پاکستان بھارت مذاکرات رکے تو خطے کا امن تباہ ہو گا‘ ایبٹ آباد میں اسامہ کے حامی موجود تھے : امریکہ....افغانستان کو سپلائی‘ امریکہ کا پاکستان کو ”بائی پاس“ کرنیکا فیصلہ

اسلام آباد + واشنگٹن (سپیشل رپورٹ + نمائندہ خصوصی) چین نے امریکہ کو چین کے راستے افغانستان تک امریکی اور نیٹو افواج کے لئے سامان کی فراہمی کے لئے روٹ فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ نے ڈپلومیٹک کیبل کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر نیٹو اور امریکی افواج کو ساز و سامان کی فراہمی انحصار کم کرنے کے لئے چین کے راستے قازقستان اور پھر وہاں سے افغانستان تک سامان کی فراہمی کے لئے چین سے باقاعدہ درخواست کی تھی۔ اخبار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے بیجنگ میں امریکی سفارت خانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ چین سے باقاعدہ درخواست کریں کہ وہ امریکہ اور نیٹو کے لئے سامان کی فراہمی کے لئے روٹ مانگے اس روٹ کے ذریعے امریکہ اسلحہ نہیں بلکہ وہ خوراک اور دوسرا ساز و سامان چین کے ذریعے افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں مگر چین نے امریکی درخواست مسترد کر دی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج افغانستان کے لئے اپنا سپلائی روٹ پاکستان کی بجائے وسطی ایشیا کی جانب منتقل کر رہی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو ”بائی پاس“ کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کی وجہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں تناو¿ ہے امریکہ کو خطرہ ہے کہ پاکستان اس کی سپلائی نہ روک لے۔ رپورٹ میں پینٹاگون کے ایک اہلکار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر بتایا گیا ہے کہ 2009ءمیں افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے لیے مجموعی رسد کا 90 فیصد حصہ پاکستانی بندرگاہ کراچی کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا جبکہ اب افغانستان کے لیے 40 فیصد رسد وسطی ایشیا سے ہو رہی ہے۔ پینٹاگون وسطی ایشیا سے افغانستان تک خوراک اور سازوسامان کے روٹ کو شمالی تقسیمی نیٹ ورک قرار دیتا ہے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی کوشش ہے کہ رواں برس کے اختتام تک افغانستان میں فوجیوں تک رسد کا 75 فیصد وسطی ایشیا ہی کے روٹ سے پہنچایا جائے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ قازقستان، ازبکستان اور دیگر ممالک سے معاہدوں کی تجدید و ترویج میں مصروف ہے۔ اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل میں بھی وسط ایشیائی روٹ کو ہی اہمیت دی جائے گی۔ اس طرح امریکی فوج افغانستان میں موجود فوجی گاڑیوں، آلات اور دیگر سازوسامان وسطی ایشیا کے روٹ ہی سے نکالے گی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی خواہش ہے کہ رسد پاکستان کے راستے ہی لائی جائے کیونکہ یہ کم خرچ اور تیز ترین ذریعہ ہے تاہم اس کے برعکس امریکی محکمہ دفاع وسطی ایشیائی ریاستوں اور سمندری راستے سے فوجی رسد افغانستان پہنچانے کا نیٹ ورک وسیع کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان نے فی الحال رسد نہیں روکی مگر بند کئے جانے کا خدشہ موجود ہے۔
واشنگٹن پوسٹ
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک سی ٹونر نے خبردارکیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مذاکرات کا سلسلہ کسی طرح سے تھم گیا تو دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہونگے اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ خطے میں امن و امان کو درہم برہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو تعمیری قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کا قلع قمع کرنے اور خطے میں قیام امن کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں، تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل تلاش کرنے کےلئے تسلسل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں۔ مارک ٹونر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا جو تازہ دور شروع ہوا ہے وہ خوش آئند قدم ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔ بات چیت ہی ایسا ذریعہ ہے جس سے تمام پیچیدہ مسائل کوافہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ بات چیت تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنا کسی بھی لحاظ سے دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا بالخصوص بر صغیر میں اس وقت دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے لہٰذا دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ دہشت گرد عناصر کی سر کوبی کیلئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ انسانی جانوں کا ضیاع اور امن عمل میں رخنہ ڈالنا ہے۔ دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلون نے کہا ہے کہ کانگرس پاکستان میں اسامہ کی موجودگی کے حوالے سے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اس بارے میں وضاحت کریں۔ سی این این سے انٹرویو میں ٹام ڈونیلون نے کہا کہ اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد سے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کیلئے امداد کا کوئی میکانزم موجود تھا۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستانی اعلیٰ حکام اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے لاعلم تھے تاہم چھ سال تک اسامہ کی ایبٹ آباد سے کارروائیوں کیلئے بعض قسم کی مدد کا طریقہ کار موجود تھا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسامہ کی طویل عرصے تک ایبٹ آباد میں موجودگی اور وہاں سے القاعدہ کو چلانا کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے جن کے جواب ملنا ضروری ہیں۔ ادھر افغانستان اور پاکستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی مارک گراسمین نے سینٹ لوئی مےں امریکی ڈاکٹروں کی تنظیم ”اپنا“ کے سالانہ عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی اور معیشت جیسے دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان سے نمٹنے کےلئے امریکہ اور پاکستان دونوں کو اےک دوسرے سے تعاون کرنا ہوگا۔ دہشت گردوں نے 35ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کیا جس کیلئے پاکستان انتہائی احترام کا مستحق ہے۔ افغانستان میں انٹیلی جنس اداروں، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سے مفید اور کامیاب مذاکرات ہوئے۔ 5 جولائی کو ہونےوالے مذاکرات مےںمتعدد امور پر دوٹوک اور تفصیلی تبادلہ خےال ہوگا۔ افغانستان میں انٹیلی جنس اداروں، عسکری قیادت اور سیاسی قیادت سے مفید اور کامیاب مذاکرات ہوئے۔ 5 جولائی کو مذاکرات کیلئے آنے والا وفد متعدد امور پر دوٹوک اور تفصیلی گفتگو کرےگا۔
امریکی حکام