طوفانی بارشیں....چھتیں‘ دیواریں گرنے سے تین بچیوں سمیت دس افراد جاں بحق‘ لاہور میں کئی علاقے ڈوب گئے

لاہور (نمائندہ خصوصی + سٹی رپورٹر + سپیشل رپورٹر + نامہ نگاران) ملک کے بالائی علاقوں سمیت پنجاب مےں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ روز طوفانی بارشوں سے بجلی اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور پانی نشیبی علاقوں مےں داخل ہوگیا جبکہ چھتیں، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے 3 بچیوں اور 2خواتین سمیت 10افراد جاںبحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق مصری شاہ کے علاقے میں گلبرگ کا رہائشی محمد سلیم اپنی بیٹی ثناءکے ہمراہ عزیز روڈ پر قریبی رشتہ دار عظیم عادل کے گھر مہمان گیا جہاں بارش کے دوران دو منزلہ مکان کی بالوں کی چھت گرنے کے باعث ملبے تلے دب کر محمد سلیم اور اس کی بیٹی ثناءجاں بحق اور شہریار نامی نوجوان زخمی ہو گیا، گڑھی شاہو میں محکمہ سوئی گیس کے ملازم احسان علی شاہ کے والد کی رسم چہلم میں قرآن خوانی ہو رہی تھی کہ بارش شروع ہو گئی۔ اسی دوران دیوار وہاں بیٹھے لوگوں پر آ گری جس کی زد میں آ کر سید احسان کا 15سالہ بیٹا عثمان شاہ جاں بحق ہو گیا۔ متوفی آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا، شاہدرہ ٹاﺅن کے علاقہ میں ایک دیوار گرنے سے 5 سالہ بچی ریحانہ دم توڑ گئی جبکہ اسکی بڑی بہن شدید زخمی ہو گئی، ہنجر وال کے علاقے میں ایک مکان کی چھت گرنے سے نوید وغیرہ 2 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ جوہر ٹاﺅن میں زیر تعمیر کمرے کی چھت گرنے سے 2 افراد شدید زخمی ہو گئے، ٹاﺅن شپ کے علاقہ میں بارش کے دوران 40 سالہ شخص عبد الباسط اپنے گھر کی چھت سے گر کر شدید زخمی ہو گیا۔ ستوکتلہ کے علاقے میں بارش کے دوران موٹر سائیکل سوار نوجوان اکرم وغیرہ گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ نشتر کالونی کے علاقہ یوحنا آباد میں ایک دیوار گرنے سے برکت مسیح اور اس کی بیٹی زخمی ہو گئے۔ شاہدرہ ٹاﺅن کے علاقے میں خستہ ہال مکان کی چھت گرنے کے باعث 40سالہ خاتون حبیبہ اور اسکی 10 سالہ بیٹی ماہم ملبے تلے دب گئیں۔ امدادی ٹیموں نے نکال کر مقامی ہسپتال پہنچا دیا جہاں انکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ فیصل آباد اور کھرڑیانوالہ مےں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 2خواتین سمیت 4 افراد دم توڑ گئے۔ بورے والا مےں کرنٹ لگنے سے 22 سالہ مزدور عطا موقع پر دم توڑ گیا جبکہ 2 مزدور اور ایک طالب علم شدید زخمی ہوگئے۔ لاہور مےں گذشتہ روز ہونے والی طوفانی بارش سے لاہور کے متعدد علاقے زیر آب آگئے اور واسا کا عملہ وہاں نہیں پہنچا جبکہ تاج پورہ، مصری شاہ اور شادباغ کے مختلف علاقوں مےں پانی گھروں کے اندر داخل ہوگیا ہے۔ بارش کے بعد لاہور کی تمام سڑکوں جن مےں جیل روڈ، مال روڈ، گلبرگ روڈ، علامہ اقبال روڈ اور دیگر علاقوں مےں پانی کھڑا ہوگیا۔ شدید طوفان بادوباراں کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے بجلی کے پول زمین بوس ہوگئے سائن بورڈز اکھڑ کر گاڑیوں سے ٹکراتے رہے شہر بھر میں بجلی کا نظام معطل ہوکر رہ گیا جو کئی گھنٹوں تک بحال نہ ہوسکا۔ بھیرہ، چنیوٹ، سرگودھا اور دیگر علاقوں مےں بھی چھتیں اور دیواریں گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ بارشوں کا سسٹم بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے 24گھنٹوں میں مزید موسلادھار بارش کا امکان نہیں۔ اتوار کی صبح تک ملک کے مختلف حصوں میں ریکارڈ ہونے والی بارش کے مطابق سب سے زیادہ بارش تربیلا میں 47 ملی میٹر ہوئی جبکہ لاہور شہر میں ریکارڈ ہونے والی بارش کی مقدار 22 ملی میٹر جبکہ ائر پورٹ پر 15ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔شاہ کوٹ کے نواحی چک 38 میں 11 سالہ بچی دیوار گرنے سے دم توڑ گئی۔ نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق شدید بارشوں سے کالا خطائی اور گرد و نواح کے 20 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔ بعض دیہاتوں میں سڑکیں کئی کئی فٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ متعدد کچے مکانات گرنے اور طوفان و بادوباراں کے باعث علاقہ بھر میں بجلی کے کھمبے اور درخت گرنے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ علاوہ ازیں شدید بارشوں کے باعث دریاو¿ں میں طغیانی آ گئی۔
طوفانی بارش