انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے :پیر صبغت اللہ راشدی .......پیر پگاڑا یوسف رضا گیلانی ملاقات

خبریں ماخذ  |  خبر نگار
انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے :پیر صبغت اللہ راشدی .......پیر پگاڑا یوسف رضا گیلانی  ملاقات

لاہور (خبرنگار) حروں کے روحانی پیشوا مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا، پیر صبغت اللہ راشدی نے کہا ہے انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے، کراچی میں تو اب دن کے وقت بھی گھر سے باہر نکلتے ڈر لگتا ہے۔ پی پی پی سے اتحاد میرے والد نے کیا تھا، آئندہ اتحاد کا فیصلہ حالات کے مطابق وقت آنے پر ہو گا جبکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے موجودہ وزیراعظم کو بھی میری طرح نکالا گیا تو انتخابات نہ ہونے کی قیاس آرائیاں درست ثابت ہو جائیں گی۔ پیرپگاڑا سے اتحاد صرف صوبے نہیں مرکز میں بھی ہے۔ ہماری کوشش ہے یہ اتحاد برقرار رہے۔ ان خیالات کا اظہار پیر پگاڑا اور یوسف رضا گیلانی نے یہاں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیر پگاڑا نے کہا وہ اور یوسف رضا گیلانی اکٹھے کھیل کود کر بڑے ہوئے ہیں۔ ان کے گھر آمد کا مقصد سیاسی نہیں تھا مگر ملاقات میں سندھ سمیت سارے معاملات پربات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا نواز شریف سے ان کے ذاتی تعلقات ہیں اور وہ نہ صرف چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں بلکہ بڑی عزت کرتے ہیں۔ سندھ میں حالات کے بارے میں انہوں نے کہا حکومت کا حالات پر کنٹرول نہیں رہا، خدا کرے حکومت حالات کنٹرول کرے ورنہ مزید حالات بگڑے تو پورے ملک پر ان کا اثر پڑے گا۔ حکومت کو کراچی میں ایماندار افسران لگانا ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سوئس حکومت کو خط لکھنے کے سوال پر انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے ساتھ کسی طرح کا اختلاف اور جھگڑا مناسب نہیں کوئی نہ کوئی درمیانی راستہ نکالنا چاہئے۔ کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل ہونا چاہئے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا تمام ادارے آئین میں طے کئے گئے حدود و قیود کے اندر رہیں گے تو اداروں میں تصادم نہیں ہو گا۔ پیرپگاڑا نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے انہیں دور کریں گے مل کر اکٹھے رہیں گے۔ صدر زرداری کی بھی خواہش ہے سب کو ساتھ لیکر چلیں اور ملکر الیکشن لڑیں۔ انہوں نے کہا راجہ پرویز اشرف کو سپریم کورٹ پیشی کے حوالے سے میرا مشورہ یہی ہے جیسی میری عزت افزائی ہوئی اسے ملحوظ خاطر رکھ کر ہی جائیں۔ سوئس حکومت کو خط لکھنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا اس حوالے سے فیصلہ پارٹی نے کرنا ہے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے پابند ہیں۔ زرداری جب تک صدر مملکت ہیں ان کو استثنیٰ حاصل ہے۔ سرائیکی صوبے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب کو تقسیم کرنے کی بات نہیں ہو رہی۔ قرارداد منظور کرکے بعد اب اس کی مخالفت کرنا غلط ہے۔ یہ کروڑوں محروم عوام کا مسئلہ ہے ان کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہئے۔