آئندہ الیکشن اتحادیوں سے مل کر لڑینگے اور مخالفین کو شکست دینگے : صدر آصف علی زرداری

آئندہ الیکشن  اتحادیوں سے مل کر لڑینگے اور مخالفین کو شکست  دینگے : صدر آصف علی زرداری

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ) ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ کابینہ کے ارکان نے صدر کو ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی کور کمیٹیوں کے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں بریف کیا اور صدر کو بتایا گیاکہ دونوں جماعتیں سندھ میں بلدیاتی نظام کے بارے میں بہت سے معاملات پر اتفاق رائے ہوسکا ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان نے بتایا کہ صدر نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت تھی کہ اس حوالے سے میڈیا رپورٹیں درست نہیں۔
کراچی (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہونگے، یہ الیکشن کا سال ہے۔ اتحادیوں کو ہر معاملے میں ساتھ لے کر چلیں گے، آئندہ الیکشن اپنے اتحادیوں سے مل کر لڑینگے اور مخالفین کو شکست فاش دینگے۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے۔ حکومت اتحادیوں کو ہر معاملے میں ساتھ لے کر چلے گی۔ شفاف انتخابات کرائیں گے اور اتحادیوں کیساتھ مل کر میدان میں اتریں گے‘ غیر جمہوری عناصر پیپلزپارٹی کو اتحادی جماعتوں سے لڑانا چاہتے ہیں‘ پیپلزپارٹی کے رہنما اتحادی جماعتوں کیخلاف بیان بازی سے گریز کریں‘ عبدالقادر پٹیل اپنے بیان کی فوری وضاحت کریں‘ اتحادیوں کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بڑی کامیابی سے 4 سال مکمل کئے یہ موجودہ حکومت کا آخری سال ہے، عوام سے وعدے پورے کرینگے۔ وہی جماعت کامیاب ہو گی جس نے عوام کی خدمت کی ہو گی۔ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں اسے پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے‘ سندھ میں بلدیاتی نظام کیلئے اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے قانون سازی کی جائے‘ عوام سے رابطوں کو فروغ دیا جائے‘ بعض لوگ پنجاب سے آکر سندھ کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہاﺅس میں پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیراعلی سندھ‘ وفاقی اور صوبائی وزرائ‘ کور کمیٹی کے ارکان اور سندھ سے پیپلزپارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی مفاہمت کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے اور اسی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اتحادیوں کیخلاف بیان بازی سے گریز کریں۔ کسی قسم کی الزام تراشی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیاسی کارکنوں کا قتل افسوسناک ہے۔ ہم تحمل سے غور کریں گے کہ ہمارے کارکنوں کو کون قتل کر رہا ہے۔ جلد بازی میں کسی پر بھی الزامات نہ لگائے جائیں۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے قتل کی تمام پہلوﺅں سے تحقیقات کی جائیں پارٹی کے شہید ہونے والے کارکنوں کے اہلخانہ کو ایک ہفتے کے اندر پانچ لاکھ روپے فی خاندان معاوضہ ادا کیا جائے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں اور اس حوالے سے سندھ میں اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے بلدیاتی نظام کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کا مسودہ تیار کرکے آئندہ دو ماہ میں اسمبلی سے منظور کرایا جائے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے اتحادیوں سے مشاورت کی جائے۔ بلدیاتی نظام ختم ہونے سے قبل آرڈیننس جاری کردیا جائے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ‘ وزیر قانون ایاز سومرو اور وزیر بلدیات آغا سراج درانی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جو بلدیاتی نظام کے حوالے سے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کرے گی۔ پارٹی رہنما حکومت کے اقدامات اور کارکردگی کے حوالے سے عوام کو آگاہ کریں۔ صدر نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ برداشت نہیں کرینگے، بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صدر نے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کیلئے آغا سراج درانی کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی جسے ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔ قبل ازیں وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں سندھ کابینہ کے وفد نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی موجود تھے۔ ملاقات کرنے والوں میں پیر مظہرالحق‘ آغا سراج درانی‘ رفیق انجینئر‘ سیف اللہ دھاریجو اور دیگر وزراءشامل تھے۔ ملاقات میں صوبے میں امن و امان اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری کو مجوزہ بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ دریں اثنا وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے صدر سے علیحدگی میں ملاقات کی جس میں آج سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہونے والی مجوزہ قانون سازی، پنجاب میں نئے صوبوں کے لئے قائم کئے گئے کمشن کی اب تک کی کارروائی، مسلم لیگ ن کی جانب سے کمشن کو نہ ماننے اور بعض اہم قانونی معاملات پر صدر سے مشاورت کی۔صدر سے فریال تالپور نے بھی ملاقات کی۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت اب مزید لوڈشیڈنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ ملکی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں صدر نے وزارت پٹرولیم ‘ خزانہ اور پانی و بجلی کی وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کیلئے فوری ٹھوس اور مربوط اقدامات یقینی بنائیں صدر نے یہ بات توانائی کی موجودہ صورتحال اور ملک میں بجلی کی قلت دورکرنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی پانی و بجلی کے وفاقی وزیر چودھری احمد مختار نے اجلاس کو ملک میں بجلی کی صورتحال اور طلب و رسد کے درمیان فرق کے حوالے سے بریفنگ دی انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور امید ہے کہ حالیہ بارشوں سے آبی ذخائر سے بجلی کی پیداوار میں مزید اضافہ ہوگا چیئرمین واپڈا نے مختلف ہائیڈل منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی جس میں الائی خوڑ بٹگرام ‘ جناح ہائیڈرو پاور میانوالی‘ گومل زام ڈیم جنوبی وزیرستان ایجنسی سد پارہ ڈیم سکردو‘ دوبیر خوڑ کوہستان ‘ جبن ہائیڈرو پاور مالاکنڈ اور لاریب ایچ پی پی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی اجلاس کو بتایا گیا کہ تربیلہ ڈیم کو جلد پوری گنجائش کے مطابق بھر دیا جائے گا جبکہ منگلا ڈیم میں پانی 230 فٹ گنجائش میں سے 1180 فٹ کی سطح تک پہنچ گیا ہے اجلاس کو دیامیر‘ بھاشا ڈیم منصوبے پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا وزیراعظم کے مشیر برائے پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے اجلاس کو پاور جنریشن کو تیل و گیس کی فراہمی کے بارے میں بریفنگ دی، صدر آصف علی زرداری نے وزارت پٹرولیم خزانہ اور پانی و بجلی کی وزارت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی صدر نے کہا کہ انہیں اس بارے مسلسل آگاہ کیا جائے۔ صدر زرداری کی زیر صدارت بلاول ہاﺅس میں بینظیر بھٹو ایمپلائز سٹاک آکشن پروگرام کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ، وفاقی وزراءچودھری احمد مختار، ڈاکٹر عاصم حسین اور عبدالحفیظ شیخ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سرکاری اداروں کے حصص ان اداروں کے کارکنوں میں تقسیم کرنے کے پروگرام کا جائزہ لیا گیا۔ صدر نے ہدایت کی کہ اس پروگرام کے حوالے سے جاری منصوبوں کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔