میانوالی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے لانگ مارچ کے شرکاء پرپولیس کی فائرنگ سے دوافراد جاں بحق جبکہ اٹھائیس زخمی ہوگئے۔

میانوالی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے لانگ مارچ کے شرکاء پرپولیس کی فائرنگ سے دوافراد جاں بحق جبکہ اٹھائیس زخمی ہوگئے۔

میانوالی کوبجلی کی سستی اور مستقل فراہمی کے لیے تحریک حقوق میانوالی اورمختلف سیاسی جماعتوں کی اپیل پرمکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اورہزاروں افراد نے جہاز چوک میں دھرنا دیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ضلع میانوالی نیشنل گرڈ سٹیشن کوایک ہزارمیگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے جبکہ علاقے میں مزید چھ سو پچاس میگاواٹ کے منصوبے زیر تکمیل ہیں اس کے باوجود میانوالی میں بدترین لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ضلع میانوالی کوسستی بجلی فراہم کی جائے اور ضلع کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قراردیا جائے۔
اس موقع پر مظاہرین نے چشمہ پاور پلانٹ کی طرف لانگ مارچ شروع کیا توپولیس نے انہیں روکنے کے لئےہوائی فائرنگ اورلاٹھی چارج کیا جس سے دو افراد خادم حسین اورمہرخان جاں بحق جبکہ اٹھائیس افراد زخمی ہو گئے،زخمیوں میں ڈی سی اوسمیت سات پولیس اہلکار جبکہ اکیس عام شہری شامل ہیں، واقعہ کے بعد فوج اوررینجرز نے شہر میں گشت شروع کر دیا جبکہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔