فوجی عدالتوں کا پہلا فیصلہ‘ 6 مجرموں کو سزائے موت‘ آرمی چیف نے توثیق کر دی

فوجی عدالتوں کا پہلا فیصلہ‘ 6 مجرموں کو سزائے موت‘ آرمی چیف نے توثیق کر دی

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے مقدمات میں چھ مجرموں کی فوجی عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے ایک مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بی بی سی کے مطابق پشاور میں آرمی پبلک سکول پر 16 دسمبر 2014 میں ہونے والے حملہ کے بعد دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس ضمن میں پارلیمنٹ سے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم بھی کی گئی تھی۔ اس ایکٹ میں ترمیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی عدالتوں نے کسی مقدمے میں مجرموں کو موت کی سزا سنائی ہے۔ مجرمان اب بھی اس سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں تاہم یہ اپیل بھی فوجی عدالت ہی میں کی جا سکے گی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے جن افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ان میں نور سعید، حیدر علی، مراد خان، عنایت اللہ، اسرار الدین اور قاری ظہیر شامل ہیں جبکہ عباس نامی شخص کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے یہ افراد دہشتگردی کے سنگین جرائم، قتل، خودکش حملے اور لوگوں کے جان و مال کے نقصان میں ملوث تھے۔ بیان میں ان مقدموں کی تفصیل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ان فوجی عدالتوں نے ان مقدمات کی سماعت کہاں پر کی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے مجرموں کو اس سزا کے خلاف ایپلٹ کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق جن مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت دی گئی ہے اس میں ایف سی کے اہلکاروں کے گلے کاٹنے اور کامرہ میں فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے مقدمات شامل ہو سکتے ہیں۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئیٹر“ پر جاری پیغام میں بتایا گیا یہ مجرم دہشت گردی، قتل، خودکش دھماکوں، انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے وحشیانہ جرائم میں ملوث تھے۔ ان کے بقول مجرم سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ سانحہ پشاور کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت قائم کی گئی فوجی عدالتوں نے پہلا فیصلہ سنایا ہے۔ پی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے 6 دہشت گردوں کی سزائے موت کے پروانے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے دہشت گرد معصوم انسانوں کو ذبح کرنے کے قبیح جرم میں ملوث تھے۔
فوجی عدالتیں/ فیصلہ