تحریک انصاف نے خیبر پی کے حکومت چھوڑی تو نئی آ جائیگی‘ استعفوں پر ضمنی الیکشن کرا دینگے : پرویز رشید

تحریک انصاف نے خیبر پی کے حکومت چھوڑی تو نئی آ جائیگی‘ استعفوں پر ضمنی الیکشن کرا دینگے : پرویز رشید

لاہور (ساجد ضیائ/ دی نیشن رپورٹ+ خصوصی رپورٹر) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دئیے تو حکومت وہاں ضمنی انتخابات کرادیگی۔ دی نیشن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر 342کے ایوان میں سے پی ٹی آئی کے 15 ارکان استعفیٰ دیدیتے ہیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا، ہم پی ٹی آئی کے استعفوں کی بات کا خیرمقدم کرینگے اور خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کرا دینگے۔ اس سوال پر کہ اگر پی ٹی آئی نے مڈٹرم الیکشن کے مطالبے کیلئے خیبر پی کے حکومت چھوڑ دی تو پھر کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ اکثریت کی بناء پر پی ٹی آئی کی جگہ نئی اکثریتی حکومت بن جائیگی۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی کے اندر ہی بغاوت کے امکان کا اشارہ کیا کیونکہ وہ ان منتخب افراد کے خلاف بات جاتی ہے کہ عوام نے انہیں 5 سال کیلئے منتخب کیا مگر وہ ایک سال بعد ہی اسے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جب ان سے پی ٹی آئی کے ساتھ بیک چینل رابطوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے سیاست کا حصہ ہیں اور حکومت نے بھی اسے اپنایا ہے تاکہ کسی نقصان کے بغیر ہی معاملات طے ہو جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک پارٹی قابل قبول طور پر مسائل کے حل اور کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہر جمہوری قوت چاہتی ہے کہ جمہوری عمل جاری رہے۔ پی ٹی آئی 5 ہزار افراد کے ساتھ اسلام آباد کو مارچ کرکے منتخب حکومت کو گرانا چاہتی ہے تو پھر آئندہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت بنتی ہے تو کوئی اور پارٹی اس حکومت کو گرانے کیلئے 10 ہزار افراد لیکر اسلام آباد جاسکتی ہے۔ یہ سارا عمل وسیع تر ملکی مفاد کے منافی ہے اور اس سے گریز کیا جانا چاہئے اسلئے ہر کوئی عمران خان کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن کی سیاست اور لانگ مارچ کو چھوڑ دیں کیونکہ یہ اس موقع پر ملکی مفاد میں نہیں ہے اسکے علاوہ پی ٹی آئی سے زیادہ جمہوری طور پر لانگ مارچ کا حق دوسری جماعتوں کی بیس، پچیس سالہ جدوجہد کا ثمر ہے۔ اپنے ایک بیان میں پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان کا اصل ایجنڈا انتخابی اصلاحات نہیں، اگر انکا ایجنڈا انتخابی اصلاحات ہوتا تو وہ پارلیمنٹ میں بات کرتے، تجاویز اور ترامیم سامنے لاتے۔ عمران خان کا مقصد جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔ عمران خان تمام صوبائی اسمبلیاں توڑ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آج تک اپنے پارٹی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا فیصلہ نہیں کرسکے حالانکہ اس ضمن میں تحریک انصاف کو کئی درخواستیں اور ثبوت بھی مل چکے ہیں۔ انتخابی دھاندلی کا واویلا محض بہانا ہے انکا اصل ایجنڈا کچھ اور ہے۔آن لائن کے مطابق ایک انٹرویو میں پرویز رشید نے کہا کہ حکومت عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ جمہوری انداز میں سیاسی مسائل حل کئے جاسکیں۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے عمران خان سے براہ راست رابطہ کیا ہے اور ان سے بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، مذاکرات سے ہی تمام مسائل بہتر انداز میں حل ہوسکتے ہیں۔ آئندہ ہفتے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ ہوگا، ہماری کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر جمہوریت کی گاڑی کو آگے بڑھائیں۔ احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔
پرویز رشید