پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ پنجاب میں ”واضح کامیابی“ حاصل کر سکے

پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ پنجاب میں ”واضح کامیابی“ حاصل کر سکے

لاہور (شعیب الدین سے) عام انتخابات میں صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے بزرجمہروں کے سامنے اس وقت ایک اہم سوال پنجاب اور تختِ لاہور کو فتح کرنا ہے مگر اس راہ میں کمزور ترین تنظیمی ڈھانچہ سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ اس کمزور تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) اور سونامی کا مقابلہ کیسے کر پائے گی۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صدر زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے لاہور کے دوروں کے باوجود نہیں مل سکا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی اس وقت پنجاب خصوصاً لاہور میں 45 سالہ تاریخ میں کمزور ترین مقام پر کھڑی ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کی 5 سالہ حکومت اور صوبے میں 3 سالہ ”شراکت“ کے باوجود پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ پنجاب میں ”واضح کامیابی“ حاصل کر سکے اور اپنی حکومت بنانے کا ”ٹاسک“ پورا کر سکے۔ پیپلز پارٹی لاہور اور پنجاب میں تبدیلیوں کا شور کئی ماہ سے سُنا جا رہا ہے۔ صدر زرداری کے دورہ لاہور، ان کی بہن فریال تالپور کے دوروں میں یہی شور رہا کہ تمام تنظیمی کام مکمل کر لیا گیا ہے اور جلد نئے جوش و جذبے سے سرشار عہدیدار اپنا ”کام“ سنبھال لیں گے لیکن حیران کن طور پر صدر زرداری اور فریال تالپور کے دوروں کو کئی ماہ گزر چکے ہیں مگر کسی تبدیلی کے ”احکامات“ جاری نہیں ہوئے۔ صدر زرداری نے پارٹی سنبھالی تو ان کے ”سیاسی دا¶ پیچ“ سے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو امید بندھی تھی وہ پنجاب میں بھی کامیابی کی بنیاد رکھ دیں گے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ صورتحال یہ ہے لاہور میں ایک معمولی جلسہ کرنا ہو تو ”مشکل“ ہو جاتی ہے۔ لاہور پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی کمزوری ایک خاتون کا اسکی صدر ہونا ہے۔ ثمینہ خالد گھرکی اپنے حلقے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ لاہور میں رمضان المبارک کے دوران بڑے لیڈروں نے افطاریوں میں شرکت نہ کر کے جیالوں کو مایوس کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے پاس لاہور میں جہانگیر بدر جیسا بڑا نام بھی ہے مگر وہ بھی لاہور کے ”ٹاسک“ کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ لاہور میں جس حلقے میں پی پی پی نے سب سے زیادہ کام کیا وہ دریا پار شاہدرہ کا حلقہ ہے مگر شاہدرہ کے رہائشی آصف ہاشمی کو جواب میں ووٹ کا تحفہ دیتے ہیں یا پھر مسلم لیگ (ن) ہی کی محبت کے اسیر نکلتے ہیں۔ پیپلز پارٹی لاہور تنظیم کے دفتر میں بھی کوئی ایکٹویٹی بمشکل ہی نظر آتی ہے اور دفتر اکثر اوقات ”خالی“ ہوتا ہے۔ ان حالات میں پنجاب کو فتح کرنے کا خواب دیوانے کے خواب سے کم نظر نہیں آتا۔ بنیادی تبدیلیوں کے بغیر پی پی پی پنجاب میں مقابلہ کرنے کی اہل نہیں ہو سکتی۔