ممبئی حملوں کے بعد پاکستان سے مذاکرات نہ کرنا ہماری غلطی تھی ....بھارتی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی تسلیم کر لی

ممبئی حملوں کے بعد پاکستان سے مذاکرات نہ کرنا ہماری غلطی تھی ....بھارتی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی تسلیم کر لی

نئی دہلی (آن لائن +اے این این) بھارتی حکومت نے بالآخر تسلیم کر لیا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند رکھنا اس کی غلطی تھی۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراﺅ نے بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی حکومت کی ہٹ دھرمی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ان مسائل پر بات چیت کرنا ہو گی جن سے دونوں ممالک میں دوری پیدا ہوتی ہے۔ بات چیت سے اعتماد کے بحران میں کمی واقع ہو گی‘ اس کا اعتراف دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بھی کر چکے ہیں۔ بھارتی حکومت کی حالیہ سوچ حقیقت پسندانہ ہے انہوں نے کہا کہ پالیسیاں لیبارٹری میں نہیں بنائی جاتیں بلکہ ماحول کومدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ اب مذاکرات کی پالیسی حقیقت پر مبنی ہے۔ نروپماراﺅ نے کہا کہ پاکستان سے بات چیت کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان پایا جانے والا اعتماد کا فقدان ختم ہو گا دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئینگے۔ مذاکرات ہی پاکستان سے تعلقات کی بہتری کا واحد حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے دوبارہ آغاز سے اعتماد کے فقدان میں کمی آئیگی۔ اسلام آباد کے ساتھ مل کر مسائل کا حل ڈھونڈنا ہمارا حقیقت پسندانہ رویہ ہے۔ حالیہ پاکستان بھارت مذاکرات کے حوالے سے نروپماراﺅ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے رویہ میں تبدیلی آئی ہے ۔ بھارتی حکومت کو پاکستان کے روئیے میں تبدیلی کو مثبت انداز سے لینا چاہئے۔ پاکستانی ریاست‘ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے درمیان سٹریٹجک تعلق ٹوٹنا چاہئے۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے فیصلے سے متعلق ہمارے درمیان تقسیم تھی۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کے روئیے میں تبدیلی آ گئی اس حوالے سے ٹھوس پیشرفت ہو رہی ہے۔ بھارت کو اس پر توجہ رکھنی چاہئے۔ پاکستان بھارت تعلقات کو متاثر کرنے والے غیر ریاستی عناصر سے نمٹنے کی ضرورت ہے ان کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہونا چاہئے ہمیں تمام پہلوﺅں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ اس سوال پر کہ کیا پاکستانی ہم منصب سلمان بشیر نے حالیہ مذاکرات کے دوران امریکہ میں گرفتار دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلے کی جانب سے کئے گئے انکشافات کو تسلیم کیا؟ نروپماراﺅ نے کہا کہ پاکستانی ریاست کو عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے درمیان سٹریٹجک تعلق توڑنے کی ضرورت ہے وہ اس حوالے سے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتی۔