرف سے ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور تفتیشی افسر زرغام خان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیئے کہ پانچ لاکھ ڈالر کی رقم ایان علی اور ان کے بھائی کی مشترکہ ہے جو پلاٹ کو فروخت کرنے پر حاصل ہوئی۔ ایان علی نے پلاٹ پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے فروخت کیا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ پانچ لاکھ ڈالر بیرون ملک لے جانا غیر قانونی ہے۔ تاہم سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ سے 5لاکھ ڈالر برآمد ہوئے۔
ایان علی