ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے پاک آزادانہ انتخابات ضروری ہیں : محمد نواز شریف

ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے پاک آزادانہ  انتخابات  ضروری ہیں : محمد نواز شریف

لاہور (فرخ سعید خواجہ) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، بلوچستان کا مسئلہ بلوچوں کی حقیقی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر بخوبی حل کیا جا سکتا ہے ایجنسیوں کے اثر و رسوخ سے پاک آزادانہ و منصفانہ انتخابات ا صلاح احوال کے لئے ضروری ہیں۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا ٹھوس آئینی اہتمام کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام جماعتوں نے اعتماد کیا ہے۔ نگران حکومتوں کا قیام حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے سے عمل میں آئے گا جس کے لئے ہم نے پارلیمنٹ سے باہر کی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ انرجی، اکانومی اور ایجوکیشن مسلم لیگ (ن) کے بنیادی اہداف ہیں اور خوددار، خوشحال، خودمختار پاکستان ہماری منزل ہے، ہنگ پارلیمنٹ کی قیاس آرائیاں بعض حلقوں کی خواہش کہہ سکتے ہیں۔ باشعور عوام کے سامنے سب کا ٹریک ریکارڈ ہے وہ کیوں نہیں ایسی قیادت کو چنیں گے جو قومی خدمت اور عوام کی فلاح و بہبود کا ریکارڈ اور اپنے ایجنڈا پر عملدرآمد کیلئے آزمائی ہوئی ٹیم رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوائے وقت سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ محمد نواز شریف نے کہا کہ الیکشن 2008ء کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس میں حصہ لینے کا مسلم لیگ (ن) کا فیصلہ دوست تھا۔ پارلیمنٹ میں ہماری موجودگی کے باعث 17 ویں ترمیم کے ذریعے ایوان صدر کے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ہوا، صوبائی خودمختاری کی حدود و قیود جیسے دیرینہ معاملات پر اتفاق رائے ہوا، 18 ویں ترمیم کے ذریعے آزاد و خودمختار الیکشن کمشن اور غیر جانبدار نگران حکومتوں کا فیصلہ ہوا، ہماری وجہ سے این آر او کو پارلیمنٹ سے تحفظ نہ مل سکا اور ہماری مخالفت ہی کی وجہ سے مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو ”انڈیمنٹی“ نہ مل سکی اگر ہم پارلیمنٹ سے باہر ہوتے تو کیا یہ سب کچھ ممکن تھا۔ متناسب نمائندگی کے طریقہ انتخاب کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام کو کسی نامانوس نظام کی آزمائش میں ڈالنے کی بجائے پہلے سے مروجہ ایک آدمی ایک ووٹ کا نظام ہی جاری رہنا چاہئے۔ دہشت گردی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے بھی ہمارے ہاں حالات اطمینان بخش نہیں تھے بعض لوگ اس کی کڑیاں افغان جنگ سے جوڑتے ہیں اس کے علاوہ فرقہ واریت کے بھی پاکستان پر اثرات پڑے اور یہاں مسلح تنظیمیں وجود میںآ گئیں لیکن نائن الیون کے بعد مشرف کی پالیسی کے نتیجے میں یہ سلسلہ بے قابو ہو گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستان کو پالیسی پر ازسرنو غور کی ضرورت ہے اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی قراردادیں اور آل پارٹیز کانفرنس کی سفارشات کو بنیادی نکات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے بحران نے پاکستان کو تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ 1999ءمیں پاکستان میں وافر بجلی تھی اور بھارت ہم سے بجلی خریدنا چاہتا تھا لیکن مشرف دور میں توانائی کی بڑھتی ضروریات کو نظرانداز کیا گیا پھر اپنے آخری سال 2007ء میں مزید ظلم کرتے ہوئے آئی پی پیز کو ادائیگی روک دی گئی تاکہ ان رقوم سے انتخابی مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ اس سے ”سرکلر ڈیٹ“ کا سنگین مسئلہ نئی حکومت کو ورثے میں ملا لیکن بدقسمتی سے انہوں نے توانائی کے مسئلے کے دیرپا حل کیلئے منصوبہ بندی کرنے کی بجائے رینٹل پاور پالیسی اختیار کی اس میں جو گھپےل ہوئے اس کی نشاندہی سپریم کورٹ کر چکی ہے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے اور سندھ کی قیادت کو کالا باغ ڈیم کے بارے میں تحفظات تھے آج بھی معاملہ جوں کا توں ہے توانائی کی ضرورت اور افادیت اپنی جگہ لیکن قومی یکجہتی اور ملی اتحاد اس سے اہم تر ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع بروئے کار لا کر اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ عدلیہ اور حکومت کی محاذ آرائی کے با رے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی اچھی حکمرانی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کے احترام کا کلچر فروغ پا سکتا ہے۔ آج کی عدلیہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ ہے جس پر چاروں صوبوں کے عوام اعتماد کرتے ہیں اور یہ ہماری قومی یکجہتی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ موجودہ حکومت نے بادل ناخواستہ عدلیہ بحال کی چنانچہ ان کی طرف سے عدلیہ کے فیصلوں سے روگردانی کا سلسلہ جاری ہے اب تو معاملہ باقاعدہ منصوبے کے تحت ججوں کی توہین اور تمسخر تک جا پہنچا ہے۔ یہ صورتحال نہایت افسوسناک بلکہ خطرناک ہے۔ اس سوال پر کہ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں آپ کا بھارت کے لئے نرم رویہ اور دونوں ملکوں کے درمیان ویزا نرم کرنے کی تجویز گراں گزرتی ہے کیا پہلے مسئلہ کشمیر حل نہیں کرانا چاہئے؟ نواز شریف نے جواب دیا کہ اس میں کیا شک ہے کہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان سب سے دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔ انہوں نے 1999ء کے آغاز میں وزیراعظم واجپائی کی لاہور آمد اور پھر کارگل ہونے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی تاریخ بہت طویل ہے۔ آج کی دنیا معیشت کی دنیا ہے اپنے معاشی مقاصد کے لئے مختلف ممالک دیرینہ تنازعات کے باوجود قریب آ رہے ہیں اپنے پڑوس میں چین، ہانگ کانگ، میکاﺅ اور تائیوان کا معاملہ اس کی اہم مثال ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاملات میں ہمیں اپنے صنعتی و تجارتی مفادات اور قومی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے، معاملات آگے بڑھیں گے تو کشمیر سمیت دیگر تنازعات کے پرامن حل کے لئے دباﺅ بھی بڑھے گا۔ اس میں دونوں ملکوں کی لابیاں بھی اپنا کردار ادا کرینگی۔ قومیت پرست جماعتیں اور مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کے حوالے سے سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قوم پرست جماعتوں سے قربت کے نتیجے میں ملک میں قومی یکجہتی کا عمل آگے بڑھا ہے۔ سندھ کے علاوہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سے بھی ہمارے رابطے اور خوشگوار تعلقات ہیں۔ جہاں تک مسلم لیگی دھڑوں سے اتحاد کا معاملہ ہے، ”ہم خیال“ سے معاملات طے پا چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی اپنی شناخت ہے آئین کی پاسداری، جمہوریت سے ناقابل شکست وابستگی اور خود احتسابی اس شناخت کے اہم پہلو ہیں۔ مسلم لیگ کا جو بھی دھڑا اس شناخت کو اپنانے پر آمادہ ہو، اس کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ہم اعلی تر قومی مقاصد کے لئے الیکشن سے پہلے اور بعد میں بھی ہر ایک کے ساتھ تعاون اور مفاہمت کے لئے تیار ہیں۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف نے کہا ہے کہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ وہ کہتے کچھ کرتے کچھ اور ہیں، عوام کو جھوٹے وعدوں اور نعروں سے اب نہیں بہلایا جا سکتا، 90 روز میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرنے والے سچ نہیں بول رہے، کسی کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) گجرات کے رہنماﺅں چودھری مظہر اقبال اور بریگیڈئر (ر) الیاس سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارکن الیکشن کی تیاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نئے لوگ اقتدار میں آکر عوام کی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے کی باتیں کر رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) اپنے ادوار میں اسکا آغاز کر چکی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ حکمرانوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہے ‘ آج غریب عوام دو وقت کی روٹی کے حصول کےلئے پریشان ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اگر وفاقی حکومت کرپشن ‘ لوٹ مار اور عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے ملک و قوم کے لئے سوچتی تو آج ملک کے حالات کچھ اور ہوتے۔ حکومت نے لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر عوام کو اندھیروں میں رکھا اگر وفاق میں بیٹھے حکمران حکومت سنبھالتے ہی توانائی بحران پر توجہ دیتے تو آج لوڈ شیڈنگ میں کافی حد تک کم ہو چکی ہوتی۔ نوازشریف نے کہا کہ پانچ سال پہلے عوام سے جھوٹے وعدے کرنے والے اب کس منہ سے قوم کے سامنے جا رہے ہیں۔