عرب سپرنگ کے نام پر یمن میں جو نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،اس کے مرکزی کردار کون کون

عرب سپرنگ  کے نام پر یمن میں جو نیا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،اس کے مرکزی کردار کون کون

علی عبداللہ صالح کے دور میں یمن کو مغربی ممالک اور دوسرے اتحادیوں کی جانب سے القاعدہ کی سرکوبی کیلیے اسلحہ اور مالی امداد ملتی رہی 2011میں  علی عبداللہ نےعرب میں سرگرم القاعدہ کے سربراہ سامی دیان  کوصنعا میں اپنے دفتر میں بلا کر ملاقات کی،، اور آبین کا علاقہ القاعدہ کے سپر د  کردیا،مئی 2011میں  صالح کے خلاف عوامی احتجاج نے زور پکڑا تواس کا فوری اور پہلا فائدہ القاعدہ کو پہنچا اور اس نے ابین گورنری پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد آس پاس کے علاقوں کی طرف بھی پیش قدمی شروع کردی، اقتدار منصور ہادی کے  حوالے کرنے کے  بعد   علی صالح نے حوثیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک کی حکومت کو ناکام  بنانے کی  سازشیں شروع کردیں۔ یہ وہی حوثی تھے جو اس سے قبل خود ان کے خلاف بھی کئی جنگی لڑ چکے تھے۔ یہاں چونکہ دونوں کا مفاد ایک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں حکومت وقت کے خلاف متحد ہوگئے،اس وقت یمن جن گھمبیر حالات سے گذر رہا ہے اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح، ایران اور اس کے حامی حوثی قبائل بنیادی قصور وار ہیں جب کہ اس  میں  حقیقی فائدہ القاعدہ کا ہو رہا ہے
یمن ایک غریب ملک ہے جس کی 54 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے۔ اس غریب ملک کے سربراہ ہوتے ہوئے علی صالح نے عوام کا خون نچوڑنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی اور  32 سے60 ارب امریکی ڈالر کے مساوی رقم کی لوٹ مار کی ایک رپورٹ کے مطابق علی عبداللہ صالح کی ذاتی ملکیتی رقم پندرہ ارب ڈالر سے  زیادہ ہے،