غلام اسحق نہیں بنوں گا‘ جیتنے والوں کو اقتدار دے دوں گا‘ ایران سے گیس منصوبہ کوئی نہیں روک سکتا : زرداری

غلام اسحق نہیں بنوں گا‘ جیتنے والوں کو اقتدار دے دوں گا‘ ایران سے گیس منصوبہ کوئی نہیں روک سکتا : زرداری

لاہور (حافظ طارق محمود / وقت نیوز) صدر نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی، آزاد قوم کی حیثیت سے اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، کوئی ہم سے جمہوریت نہیں چھین سکتا، اتنا آسان نہیں کہ الیکشن وقت پر نہ ہوں۔ غلام اسحاق نہیں بنوں گا جو اکثریت حاصل کرے گا اقتدار منتقل کر دوں گا۔ نگران حکومت 60 روز میں الیکشن کرائے گی جس کے قیام کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں مشاورت جاری ہے۔ وہ سینئر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ صدر زرداری نے گوادر پورٹ اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبوں کو قومی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایران سے معاہدہ کیا جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں اگر خطے میں کسی اور ملک کو یہ اجازت حاصل ہے وہ میں کیوں نہیں، آزاد ملک کی حیثیت سے اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ بہت سے اتار چڑھا¶ کے ساتھ جمہوری حکومت نے 5 سال مکمل کئے ہیں، اب کوئی ہم سے جمہوریت نہیں چھین سکتا، کسی نے کوشش کی تو بھرپر مزاحمت کریں گے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ الیکشن نظر نہیں آتے ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ا تنا آسان نہیں کہ انتخابات وقت پر نہ ہوں، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے، میں غلام اسحاق نہیں بنوں گا جو اکثریت حاصل کرے گا اقتدار اسے منتقل کر دوں گا۔ آئین کے تحت نگران حکومت کا کام صرف 60 روز میں الیکشن کرانا ہے جس کے قیام کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت جاری ہے جس طرح سیاسی قوتوں نے ماضی میں مل کر فیصلے کئے ہیں یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔ جب صدر زرداری سے پوچھا گیا کہ انتخابات میں نوازشریف، عمران خان اور دیگر قائدین خطاب کریں گے تو پیپلز پارٹی کی طرف سے آپ کو یہ موقع حاصل نہیں ہو گا کیونکہ آپ صدر ہیں، اس پر صدر زرداری نے یوسف رضا گیلانی کا ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تخت لاہور کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق دینا پڑیں گے۔ یہ پیپلز پارٹی ہی ہے جس کی وجہ سے دیگر سیاسی قوتیں عوام سے رابطے کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں اور یہ جمہوریت کے لئے نیک شگون ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کچھ سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہیں لیکن سیاسی قوتوں کے مضبوط ہونے سے نان اسٹیٹ ایکٹر کمزور ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سیاسی قوت ہیں اگر سیاسی قوتیں مل کر امن کا راستہ نکالیں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے نوجوانوں کو متوجہ کرنے کی کوششوں کے سوال پر صدر آصف زرداری نے بلاول بھٹو کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قیادت بھی نوجوان کے ہاتھ میں ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان کی برآمدات 300 بلین ڈالر تک پہنچیں اور یہ نامکن ہدف نہیں ہے۔ متعدد سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر مملکت زیر لب مسکراتے ہوئے کہتے رہے کہ عدالت نے میری سیاست پر پابندی عائد کر رکھی ہے لہٰذا میں کوئی سیاسی بات نہیں کرتا۔ صدر زرداری نے کہا لاہور میں گھر بنانا جیل کے دنوں سے میری خواہش تھی جو اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل کے دنوں میں مجھ سے ملنے والے میری اس خواہش سے اچھی طرح واقف ہیں، لاہور میں گھر بنانے سے کچھ محلے والوں کو پریشانی ہوئی ہے مگر اب تو میں محلے میں آ گیا ہوں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان آزاد ملک ہے‘ دنیا کی کوئی طاقت پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ نہیں روک سکتی‘ ملک میں پاک ایران گیس پائپ لائن اور گوادر چین کو دینے پر وزیراعظم قومی اتفاق رائے پیدا کریں گے‘ ملک میں جمہوریت قائم رہے گی اور کوئی طاقت جمہوریت چھین سکتی ہے اور نہ ہی عام انتخابات میں تاخیر ہو گی‘ بروقت اور شفاف انتخابات کروائیں گے‘ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے امریکی وزیر کی جو بات سامنے آئی ہے وہ سب کے سامنے ہے اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا‘ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ نواز شریف سے بار بار کی کوششوں کے باوجود تعزیت نہیں کر سکا کیونکہ نواز شریف نے مجھے اس کیلئے اجازت ہی نہیں دی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کسی تقریب میں شریک آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو نہیں پہچانا تو یہ کوئی بڑی بات نہیں‘ ہو سکتا ہے فخر الدین جی ابراہیم فوجیوں سے کم ملتے ہوں‘ فخر الدین جی ابراہیم انتہائی قابل احترام ہیں اور وہ ملک میں شفاف انتخابات کروانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کارکردگی کی بنیاد پر قوم کے سامنے جائیگی اور قوم کا جو بھی فیصلہ ہو گا وہ ہم قبول کریں گے کیونکہ پیپلز پارٹی عوامی فیصلوں پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ صدر نے کہا کہ مجھے 1994ءمیں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا خیال آیا اور خدا کا شکر ہے کہ آج ہم ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہم امریکہ کے ساتھ بھی بات کریں گے لیکن ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کا فیصلہ حتمی ہے۔ جمہوریت کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا، اتنا آسان نہیں کہ انتخابات وقت پر نہ ہوں، اب تخت لاہور بھی سمجھ گیا کہ جنوبی پنجاب کو حقوق دینا ہوں گے، ایران گیس پائپ لائن ہماری قومی ضرورت ہے، توانائی بحران کے لئے کسی بھی صوبے نے اپنا کردار ادا نہیں کیا، انتخابات وقت پر ہوں گے، میں پہلا شخص ہوں جو اقتدار منتقل کروں گا۔ نگران وزیراعظم کے لئے اپوزیشن کے تجویز کردہ ناموں کا انتظار ہے۔