کراچی میں شدید بارش‘ کرنٹ لگنے سے دیواریں گرنے سے آٹھ افراد جاں بحق‘ ایمرجنسی نافذ

کراچی میں شدید بارش‘ کرنٹ لگنے سے دیواریں گرنے سے آٹھ افراد جاں بحق‘ ایمرجنسی نافذ

لاہور + کراچی + فیصل آباد (آن لائن+ نمائندہ خصوصی+ نیوز رپورٹر+ ثنا نیوز) ملک کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کراچی میں کرنٹ لگنے، دیواریں گرنے سے بچے اور خاتون سمیت 8 افراد جاںبحق ہو گئے۔ بجلی کے بڑے بریک ڈائون سے شہر کے بڑے حصے کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ شدید بارش سے کراچی شہر جل تھل ہو گیا اور مختلف سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جس کے باعث متعدد گاڑیاں خراب ہوگئیں۔ تیز ہوائوں اور بارش کے باعث سائن بورڈ گر گئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں ایف بی ایریا، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، گلشن اقبال، جیل چورنگی، کھارادر، میٹھادر اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش سے تار ٹوٹنے کے باعث 63 میں سے 5 گرڈ  سٹیشن ٹرپ کر گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق نارتھ کراچی کے علاقے بفرزون اور مچھر کالونی میں کرنٹ لگنے سے 3 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ نیول کالونی میں گھر کی دیوار گرنے سے خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں خاتون اور ایک بچہ دم توڑ گئے۔ دوسری جانب سائٹ اور گلشن مراد میں دیوار گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ شہریوں نے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انکی نااہلی ہے کہ شہر میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کے باعث لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔ سوات میں موسلا دھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ حیدر آباد میں تیز ہواو ں کے ساتھ بار ش سے جگہ جگہ پانی کھڑا ہو گیا۔ بلوچستان میں حب اور سبی میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا تاہم متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور نکاسی  آب نہ ہونے سے سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ اسلام آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ اور دیگر بالائی علاقوں میں  صبح بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹے کے دوران بھی کئی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش منڈی بہائوالدین میں 43 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ کراچی میں بارشوں کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دوسری جانب بلدیہ عظمیٰ کے تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر رئوف اختر کا کہنا ہے کہ شہری انتظامیہ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فیصل آباد سے  شہر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں موسم خوشگوار ہوگیا، لوڈشیڈنگ اور گر می کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے، وقفے وقفے سے ہونیوالی موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا، بازاروں میں موجود پکوان کی دکانوں پر شہریوں کی بڑی تعداد اُمڈ آئی، بارش ہوتے ہی گر می کے ستائے شہریوں نے سڑکوں اور تفریح گاہوں کا رخ کرلیا۔ دریں اثناء مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد ڈیموں میں پانی کی سطح مستحکم ہے۔ تربیلا ڈیم میں ایک دن میں پانی کی سطح میں چار فٹ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور پانی کی سطح 1519.95 فٹ پر پہنچ گئی۔فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1519.95 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح میں 4 فٹ اضافہ ریکارڈکیا گیا۔ ڈیم میں پانی انتہائی سطح سے 30 فٹ نیچے ہے۔ یہاں پانی کی آمد 2 لاکھ 69 ہزار 500 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 67 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ڈیم میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 47 لاکھ 99 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔منگلامیں پانی کی سطح 1224.80 فٹ اورڈیم میں مزید17 فٹ پانی بھرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد 42 ہزار 856 اور اخراج 15 ہزار کیوسک ہے۔جبکہ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 60 لاکھ 70 ہزار ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کا بہائو 57 ہزار 400 کیوسک ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کے حوالے سے محکمہ بلدیات اور حکومت سندھ کی جانب سے کئے گئے انتظامات تسلی بخش رہے ہیں۔ شہر میں مون سون بارشوں کے بعد شہر کے 80 فیصد حصہ میں کہی بھی پانی جمع نہیں ہوا ہے۔
بارش/ ڈیم