دوبارہ ایٹمی تجربہ کرنے میں پہل کرینگے نہ این پی ٹی پر دستخط ....امریکہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی دے‘ کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھیں گے : پاکستان

دوبارہ ایٹمی تجربہ کرنے میں پہل کرینگے نہ این پی ٹی پر دستخط ....امریکہ پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی دے‘ کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھیں گے : پاکستان

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں) پاکستان امریکہ ورکنگ گروپ کے اعلامیہ کے مطابق امریکہ نے نیوکلیئر سکیورٹی کے استحکام کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی سٹریٹجک ٹریڈ کنٹرول کو 48 رکنی نیوکلیئرز سپلائرز گروپ اور دیگر ایکسپورٹ کنٹرول رجیمز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشترکہ اعلامیہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ نے تسلیم کر لیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے اور وہ برآمدات اور ان کے تحفظ کے حوالے سے مضبوط کنٹرول رکھتا ہے۔ اعلامیہ میں جنوبی ایشیا میں تنازعات پرامن طور پر حل کرنے کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان نے اس علاقے میں بامعنی مذاکرات کی اہمیت اور اس حوالے سے ہونے والی پیشرفت کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اس بات کی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو گا اور حل طلب علاقائی اور دیگر تنازعات پرامن طور پر حل ہونگے۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے امریکہ پر معاشی ترقی کیلئے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی کی ضرورت پر زور دےتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مسلح تصادم سے بچاﺅ اور اعتماد سازی کیلئے کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کرے گا کےونکہ پاکستان اس معاہدے کو امتیازی سمجھتا ہے۔ پاکستان، امریکہ ورکنگ گروپ کا ساتواں اجلاس واشنگٹن میں ہوا۔ پاکستان نے سماجی معاشی ترقی کیلئے پرامن نیوکلیئر ٹیکنالوجی تک رسائی پر زور دیا۔ اجلاس کے دوران کثیر پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو روکنے پر زور دیا گیا، غیرریاستی عناصرکی ان ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے عزم کو دہرایا گیا۔ اجلاس کی صدارت پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور امریکی نائب سیکرٹری خارجہ برائے آرمز کنٹرول روز گوٹموئلر نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے عالمی برادری کی فلاح کیلئے ہتھیاروں پر پابندی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ امریکہ نے اس عزم کو دہرایا کہ وہ مزید کوئی ایٹمی تجربہ نہیں کریگا، پاکستان نے بھی اس عزم کو دہرایا کہ وہ خطے میں ایٹمی تجربہ دوبارہ کرنے میں پہل نہیں کریگا۔ مےڈےا برےفنگ کے دوران سیکرٹری خارجہ سے سوال کیا گیا کہ اگر واشنگٹن کہے تو کیا اسلام آباد این پی ٹی پر دستخط کردے گا تو انہوں نے کہا یہ امتیازی معاہدہ ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ہمیں اس پر دستخط کیوں کرنے چاہئیں؟جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لئے اقدامات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے کثیر سطح کا نظام اور مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام قائم کیا ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کو یقین دلایا کہ پاکستان کم سے کم ڈیٹرنس برقرار رکھے گا، لیکن وہ کسی کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں۔پاکستان بھارت کے ساتھ برابری کی بات نہیں کررہا لیکن ہم جانچ اور توازن کا نظام چاہتے ہیں۔ اس طرح کا توازن امن کے فروغ کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان جامع سٹریٹیجک استحکام کے تصور پر یقین رکھتا ہے، جس میں روایتی ہتھیاروں کا توازن، جوہری بندش، زےر التوا مسائل کے حل شامل ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر کو جوہری تنصیبات کے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیا، یوں اس نے اپنے جوہری اثاثوں کے مکمل تحفظ کی صلاحیت کو ثابت کردیا تھا۔ ہم نے ایسے اقدامات کئے ہیں، جو کسی دوسرے ملک نے نہیں کئے، اسے دوسرے ملکوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ اس طرح کی سرگرمیوں کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ جس طرح کا سول جوہری تعاون کا معاہدہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ کیا تھا، وہ پاکستان کا بھی حق تھا۔ ہماری توانائی کی ضروریات کہیں زیادہ ہیں۔ ہماری بجلی کی پیداوار بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں۔ ہماری تمام تنصیبات آئی اے ای اے کے تحفظات کے تحت ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی تجاویز کو مسترد کردیا کہ پاکستان کو ہائیڈل کی طرز کے دوسرے ذرائع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے آپشن میں ہائیڈل سے جوہری تک کا محفوظ حصول شامل ہے۔ پاکستان کا منصوبہ ہے کہ 2030ءتک ایک لاکھ 62 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل کی جائے، اس میں جوہری ذرائع سے کل 8 ہزار 8 سو میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا معمولی سا حصہ ہوگا۔ انہوں نے اس خیال کو مسترد کردیاکہ داعش اور دوسرے عسکریت پسند گروپس پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے عالمی برادری کی فلاح کیلئے ہتھیاروں پر پابندی کی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے ایٹمی تجربات موخر کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس کے دوران کثیر پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو روکنے پر زور دیا گیا، غیرریاستی عناصرکی ان ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے عزم کو بھی دہرایا گیا۔ دونوں ممالک نے عالمی برادری کی فلاح کیلئے ہتھیاروں پر پابندی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ پاکستان نے کہا کہ وہ مسلح تصادم سے بچاﺅ اور اعتماد سازی کیلئے کم از کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔
واشنگٹن (نوائے وقت رپورٹ) سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے امریکی مشیر قومی سلامتی ایورل ہیزن سے ملاقات کی جس میں پاکستان امریکہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا گیا۔ ملاقات میں عوام کی خوشحالی، امن، سلامتی کیلئے اشتراک عمل مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا۔ امریکی مشیر نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔ ملاقات میں خطے میں امن و استحکام مستقبل کی ترقی کیلئے قریبی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاملات خطے میں امن و استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دریں اثناءملاقات میں پاک امریکہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاملات اور امن و استحکام پر مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ اعزاز چودھری نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا دورہ کیا۔ نائب وزیر دفاع محکمہ دفاع کرسٹائم ورمورتھ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں دوطرفہ دفاعی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دریں اثناءواشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ سمجھتے ہیں کہ دفاع کے شعبہ میں انکا تعاون خطے کی سلامتی اور استحکام کا باعث ہے۔ یہ بیان پاکستانی خارجہ سیکرٹری اعزاز چودھری اور امریکی نائب وزیر دفاع کرسٹائم وارستھ کے ساتھ ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق ملاقات میں اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اعزاز چودھری نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکی مدد کو سراہا۔

سیکرٹری خارجہ