کُرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز ہوگیا ہے جس میں فوج اور ایف سی کے سینکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں

کُرم ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز ہوگیا ہے جس میں فوج اور ایف سی کے سینکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں

حکام کے مطابق فوجی آپریشن کے بعد ہزاروں لوگوں نے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی شروع کی ہے اور کرُم ایجنسی کے اندر صدہ کے مقام پر بنائے گئے ایک عارضی کیمپ میں ہزاروں لوگ آ رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے وسطی کُرم کے علاقے ذی مُشت، علی شیرزئی اور ماسوزئی میں موجود شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔۔کُرم ایجنسی میں فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی پوری ایجنسی کی ٹیلی فون لائنوں کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں کسی سے بھی رابط ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں فوج اور ایف سی کے سینکڑوں جوان حصہ لے رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی قسم کے مزاحمت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز نے علی شیرزئی کے علاقے کڑم، وام، زنگی، مرغاتا، ورستہ اور تندو میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں پر گولہ باری بھی کی جس سے شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے۔