’’مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں‘ تحریک انصاف بھی لچک دکھائے ‘‘ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس

’’مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں‘ تحریک انصاف بھی لچک دکھائے ‘‘ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس

مری (نوائے وقت رپورٹ+ نیشن رپورٹ+ آئی این پی) عمران خان کے آزادی مارچ اور طاہر القادری کے انقلاب مارچ کے حوالے سے مری میں مسلم لیگ (ن) کا طویل مشاورتی اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ اسحاق ڈار، سعد رفیق اور چودھری نثار نے وزیراعظم کو عمران خان کے لانگ مارچ سے نمٹنے کیلئے کئے گئے انتظامات پر اعتماد میں لیا۔ ملاقات میں آپریشن ضربِ عضب کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم نے وفاقی وزراء کے ساتھ ساتھ اپنے قر یبی کاروباری دوستوں سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ 14 اگست کو تحریک انصاف کے لانگ مار چ کے حوالے سے وزیراعظم نے دوستوں کو بتایا کہ وہ ہرگز کوئی ایسا اقدام نہیں کریں گے جس سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کی صورتحال پیدا ہوجائے۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں تحریک انصاف کے 14 اگست کو ہونیوالے آزادی مارچ سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ چودھری نثار کو تحریک انصاف کے سربراہ سے ملاقات کر کے معاملہ افہام و تفہیم سے سلجھانے کا ٹاسک دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز وزیراعلیٰ شہبازشریف نے وزیراعظم نوازشریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ آن لائن کے مطابق عمران خان سے چودھری نثار کی چار نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے ملاقات کل متوقع ہے جس میں نئے انتخابات کے سوا تمام مطالبات پر مذاکرات کیلئے ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی جائیگی۔ چار حلقوں کی کمپیوٹرائزڈ تصدیق، الیکشن کمشن کی تشکیل نو، انتخابی اصلاحات کے پی ٹی آئی بل کی مکمل حمایت اور خیبر پی کے میں آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے اربوں روپے فراہم کئے جانے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں ضربِ عضب آپریشن کا پہلا مرحلہ بھی اسی عرصے میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف بھی وزیراعظم سے ایک ملاقات کرنیوالے ہیں، اس ملاقات میں وہ وزیراعظم کو فوجی آپریشن کے حوالے سے آگاہ کریں۔ مذاکرات کے حوالے سے ذرائع نے دی نیشن کو بتایا کہ طے پایا ہے کہ معاملہ کو حل کرنے کیلئے مذاکرات کے آپشن کو ہی ترجیح دی جائیگی تاہم مارچ سے نمٹنے کیلئے دیگر تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ چودھری نثار نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں کئے گئے اقدامات کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ انکا کہنا تھا کہ فوج صرف حساس مقامات کی سکیورٹی پر مامور ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آنیوالے دنوں میں عوام میں اس بات کو اجاگر کرنے کیلئے کوشش کی جائیگی کہ احتجاج اور دھرنوں کی سیاست ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے تحریک انصاف کی طرف سے مذاکرات سے انکار کی صورت میں ہوم ورک مکمل کر لیا ہے۔ تحریک انصاف نے اب تک ریلی کیلئے درخواست نہیں دی اور امکان ہے کہ حکومت اس کی اجازت بھی نہیں دیگی اور انہیں ڈی چوک میں اکٹھا نہیں ہونے دیا جائیگا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل مشاورت کے باوجود کوئی بریک تھرو سامنے نہیں آسکا۔ ادھر تحریک انصاف کے اندر بھی ایک گروپ ایسا موجود ہے جو مذاکرات کے حق میں ہے۔ انکا خیال ہے حکومت سے کچھ یقین دہانیاں حاصل کرنی چاہئیں کیونکہ مارچ کی صورت میں تیسری قوت کے ایکشن پر ان پر الزام آئیگا جبکہ ایک گروپ اسکے برعکس حکومت پر دباؤ بڑھانے اور مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے فرنٹ فٹ پر آنے کا فیصلہ کیا ہے اور گزشتہ دو روز کے دوران تحریک انصاف کے مجوزہ ملین مارچ‘ آئی ڈی پیز سے منسلکہ ایشوز‘ مذہبی جماعتوں کی حمایت کے حصول سمیت مختلف پر تفصیلی مشاورت کی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اجلاس گزشتہ روز لاہور میں جبکہ مشاورت کا دوسرا راؤنڈ ہفتہ کو مری میں ہوا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مشاورت میں چودھری نثار علی خان نے اسلام آباد میں فوج کی  تعیناتی اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے باعث شرپسندوں کی طرف سے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ ذرائع نے بتایا ہے اجلاس میں اتفاق پایا گیا کہ حکومت کو اسلام آباد کے اندر قانون کے دائرہ میں  کسی احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے تاہم تحریک انصاف کی طرف سے لچک کا سگنل ملنا چاہئے۔ انتخابی اصلاحات کے عمل کو تیزی سے مکمل کرنے پر بھی مشاورت کی گئی تاکہ انتخابی عمل کو فول پروف بنایا جاسکے اور کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کی طرف سے ’’بیک ڈور‘‘ رابطہ کاری کے ذریعے کوئی لچک نظر آئی تو وزیراعظم مذاکرات کی دعوت براہ راست بھی دے سکتے ہیں۔ دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی قیادت نے اب سیاسی حالات کی نزاکت کی  بھاپ کی تپش محسوس کرنا شروع کردی  ہے تاہم انکا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس وزیر داخلہ کی  صورت میں عمران خان کے ساتھ رابطہ کرنے کا موثر ذریعہ موجود تھا اور مذاکراتی عمل کا آغاز رمضان المبارک میں کر دیا جانا چاہئے تھا تاہم وزیراعظم کے دو ہفتے تک اسلام آباد سے دوری کے باعث کوئی پیشقدمی نہیں کی جاسکی۔
وزیراعظم / فرنٹ فٹ