الیکشن کمشن نے کراچی میں حلقہ بندیوں سے متعلق حکم پر عمل نہیں کیا : سپریم کورٹ

الیکشن کمشن نے کراچی میں حلقہ بندیوں سے متعلق حکم پر عمل نہیں کیا : سپریم کورٹ

کراچی (نوائے وقت نیوز/ ثناءنیوز) سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمشن نے کراچی میں حلقہ بندیوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ عبوری حکم نامہ 27 صفحات پر مشتمل ہے۔ حکم نامے میں جسٹس خلجی عارف کا 6 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔ جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں لارجر بنچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ عبوری حکم نامہ میں یہ بھی کہا گیا کہ حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری کی کوئی شرط شامل نہیں۔ مختلف طبقات کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا۔ عدالت کو نہیں بتایا گیا کہ انتخابات سے قبل حلقہ بندیاں کیوں نہیں ہو سکتیں۔ یہ بات مانتے ہیں کہ 1988ءکے بعد ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی۔ الیکشن کمشن کو حلقہ بندیوں میں تبدیلی کا مکمل اختیار ہے۔ 1973ءحلقہ بندی ایکٹ الیکشن کمشن کے اختیارات پر پابندی نہیں لگاتا۔ الیکشن کمشن کئی میٹنگز کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کراسکا۔ حلقہ بندی کے متعلق ایم کیو ایم نے اپنی اپیلوں پر زور نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کی درخواست بھی عدم پیروی پر مسترد کی گئی۔ الیکشن کمشن کو عملدرآمد کی ہدایت کی تھی مگر متعلقہ حکام نے ایک سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا۔ جسٹس خلجی عارف کے اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ حلقہ بندیوں کی تفصیل آبادی، جغرافیائی، انتظامی یونٹ اور ذرائع آمدورفت مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، قانون کے مطابق انتخابی حلقے مساوی آبادی پر مشتمل ہونا چاہئیں۔ وطن پارٹی کیس کے فیصلے میں کراچی میں انتخابی حلقے بڑھانے کا نہیں حلقہ بندی کرنے کا کہا گیا۔ اضافی نوٹ میں جسٹس خلجی عارف نے زور دیا کہ صاف شفاف اور غیرجانبدار انتخاب الیکشن کمشن کی ذمے داری ہے۔ عدالت نے حلقہ بندیوں کے حوالہ سے حکم دیا تھا یہ محض آبزوریشن نہیں تھی۔ فیصلے احکامات ہیں، ان پر من و عن عمل کیا جائے، الیکشن کمشن کی نظرثانی درخواست آئین کے مطابق نہیں انتخابات سے قبل کیوں حلقہ بندیاں ممکن نہیں عدالت نے فیصلہ میں آرٹیکل 51کا مکمل متن شامل کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کا حلقہ بندیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، 1974ءکا ایکٹ نئی حلقہ بندیوں پر پابندی نہیں لگاتا۔