پیپلزپارٹی کا دور حکومت: کل آبادی کا 40 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

پیپلزپارٹی کا  دور حکومت: کل آبادی کا 40 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

لاہور (احسن صدیق) ملک میں پیپلزپارٹی کے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دور حکومت کے دوران کھانے پینے کی اشیاءسمیت تمام چیزوں کی قیمتوں میں 2 گنا اضافہ ہوا ہے اور مہنگائی میں ہوش ربا اضافے کے باعث ملک کی کل آبادی کا 40 فیصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک میاں بیوی اور 2 بچوں پر مشتمل خاندان کو اس وقت زندہ رہنے کے لئے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کم سے کم ساڑھے 12 ہزار روپے ماہانہ چاہئے جبکہ پاکستان میں اس وقت کم سے کم تنخواہ 7 سے 9 ہزار روپے ماہانہ ہے جو ایک خاندان کو گزر بسر کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ موجودہ حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 2008ءمیں 77 روپے تھی جو اس وقت 17.5 روپے اضافے سے 94.55 روپے تک پہنچ گئی ہے، بجلی کا ایک یونٹ جو 2.69 روپے کا تھا وہ اب 3.1 روپے اضافے سے 5.79 روپے یونٹ ہوگیا ہے۔ ایک لٹر پٹرول کی قیمت 55.59 روپے تھی جو اب 49.51 روپے اضافے سے 105.10 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک تولہ سونے کی قیمت میں 36454 روپے اضافہ ہوگیا اور اسکی قیمت 23446 روپے سے بڑھ کر 59900 روپے تک پہنچ گئی۔ ایک کلو آٹے کی قیمت میں 16.86 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 17.14 روپے سے بڑھ کر 34 روپے کلو تک پہنچ گیا۔ ایک کلو دال مونگ دھلی ہوئی کی قیمت میں 48 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 52.08 روپے سے بڑھ کر 100 روپے ہوگیا۔ چنے کی دال کی قیمت میں 48.15 روپے کا اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 41.85روپے سے بڑھ کر 90 روپے ہوگیا۔ ایک کلو مرغی کے گوشت کی قیمت میں 79 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 83 روپے سے بڑھ کر 162 روپے ہوگیا۔ ایک درجن فارمی انڈوں کی قیمت میں 32 روپے اضافہ ہوا اور ان کا ریٹ 49.77 روپے سے بڑھ کر 82 روپے تک پہنچ گیا۔ بکرے کے گوشت کی اوسط قیمت جو 235 روپے کلو تھی 400 روپے اضافے سے 635 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ گائے کے گوشت کی فی کلو اوسط قیمت 122 روپے تھی جو اب 178 روپے اضافے سے 300روپے کے لگ بھگ ہے۔ ایک کلو آلو کی قیمت میں 19.20 روپے اضافہ ہوا اور اسکی قیمت 14.80 روپے سے بڑھ کر 34 روپے ہوگئی۔ ایک کلو پیاز کی قیمت میں ساڑھے 5 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 16.47 روپے سے بڑھ کر 32 روپے تک پہنچ گیا۔ ایک کلو ٹماٹر کی قیمت میں 9 روپے اضافہ ہوا اور اسکی قیمت 31 روپے سے بڑھ کر 40 روپے تک پہنچ گئی۔ ایک کلو سیب کالا کولو پہاڑی کی قیمت میں 4 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 50 روپے سے بڑھ کر 54 روپے تک پہنچ گیا۔ ایک درجن کیلے کی قیمت میں 55 روپے اضافہ ہوا اور اسکا ریٹ 24 روپے سے بڑھ کر 79 روپے درجن تک پہنچ گیا۔ ایک کلو گھی کی قیمت میں تقریباً 95 روپے کا اضافہ ہوا اور اسکی قیمت 70.54روپے سے بڑھ کر 166روپے تک پہنچ گئی۔ ایک کلو چینی کی قیمت میں 22 روپے اضافہ ہوا اور اسکی قیمت 29.30 روپے سے بڑھ کر 52 روپے تک پہنچ گئی۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران مہنگائی کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا محور طاقت ور طبقوں کو مراعات دینا اور انکا بوجھ کروڑوں عوام کو منتقل کرنا رہا ہے۔ اس دوران کرپشن بھی بڑھتی رہی جس میں حکمران طبقے کے افراد بھی ملوث رہے۔ جبکہ ریاست اور ریاستی اداروں کے شاہانہ اخراجات بڑھتے رہے بجٹ خسارہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ رہا جبکہ سرمایہ کاری اور بچتوں کی شرح میں زبردست کمی ہوئی حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا دی اور پٹرولیم مصنوعات، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافہ کرکے انکو ٹیکس چوری سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کا ذریعہ بنا لیا۔ خصوصاً پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ آئین پاکستان کی دفعہ 3 کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور حکومتی اختیارات کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے حکومت صرف پیٹرول کی مد میں 300 ارب روپے سالانہ آمدنی حاصل کر رہی ہے موجودہ حکومت کے دور میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی، سٹیٹ بنک وزارت خزانہ کا ذیلی ادارہ بن گیا اور بنکاری نظام کو استحصالی بنا کر معیشت کو تباہ کر رہا ہے اور مہنگائی میں اضافہ کرا رہا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں کھانے پینے کی اشیاءاور ادویات کی قمیتوں میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد کل آبادی کے مقابلے میں 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس سے ملکی سلامتی کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا سالانہ 4 لاکھ روپے تک ہر قسم کی آمدن پر انکم ٹیکس عائد کیا جائے پٹرولیم لیوی کو ختم کیا جائے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو زیادہ سے زیادہ 5 فیصد مقرر کیا جائے، کرپشن پر قابو پایا جائے، ان اقدامات سے ملک سے غربت اور مہنگائی ختم ہو سکتی ہے۔