مزید 145 فلسطینی شہید‘ حملے جاری رہیں گے‘ اسرائیل کی ہٹ دھرمی‘ امریکی کانگریس نے صہیونی ریاست کے میزائل ڈیفنس سسٹم کیلئے 225 ملین ڈالر کی منظوری دیدی

مزید 145 فلسطینی شہید‘ حملے جاری رہیں گے‘ اسرائیل کی ہٹ دھرمی‘ امریکی کانگریس نے صہیونی ریاست کے میزائل ڈیفنس سسٹم کیلئے 225 ملین ڈالر کی منظوری دیدی

غزہ (اے ایف پی+ رائٹرز+ نوائے وقت رپورٹ) اسرائیل کی غزہ میں 26 روز سے درندگی جاری ہے جس سے مزید 145 شہری شہید ہو گئے جبکہ اسرائیل نے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ رفاہ پر تازہ حملوں میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت 40 فلسطینی شہید کردیئے گئے۔ یوں جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 1680 ہوگئی۔ دوسری جانب حماس کی جوابی کارروائیوں میں اب تک 66 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں 2 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ادھر امریکی ایوان نمائندگان  نے متفقہ طور پر اسرائیل کے ’’آئرن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام کو مزید فعال بنانے کیلئے ہنگامی امداد کے طور پر  225 ملین ڈالر کی منظوری دیدی۔ یہ رقم  اوبامہ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیلی فوج کیلئے مانگی گئی 3.1 بلین ڈالر امداد کا حصہ ہے۔ دریں اثناء برطانیہ کے اپوزیشن لیڈر ملی بینڈ نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کے قتل عام پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کا سلسلہ روکا جائے۔ اس امداد کی امریکی سینٹ کی متفقہ طور پر منظوری کے چند گھنٹوں بعد امریکی ایوان نمائندگان نے 8 کے مقابلے میں 395 ووٹ سے منظوری دیدی اور مسودے کو صدر اوباما کے پاس دستخط کیلئے بھیج دیا گیا۔ دریں اثناء اوباما کی طرف سے الزام کے بعد جواب دیتے ہوئے حماس نے اسرائیلی فوجی کو حراست میں رکھنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ فوجی ہیڈار گولڈن اسرائیلی حملے کے دوران ہی مارا گیا ہو۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیل کے لاپتہ فوجی سے متعلق کوئی معلومات نہیں کہ وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے۔ القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ غزہ کے جنوبی حصے میں صیہونی فوج کے فضائی حملے کے بعد وہاں لڑنے والے حماس کے تمام افراد سے ہمارا رابطہ منقطع ہوچکا ہے لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں انکا لاپتہ فوجی مارا گیا ہو۔ واضح رہے گزشتہ رات امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حماس جنگ بندی اور خطے میں امن کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے غیر مشروط طور پر اسرائیلی فوجی کو رہا کرنا ہوگا۔ دریں اثناء یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرس گینز نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے رفاہ میں اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے عملے کا ایک رکن بھی مارا گیا۔ ادھر اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کو کلیئر قرار دیتے ہوئے پناہ گزینوں کو اپنے گھروں میں واپس آنے کی اجازت دیدی ہے۔ آن لائن کے مطابق اسرائیلی جنگ کی سب سے پْر زور اور شدید مذمت لاطینی امریکی رہنماؤں نے کی ہے۔ اسرائیل کو ’دہشت گرد‘ ریاست کہا گیا ہے۔ سب سے سخت ردعمل بولیویا کے صدر ایوو مورالیس کی طرف سے سامنے آیا۔ انہوں نے اسرائیل کو نہ صرف ’دہشت گرد ریاستوں‘ کی فہرست میں شامل کیا بلکہ اپنے ملک میں تمام اسرائیلیوں کیلئے ویزا فری انٹری جیسی سہولت بھی ختم کر دی ہے۔ رواں ہفتے برازیل کی خاتون صدر ڈلما روسیف نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کو ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اسرائیلی آپریشن کو فلسطینیوں کیخلاف ’’تقریباً ایک صدی پر محیط قتل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔ پیرو، ایکواڈور، چلی اور السلواڈور نے بھی مشاورت کیلئے اپنے سفیروں کو اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے جبکہ کوسٹاریکا اور ارجنٹائن نے بھی اسرائیلی سفیروں کو طلب کیا ہے۔ خطے کے ان دونوں ملکوں میں سب سے زیادہ یہودی آباد ہیں۔ یوروگوئے کے صدر نے بھی اسرائیل سے فوری طور پر ’فوجوں کی واپسی‘ کا مطالبہ کیا تھا اور تل ابیب سے اپنے سفیر کی واپسی کی تجویز دی تھی۔ دیگر بائیں بازو کے لاطینی امریکہ کے ملک پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑ چکے ہیں۔ نکاراگوا نے 2010ء میں جبکہ وینزویلا اور بولیویا نے 2009ء کی غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کردئیے تھے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عرب ممالک کی نسبت یورپ اور لاطینی امریکہ میں اسرائیل مخالف بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ واشنگٹن میں بھی مظاہرہ ہوا۔ اے پی اے کے مطابق سیلف ڈیفنس کے نام پراسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی منظم نسل کشی جاری ہے۔ شہید بچوں کی تعداد 300 سے زائد ہوگئی۔ یونیسف کے مطابق اسرائیلی فوج نے دانستہ بچوں کو شہید کیا۔ اسرائیلی سنائپرز نے دانستہ 13 بچوں کو شہید کرنے کا اعتراف کرلیا۔ دریں اثناء حماس کے بعد اسرائیل نے بھی مصر میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں شہید ہونے والے 47 فیصد جنگجو ہیں جبکہ غزہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق شہید ہونے والوں میں 80 فیصد افراد عام شہری ہیں اور ان میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اسرائیلی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں۔ دریں اثناء این این آئی اور ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے دوران امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ کی کمک کی حالیہ خبروں کے بعد برطانیہ کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کا انکشاف بھی سامنے آ گیا ہے۔ یہ انکشاف برطانیہ کی ایک ڈیلی ویب سائٹ نے ایسے موقع پر کیا ایسے موقع پر کیا جب 2007ء سے زیر محاصرہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 1600 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ برطانوی ویب سائٹ نے برطانیہ کی طرف سے اسلحہ فراہمی سے متعلق دستاویزی حوالہ بھی دیا ہے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کو ستر ملین ڈالر کی مالیت کے اسلحہ اور دیگر جنگی سازوسامان کی فروخت کیلئے برطانوی اسلحہ سازوں کو 2010ء میں لائسنس دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق دو برطانوی کمپنیوں کی طرف سے اسرائیل کو جنگی سامان بشمول ڈرون فروخت کئے گئے ہیں۔ برطانوی خبری ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل برطانوی اسلحہ کے استعمال کے حوالے سے ایک بڑا در آمد کنندہ اور گاہک ہے۔ اس بارے میں برطانوی حکومت کے ذمہ داروں کا کہنا تھا کہ ہم آج کل اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کیلئے جاریکردہ لائسنسوں کا جائزہ لے رہے ہیں، اس حوالے سے لائسنس کے حصول کی ہر درخواست کو الگ الگ اور سخت قواعد کے تحت دیکھا جارہا ہے۔ برطانوی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ اگر برطانوی اسلحہ اندرونی تشدد اور دباو کیلئے بروئے کار آیا تو ہم آئندہ ایسے لائسنس جاری نہیں کریں گے کیونکہ اس سے تصادم طوالت اختیار کر سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والے امن مذاکرات کیلئے اپنا وفد نہیں بھیجے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے زیرِاستعمال سرنگیں تباہ کرنے کے بعد یکطرفہ طور پر غزہ سے نکل جانے پر غور کر رہا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے ایک تازہ حملے میں غزہ کی اسلامک یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس جامعہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کو کمزور کرنے میں کامیاب رہے۔ ادھر حماس نے بھی اسرائیل کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر 2 غیرملکی ٹی وی چینلز کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ سے واپس بھی جانا شروع ہوگئے ہیں۔
غزہ صورتحال