نیب کرپشن کا پریمیم ادارہ بن گیا، لگتا ہے چیئرمین کو دعوت نامہ بھجوانا پڑے گا: سپریم کورٹ

نیب کرپشن کا پریمیم ادارہ بن گیا، لگتا ہے چیئرمین کو دعوت نامہ بھجوانا پڑے گا: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں ملوث رقوم، انکوائریوں، تفتیش، ریفرنس دائر کرنے کی تاریخوں، سزا و بری ہونے والے ملزمان اور ٹرائل کیسز کی موجودہ صورت حال سے متعلق درست معلومات پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر درست معلومات فراہم نہ کی گئیں تو چیئرمین نیب کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے گا جبکہ دوران سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں  ہم جس کیس کو اٹھاتے ہیں کرپشن، قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی نکلتی ہے۔ بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے جب تک توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے دوچار کو سزا نہیں ہوگی نیب کا ادارہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا، عوام کی چیخ و پکار اسے سنائی نہیں دے رہی، بغیر تفتیش ثبوت، ٹھوس شواہد کے شہری کو جیل میں بند کردیا جاتا ہے، نہیں معلوم کہ وہ کب تک جیل میں رہے گا، ایک سال یا دس سال؟ پھر عدالتی نوٹس پر ریفرنس دائر کیا جاتا ہے اگر نیب کے غفلت برتنے والے نااہل افسران کو جیل بھجوا دیا جائے تو شاہد انہیں احساس ہوکہ ایک انسان کی آزادی سلب کرنے کی کیا اذیت ہوتی ہے، نیب کے ادارے کی افادیت ختم ہوتی جارہی ہے بس شوشا رہ گیا ہے کہ نیب کرپشن کا پریمیم ادارہ بن چکا ہے جس میں شاید چیک اینڈ بیلنس کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے جمعرات کے روز کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اعظم خان نے رپورٹ پیش کی جس میں بیان کیا گیا تھا اس وقت نیب میں 744 انکوائریاں، 128 تفتیشیں اور 589 ریفرنسز زیرالتوا ہیں تاہم جسٹس جواد نے نیب کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں نامکمل معلومات فراہم کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ریمارکس دیئے نیب حکام عدالت سے ہر چیز کو مخفی رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ چیئرمین نیب کو دعوت نامہ بھجوانا پڑے گا، عدالت جو بھی حکم جاری کرتی ہے نیب حکام اسے ہی نظرانداز کر دیتے ہیں۔ اعظم خان نے ان سے استدعا کی کہ چیئرمین کی بجائے پراسیکیوٹر جنرل کو بلوا لیں جس پر عدالت نے مذکورہ حکم جاری کرتے کیس کی مزید سماعت آج جمعہ تک ملتوی کردی گئی ہے۔ نیب کے 4 مقدمات کی تفصیلات کے متعلق عدالت نے نیب افسروں سے دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کیس کے تفتیشی افسر اور ریکارڈ موجود نہیں، دو مقدمات کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کے بارے میں عدالت نے متعدد بار استفسار کیا وہ کیوں نہیں آئے انہیں تو عدالت میںپیش ہونا چاہئے تھا، صرف ان کی وجہ سے کیس کی پروسیڈنگ ادھوری رہ جائے گی وہ کدھر ہیں؟۔