”اسلام کی سربلندی ‘ پاکستان کے تحفظ کے لئے پوری قوم متحد ہو جائے“ حمید نظامی کی 51 ویں برسی کی تقریب سے مقررین کا خطاب

”اسلام کی سربلندی ‘ پاکستان کے تحفظ کے لئے پوری قوم متحد ہو جائے“ حمید نظامی کی 51 ویں برسی کی تقریب سے مقررین کا خطاب

لاہور (سیف اللہ سپرا+ شہزادہ خالد+ میاں علی افضل) حمید نظامیؒ سچے عاشق رسول تھے، اقبالؒ اور قائدؒ کی فکر و محبت ان کی رگ رگ میں رچی بسی تھی۔ انہوں نے تحریک پاکستان کی قیادت کی اور پاکستان کو وجود میں لانے کے بعد پاکستان کو مشن اور نظریہ دیا۔ مجید نظامی کا یہ پوری قوم پر احسان ہے کہ قیام پاکستان کے مشن اور مقاصد کےلئے پاکستان کے تحفظ اور پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی دشمنوں کے مقابلہ میں وہ قوم کو بیدار کرنے اور متحد رکھنے کا جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حمید نظامیؒ اسلامی اور جمہوری اقدار کے محافظ تھے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حمید نظامیؒ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اسلام کی سربلندی اور پاکستان کے تحفظ کے لئے پوری قوم متحد ہو جائے۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے نوائے وقت کا کردار قابل تعریف ہے۔ حمید نظامی کا مشن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ میدان صحافت میں حمید نظامیؒ اور مجید نظامی کا کردار مشعل راہ ہے۔ ان دونوں بھائیوں نے ہر جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔ ان کی سوچ اور فکر کو آج عام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام تحریک پاکستان کے رہنما اور روزنامہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامیؒ کی 51ویں برسی کے سلسلے میں حمید نظامی ہال میں منعقدہ خصوصی نشست میں کیا۔ تقریب کی صدارت صدر حمید نظامی میموریل سوسائٹی کرنل (ر) امجد حسین نے کی۔ مقررین میں سابق وفاقی وزیر ایس ایم ظفر، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر رفیق احمد، سینئر کالم نویس عبدالقادر حسن، صدر سی پی این ای جمیل اطہر، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، ایڈیٹر روزنامہ نئی بات عطاءالرحمان، ایڈیٹر روزنامہ دن میاں حبیب اللہ، رکن قومی اسمبلی بیگم بشریٰ رحمان، جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال، کرنل (ر) اکرام اللہ، پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، صاحبزادہ میاں ولید احمد شرقپوری اور ایڈیٹر دی نیشن سلیم بخاری تھے۔ تلاوت قرآن مجید قاری نور محمد جبکہ نعت رسول مقبول اختر حسین قریشی نے پیش کی۔ حافظ مرغوب احمد ہمدانی اور سرور حسین نقشبندی نے کلام اقبالؒ پیش کیا۔ نظامت چیف رپورٹر خواجہ فرخ سعید نے کی۔ اس موقع پر ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی اور حمید نظامی میموریل سوسائٹی کے میاں فاروق الطاف، نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل شاہد رشید، صدر نظریہ پاکستان فورم کراچی اشفاق رسول، سیکرٹری تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ رفاقت ریاض، نوائے وقت گروپ کے سی ای او اعظم بدر، نوائے وقت گروپ کے جی ایم ایڈمنسٹریشن مجاہد سید، سنی تحریک کے رہنما نواز قادری، معاون وزیراعلیٰ پنجاب عثمان تنویر بٹ، سواتی خان اور حافظ محمودالحسن بھی موجود تھے۔ حافظ آباد کے طالبعلم آرٹسٹ ایم ولید نقاش نے بانی نوائے وقت حمید نظامی کا ہاتھ سے بنا ہوا پورٹریٹ ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی کو پیش کیا۔ کرنل (ر) امجد حسین نے کہا کہ مرنےوالے مرتے ہیں لیکن فنا نہیں ہوتے۔ حمید نظامیؒ کی روح آج بھی اس ہال میں موجود ہے۔ حمید نظامیؒ کی روح آج بہت خوش ہے اور اپنے بھائی مجید نظامی کو شاباش دے رہی ہے اس اثاثے کو پروان چڑھانے پر اور بلندی پر لیجانے پر بہت خوش ہے۔ جواہر لال نہرو نے جب یہ کہا کہ مذہب کوئی چیز نہیں سب کچھ روٹی ہے تو حمید نظامی ؒہی وہ واحد شخص تھے جو اس پر خاموش نہ رہے۔ حمید نظامیؒ کے پاس تین انمول چیزیں تھیں۔ وہ ہمیشہ سچ بولتے تھے دوسری چیز جرات مند تھے اور تیسری چیز وہ بہت زیادہ باخبر ہوتے۔ 21 اپریل 1938ءکو میں اور میرے دوست حمید نظامی بی اے کے طالبعلم تھے جس روز ہمارا انگلش کا پرچہ تھا ہمیں خبر ملی کہ علامہ اقبالؒ کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی حمید نظامیؒ جو علامہ اقبالؒ کو مرشد مانتے تھے وہ شدید پریشان ہو گئے۔ امتحان نہ دینے کا فیصلہ کیا کنٹرولر امتحان نے آدھا وقت گزرنے سے پہلے امتحانی سنٹر سے باہر نہ جانے دیا۔ اس وقت یہ بات ہر مسلمان کی زبان پر تھی کہ ”گھر گھر کہتے ہیں اقبال کا مرنا، ہر مسلمان پر ہے قیامت کا گزرنا“ انہوں نے کہا کہ آج ایٹمی پاکستان بھی نوائے وقت کا کارنامہ ہے۔ مجید نظامی نے بھی اپنے بھائی کی طرح ہمیشہ کلمہ حق کہا۔ میں جب انہیں دیکھتا ہوں مجھے حمید نظامیؒ یاد آ جاتے ہیں۔ حمید نظامیؒ صحیح معنوں میں اقبالؒ اور قائدؒ کے پیروکار تھے۔ مجید نظامی پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ انکے 3 بائی پاس ہوئے اور وہ آج بھی ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں میری دعا ہے کہ اللہ انہیں لمبی عمر عطا کرے۔ تمام صحافیوں کو مجید نظامی کو اپنا پیشوا بنانا چاہئے۔ انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگوایا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حمید نظامیؒ آسمان صحافت اور میدانِ وفا کے دیدور، نابغہ روزگار اور عہد ساز شخصیت تھے۔ وہ عاشقِ رسول تھے اور اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی فکر اور محبت ان کے رگ رگ میں رچی بسی تھی۔ انہوں نے تحریک پاکستان کی قیادت کی اور پاکستان کو وجود میں لانے کے بعد پاکستان کو مشن اور نظریہ دیا۔پوری قوم پر مجید نظامی کا احسان ہے کہ قیام پاکستان کے مشن اور مقاصد کیلئے پاکستان کے تحفظ اور پاکستان کے نظریاتی اور جغرافیائی دشمنوں اور دشمن قوتوں کے مقابلہ میں قوم کو بیدار رکھنے اور متحد رکھنے کا جہاد جاری رکھا ہے۔ زیڈ اے سلہری نے بالکل ٹھیک کہا تھا کہ حمید نظامی ؒاسلامی اقدار اور جمہوری اقدار کے محافظ تھے آج پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کی منزل حاصل کرنے کیلئے امانت و دیانت، جمہوری اقدار کی حفاظت کیلئے پوری قوم یکسو اور متحد ہو جائے۔ نوائے وقت نے عظیم قومی فریضہ سرانجام دیا کہ جہاد کشمیر، جہادِ افغانستان کی پشتی بانی کرتے ہوئے خطہ میں عالمی استعمار کے عزائم کو بے نقاب کیا اور پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کیلئے اسلامیانِ پاکستان کو بیدار رکھا۔ بھارت، ہندو بنیا جس نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا، بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف اور کشمیر میں مظلوم کشمیریوں کی مدد کر کے قیام پاکستان کے مقاصد کو زندہ رکھ کر تکمیل پاکستان کی تحریک جاری رکھی۔ بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی مدد کیلئے مجید نظامی نے بڑا بامقصد مشن جاری رکھا۔ آج بھارت بنگلہ دیش میں متحدہ پاکستان اور بھارتی سازشوں کے خلاف سینہ سپر ہونے والے افراد پر مظالم کرا رہا ہے۔ عالم اسلام بنگلہ دیش کی حکومت پر زور ڈالے تاکہ ناانصافی اور ظلم بند ہو۔ یہاں انتخابات ناگزیر ہیں۔ نوائے وقت نے قومی ترجیحات کا بالکل ٹھیک راستہ دیا ہے کہ آزادی اور خودمختاری کے حفاظت، خودانحصاری، قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم، فرقہ واریت اور تعصبات کو دفن کر کے قومی وحدت اور یکجہتی اختیار کی جائے۔ یقین ہے کہ حمید نظامیؒ کا مشن زندہ رہے گا، مجید نظامی تنہا نہیں ہم دامے، درمے اور سخنے اُن کے ساتھ ہیں پاکستان اور نظریہ پاکستان زندہ، پائندہ اور سلامت رہے گا۔ ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ حمید نظامیؒ انتقال کرنے کے باوجود ہمارے درمیان ہیں۔ حمید نظامیؒ بےباک اور جرا¿تمند صحافی تھے۔ وہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خیالات پر چلنے والے طالبعلم تھے۔ انہوں نے اپنے قائدین کے کہنے پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی تنظیم نو کی۔ حمید نظامی نے مسلمان طلبہ کو تحریک پاکستان میں شمولیت پر تیار کیا۔ حمید نظامیؒ کے اس پودے کو مجید نظامی نے تناور درخت بنایا۔ یہ انکی والدہ کی دعاﺅں کا نتیجہ ہے۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ تاریخ کو بھلا دینا قوموں کیلئے نقصان دہ ہے۔ میں حمید نظامی کی تحریروں سے آشنا ہوں، انکی تمام تحریریں بڑی سادہ ہیں جو عام آدمی کو سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ سچ کو کسی بناوٹ کی ضرورت نہیں، سچ ہمیشہ سادہ زبان استعمال کرتا ہے اور یہ سچ فوری طور پر ذہنوں پر دستک دیتا ہے۔ حمید نظامی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی تھے۔ انہوںنے ”پاکستان بن کر رہے گا“ کا پیغام گاﺅں گاﺅں پہنچایا۔ میں آج کے صحافیوں سے کہونگا کہ وہ کامیابی کیلئے حمید نظامی اور مجید نظامی کے پیروکار بن جائیں۔ میں ہر اس شخص سے محبت کرتا ہوں اور اسکا احترام کرتا ہوں جو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ سے محبت اور انکا احترام کرتا ہے۔ اجمل نیازی نے کہا کہ میں نے آج تک حمید نظامیؒ کو نہیں دیکھا لیکن انکی تحریریں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ میں نے حمید نظامیؒ کو دیکھا ہے۔ حمید نظامیؒ صحافت کی تاریخ میں ایک بڑا نام ہے جسے ہم محبت سے لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حمید نظامیؒ دوستوں کے دوست اور دشمنوںکے دشمن تھے۔ مجید نظامی، حمید نظامی کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میاں حبیب اللہ نے کہا کہ جب بھی بامقصد اور نظریاتی صحافت کا نام آتا ہے تو سب سے پہلے نظامی برادران کا نام آتا ہے۔ قوموں کی ترقی نظریات کے بغیر ممکن نہیں جس کی واضح مثال افغانستان ہے جس نے نظریاتی اور جذبہ کی قوت سے دو سپرپاورز کو ڈھیر کردیا ہے۔ جمیل اطہر نے کہا کہ میں نے حمید نظامی اور مجید نظامی کے ماتحت کام کیا اور یہ میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے بہت کچھ سکھانے پر میں انکا شکرگزار ہوں۔ نوائے وقت بند کرنیوالوں نے اسے اپنی غلطی قرار دیا۔ حمید نظامی کی ملک کیلئے بہت سی خدمات ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ صاحبزادہ میاں ولید احمد شرقپوری نے کہا کہ حمید نظامی تحریک پاکستان کے بڑے ناموں میں سے ایک بڑا نام ہیں۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد مجدد الف ثانیؒ نے رکھی۔ قائداعظمؒ کی رہنمائی میں حمید نظامی نے نوجوانوں کو اکٹھا کرکے علیحدہ وطن حاصل کیا۔ آج کے نوجوانوں کو مجید نظامی سے روشنی حاصل کرنی چاہئے۔ تحریک پاکستان کے ان رہنماﺅں کے انٹرویو کئے جائیں تاکہ نئی نسل کو تحریک پاکستان کے حالات سے آگاہی مل سکے۔ سلیم بخاری نے کہا کہ 40 سال صحافت میں گزارے لیکن نوائے وقت میں آنا سعادت ہے۔ نوائے وقت وہ واحد اخبار ہے جسے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ حمید نظامیؒ بڑے صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ مجاہد بھی تھے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ حمید نظامیؒ کی اکنامکس کے حوالے سے بھی بہت خدمت ہے۔ وہ قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ کے سچے عاشق تھے۔ اقبالؒ نے قائدؒ کو خطوط میں مسلم لیگ کو عوامی جماعت بنانے پر زور دیا۔ 4 اگست 1944ءکو پلاننگ کمیٹی بنائی گئی۔ مولوی تمیز الدین، حمید نظامی ممبر بنے۔ حمید نظامی نے کہا کہ مسلم لیگ عام لوگوں کی جماعت بنے گی۔ سرمایہ داروں، جاگیرداروں سے نجات حاصل کی جائے۔ اس کمیٹی کے 23 ارکان تھے، کمیٹی کے چیئرمین انجینئر نواب جنگ بنے۔ کمیٹی میں تاجر، سائنسدان اور معاشیات کے ماہر بھی تھے۔ کمیٹی نے پاکستان کی ترقی کا 20 سالہ منصوبہ دیا۔ یہ پلان شمس الحق کے پاس موجود تھا۔ شمس الحق کے بیٹے نے اس پر کتاب بھی لکھی ہے۔ یہ پلان انتہائی جامع ہے، اس میں تعلیم میٹرک تک لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس میں زراعت، انڈسٹری کے انقلاب کو شامل کیا گیا ہے۔ حمید نظامی اس کمیٹی کے پلان کو Pursue کرتے رہے۔ قائداعظمؒ جب بھی کسی تقریب میں آتے تو انکے ساتھ ایک اخبار نویس ضرور ہوتا۔ وہ اخبار نویس حمید نظامی تھے۔ اس وقت بہت سے اخبار چھپتے تھے لیکن خبروں کی سچائی کیلئے ہم نوائے وقت کو دیکھتے۔ نوائے وقت کے ادارئیے سب اخباروں سے زیادہ پڑھے جاتے تھے۔ نوائے وقت واحد اخبار تھا جو سب سے پہلے دیکھا جاتا۔ آج بھی صبح اٹھ کر سب سے پہلے نوائے وقت دیکھا جاتا ہے۔ حمید نظامی 100 فیصد صحافی تھے، ہمیشہ سچ بولتے، دلیری سے اپنا موقف بیان کرتے، سب سے زیادہ باخبر صحافی میں یہ تین صفات ضروری ہیں جو حمید نظامی میں موجود تھیں، جو ہر کوئی جانتا تھا۔ نوائے وقت میں 15 روز میں نے بھی کام کیا۔ 1997ءمیں نظریہ پاکستان ٹرسٹ مجید نظامی نے قائم کیا جو حمید نظامی کا خواب تھا، وہ مجید نظامی نے پورا کیا۔ حمید نظامی نے نوائے وقت میں فرموداتِ اقبال کا سلسلہ شروع کیا۔ حمید نظامی ہندو ذہنیت کے بارے میں بہت لکھتے تھے۔ وہ مہاتما گاندھی کے بجائے ”مہاطمع“ لکھتے تھے۔ حمید نظامی کی وفات کے وقت میں انگلینڈ میں تھا۔ کرنل (ر) اکرام اللہ نے کہا کہ حمید نظامی کو گزرے ہوئے 51 سال ہوگئے ہیں مگر وہ آج بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ انکو یہ مقام قوم نے دیا ہے۔ حمید نظامی اور مجید نظامی لازم و ملزوم ہیں۔ انکا ایک دوسرے کے بغیر ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ علامہ اقبالؒ کی زندگی میں ہی یوم اقبال منایا گیا، میں اس وقت ہائی سکول کا طالب علم تھا۔ میں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ حمید نظامی کی زندگی پر درجنوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی نے مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی اور انکی زندگی کے پہلوﺅں پر کتابیں لکھیں۔ 1937ءکے انتخابات میں لاہور میں مسلم لیگ کو صرف ایک نشست ملی تھی۔ 1946ءمیں پورے ہندوستان میں 96 فیصد لوگوں نے ووٹ دیکر قائداعظمؒ کو مسلمانوں کا لیڈر بنا دیا۔ مسلم لیگ کیلئے حمید نظامی نے بہت کام کیا۔ وہ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی صدر بنے۔ پنجاب نے ہمیشہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان میں بھی پنجاب کو بڑی اہمیت حاصل تھی جس کے پاس پنجاب ہوتا وہو بڑا طاقتور سمجھا جاتا۔ پنجاب کی سیاست میں حمید نظامی نے اہم کردار ادا کیا۔ آج مجید نظامی بھی حمید نظامیؒ کی طرح مسلم لیگ کو اکٹھا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ملکی سیاست میں مجید نظامی کا بہت اہم کردار ہے۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ 51 ویں برسی پر میں اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ حمید نظامی بہت بڑے صحافی تھے۔ وہ بیباک اور سچ کہنے والے صحافی تھے۔ حمید نظامی نے نعرہ لگایا تھا کہ ”بن کے رہے گا پاکستان“ آج مجید نظامی کا نعرہ ہے کہ ”قائم رہے گا پاکستان“۔ آج کے دور میں جو فرقے بن گئے ہیں پاکستان بنتے وقت مسلمان کسی فرقے میں نہیں بٹے تھے۔ سب ایک تھے، آج فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ آج الیکشن رکوانے کیلئے سازشیں ہوہی ہیں، ہمیں چاہئے کہ الیکشن بروقت کرانے کیلئے کوششیں کریں۔ مجید نظامی نے بیڑہ سنبھالا ہے کہ ”قائم رہے گا پاکستان“ اللہ انہیں کامیاب کرے۔ عطاءالرحمن نے کہا کہ مجید نظامی بڑے احسن طریقے سے حمید نظامیؒ کے ادھورے مشن کو مکمل کررہے ہیں، یہ مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ مجید نظامی بڑی محنت، لگن اور بےباکی سے یہ مشن پورا کررہے ہیں۔ حمید نظامی آج بھی زندہ ہیں، بھارتی جسٹس نے ایک اخبار میں پاکستان کی صحافت کیخلاف پاکستان کیخلاف مضمون لکھا ہے۔ مجید نظامی بھی اس کا مدلل جواب دیں اور بھارتی اخباروں میں اس مضمون کا جواب شائع کرائیں۔ عبدالقادر حسن نے کہا کہ میں حمید نظامی کا واحد زندہ شاگرد ہوں۔ مجید نظامی نے حمید نظامی کا بہت ساتھ دیا اور انکے لگائے پودے کی آبیاری کی۔ حمید نظامی کی ذات پر آج تک کوئی کرپشن کا الزام نہیں لگا، وہ بہت ایماندار تھے۔ حمید نظامی کی وفات پر میں دھاڑیں مار مار کر رویا تھا۔ جنازہ بہت بڑا تھا، ایک آدمی نے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے جو اتنا بڑا ہے تو اسے کہا گیا کہ اخبار نویسوں کا پیر فوت ہوگیا ہے۔ میں نے جو کچھ حمید نظامی سے سیکھا، ہمیشہ اسکا خیال رکھونگا۔ بشریٰ رحمان ایم این اے نے کہا کہ جو لوگ قائداعظمؒ کے ساتھ تھے، وہ سب ہمارا اثاثہ ہیں۔ علامہ اقبالؒ بہت بڑے شاعر ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں میںجذبہ ایمانی پیدا کیا اور نوجوانوں کی روح میں نیا ولولہ پیدا کیا۔ حمید نظامی اقبالؒ کے بہت قریب تھے۔ ان میں اقبالؒ کا درس نمایاں تھا۔ جس نے بھی اپنی اپنی فیلڈ میں اچھے نقوش قدم چھوڑے، وہ ایک عظیم انسان ہے۔ حمید نظامی نے صحافت میں سنہرے نقوش چھوڑے ہیں جو ہمارے لئے باعث رہنمائی ہیں۔ قائداعظمؒ نے اپنی جوانی قربان کی، اپنا لہو قربان کیا، حمید نظامی نے اپنا دل قربان کیا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم دورِ نظامی میں زندہ ہیں۔ آج کے اینکر پرسن قائداعظمؒ کی شخصیات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں نظریہ پاکستان کی بات کرتی ہوں اس لئے اینکر پرسنز نے مجھے پروگراموں میں بلانا چھوڑ دیا ہے۔ واہگہ بارڈر پر بھارت نے لکھا ہے کہ ”یہ عارضی دیوارِ برلن ہے“ میں نے اس پر احتجاج کیا۔ کیا میرے سوا کسی نے وہ نہیں دیکھا، کسی نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ ہماری حکومتیں کیوں نہیں یہ تحریر دیکھتیں اور بھارت سے احتجاج کیوں نہیں کرتیں کہ واہگہ بارڈر کو عارضی دیوارِ برلن کیوں لکھا ہے۔تقریب کے اختتام پر ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی نے حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا۔