کینیا : ”الشباب“ کا یونیورسٹی پر حملہ‘ طلباءاور عملے سمیت 147 ہلاک ‘ 79 زخمی

کینیا : ”الشباب“ کا یونیورسٹی پر حملہ‘ طلباءاور عملے سمیت 147 ہلاک ‘ 79 زخمی

نیروبی (بی بی سی+ اے ایف پی) شدت پسند تنظیم الشباب کے نقاب پوش جنگجوﺅں نے کینیا کے شمال مشرقی شہرگیرسا کی ایک یونیورسٹی میں گھس کر فائرنگ کر دی اور گرنیڈ پھینکے، طلباءاور عملے سمیت 147 ہلاک اور 79زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق طلباءسو رہے تھے۔ فوج اور پولیس اہلکاروں کے 13 گھنٹے سے آپریشن جاری رہا ،4 حملہ آور مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے پچاس طلباءکو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑا لیا۔ صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ترجمان علی محمد ریگ نے کہا کینیا کی جانب سے فوج صومالیہ بھیجنے کا بدلہ لیا ہے، عیسائی طلباءکو یرغمال بنالیا ہے جو ہماری مخالفت کرینگے انہیں قتل کردینگے۔ مسلمانوں کو چھوڑ دیا۔ پولیس چیف نے بتایا پانچ حملہ آوروں نے صومالیہ کی سرحد کے نزدیک گیریسا شہر کی یونیورسٹی میں گھس کر مسلم اور غیر مسلم طلباءکو علیحدہ کرکے پندرہ مسلمان طلباءکو یونیورسٹی سے نکلنے کی اجازت دیدی۔ حملہ آوروں نے یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور دونوں سکیورٹی گارڈز کو ہلاک کردیا۔ کیمپس کے باہر ٹینک تعینات کردئیے گئے، کینیا کے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ وزیرداخلہ نے بتایا 1998ءمیں امریکی سفارتخانے پر بم حملے کے بعد یہ بدترین حملہ ہے۔ مرنےوالوں میں اساتذہ اور عملے کے ارکان بھی شامل ہیں، آپریشن جاری ہے۔ صدر اوہورو، بان کی مون، امریکی سفیر رابرٹ گوڈک، برطانوی ہائی کمشنر نے دہشتگردی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
کینیا حملہ