پیپلز پارٹی کے سوا کسی دوسری جماعت یا اسکی قیادت کو ٹارگٹ نہیں کیا جائیگا : نوازشریف کی مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داران کو ہدایت

لاہور (سلمان غنی سے) مسلم لیگ (ن) نے قومی و عوامی مسائل پر حکومتی بے حسی کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے حکومت کیخلاف جدوجہد کو تیز تر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالہ سے پارٹی قیادت نوازشریف نے پارلیمانی ذمہ داران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے سوا کسی اور جماعت اور اسکی قیادت کو ٹارگٹ نہیں کیا جائیگا جبکہ ملک میں ایک حقیقی سیاسی تبدیلی کیلئے عوام اور نمائندہ طبقات کو متحرک اور فعال بنایا جائیگا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی طاقت میں اضافہ کیلئے پارٹی ذمہ داران کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں جس کے مطابق سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق اور سردار ایاز صادق پارلیمنٹ کی دیگر جماعتوں اور قیادتوں سے رابطے کرکے انہیں متفقہ پلیٹ فارم سے جدوجہد پر آمادہ کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم اور جے یو آئی کی لیڈر شپ سے مسلم لیگ (ن) کے روابط جاری ہیں۔ (ق) لیگ کے ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کا ایک مضبوط گروپ بھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہے۔ ایم کیو ایم سے ابتدائی مشاورت مکمل ہوچکی ہے اور طے پایا ہے کہ قومی ایشوز پر ایکشن متفقہ ہوسکتا ہے جبکہ جے یو آئی سے بات چیت میں مسلم لیگ (ن) نے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے حوالہ سے اپنا یہ اختلاف پھر ظاہر کیا ہے کہ چیئرمین سینٹ کی اپوزیشن لیڈر کے حوالہ سے رولنگ آنیوالے حالات اور دور میں خطرناک ہوسکتی ہے البتہ ہم اہم ایشوز اور قومی ایجنڈا پر ساتھ چلنے کیلئے تیار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذمہ داران کے مطابق ایم کیو ایم کے فاروق ستار اور حیدر عباس رضوی اور جے یو آئی میں مولانا فضل الرحمن، عبدالغفور حیدری اور اعظم سواتی میں رابطے ہوئے ہیں اور رابطے اور بات چیت قومی ایشوز کے حوالے سے حوصلہ افزاءہے اور آنیوالے چند روز میں متفقہ نکات طے پا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کے مطابق نوازشریف اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت کی عدم کارکردگی کے بعد اب اسکا کوئی سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ دو اہم میٹنگز میں نوازشریف نے جماعتی ذمہ داران سے کہا کہ ان حالات اور بعض قومی سلامتی کے حوالہ سے واقعات اور اثرات کے بعد ہماری خاموشی اور حکومت کے حوالہ سے سافٹ کارنر خود ہمارے کردار اور جواز کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ملک کو سیاسی انتشار، معاشی بدحالی اور اغیار کی غلامی سے نکالنے کیلئے میدان عمل میں کودا جائے اور ایوانوں کے اندر اور باہر حکومت پر دباﺅ بڑھایا جائے۔ نوازشریف نے واضح کیا کہ نیا مینڈیٹ قومی ضرورت ہے۔ اگر حکومت خود عوام سے رجوع نہیں کرتی تو حکومت کے رہنے کا جواز کھو جانے کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تفصیلی غوروخوض کے بعد ہماری جماعت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ افراط زر اور بیروزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کبھی بجلی کا بحران، کبھی گیس کی قلت، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں لگنے والی آگ، لاقانونیت، بدامنی کا دور دورہ، بدترین اور کرپٹ انداز حکمرانی مجرمانہ اور بے حسی کا شکار بن گئے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت اور اسکی ملک سے باعزت رخصتی اور جن کو قاتل لیگ قرار دیا انکو شریک اقتدار کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اب حکومت کا ایجنڈا وہ نہیں جو ماضی میں پیپلز پارٹی نے چارٹر آف ڈیموکریسی میں طے کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ ہر آنیوالا دن جو قومی مفادات اور عوام کیلئے خطرناک بنتا جا رہا ہے لہٰذا وقت آگیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوں اور متفقہ نکات پر جدوجہد کا سلسلہ تیز تر کرکے ملک اور جمہوریت کے مستقبل کو یقینی بنائیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات سے نجات کا بہتر ذریعہ یہی ہے کہ واپس عوام سے رجوع کیا جائے۔ ایک سوال پر مسلم لیگ (ن) کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض اہم واقعات کے باعث عوام کا اعتماد حکومت، دفاع اور قومی سلامتی کے اداروں پر متزلزل ہوا ہے۔ بدقسمتی سے پارلیمنٹ کی قرارداد تک پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
نواز شریف / ہدایت