عدن کے صدارتی محل پر باغیوں کا قبضہ‘ سعودی عرب کا زمینی کارروائی پر غور‘ بارڈر پر فائرنگ میں سعودی فوجی جاں بحق

عدن کے صدارتی محل پر باغیوں کا قبضہ‘ سعودی عرب کا زمینی کارروائی پر غور‘ بارڈر پر فائرنگ میں سعودی فوجی جاں بحق

صنعا (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ سعودی عرب اور اتحادی فضائیہ کی بمباری سے بھی حوثی باغیوں کی پیش قدمی نہیں رک سکی، عدن میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی حمایتی ملیشیا میں شدید لڑائی میں بیسیوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں، گلیوں میں نعشوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق حوثی قبائل عمارتوں کی چھتوں پر مورچہ بند ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حوثی باغی جنہیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کی مدد بھی حاصل ہے، عدن میں شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ یمن کے جنوبی شہر المکلا میں جیل پر القاعدہ کے جنگجو¶ں نے حملہ کیا اور جیل سے اہم رہنما خالد بطارفی سمیت 300 قیدیوں کو رہا کروا لیا۔ رائٹرز کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے وسطی عدن میں پیشقدمی کرنیوالے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی۔ اتحادیوں نے دعویٰ کیا کہ باغیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اے ایف پی نے مقامی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جیل پر حملے کے دوران دو محافظ اور پانچ قیدی مارے بھی گئے ہیں۔ سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔ خالد بطارفی القاعدہ کے مرکزی علاقائی کمانڈروں میں شامل ہیں، انہوں نے 2011-12 میں یمنی فوج کے ساتھ لڑائی میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق غیر ملکی فوجیں ساحلی شہر عدن پہنچنا شروع ہوگئی ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان فوجیوں کی قومیت کیا ہے۔ جب سے حوثی باغیوں نے صنعا میں قبضہ جمانے کے بعد سے عدن شہر کی جانب پیش قدمی شروع کی ہے، عدن میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے حوثی باغی عدن شہر پر قبضہ کرنے کے نزدیک تھے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سعودی فوج نے یمنی سرحد پر حفاظتی باڑ ہٹانا شروع کر دی۔ باڑ سعودی کمانڈر کی فائرنگ سے ہلاکت اور 10 فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد ہٹانا شروع کی گئی۔ ذرائع کے مطابق باڑ ہٹانے کے بعد زمینی پیشقدمی کا امکان ہے۔ حفاظتی باڑ سعودی یمنی سرحد کے قریب مجہ ڈسٹرکٹ کے پاس سے ہٹائی جا رہی ہیں جبکہ حوثی باغیوں کی طرف سے شدید جوابی فائرنگ کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یمن کے وزیر خارجہ نے گذشتہ روز دوسری بار زمینی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد سعودی حکام اور اتحادی زمینی دستے بھیجنے پر غور کر رہے ہیں تاہم رائٹرز کے مطابق یمن کے حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ عدن میں زمینی دستے پہنچ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں زمینی فوجی دیکھے جا رہے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق عدن سے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں نے پیشقدمی کرتے ہوئے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں باغی المشک صدارتی محل میں داخل ہو گئے۔ سعودی فوجی یمن کے بارڈر پر فائرنگ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوا جبکہ 10 فوجی زخمی بھی ہوئے۔ریاض سے اے ایف پی کے مطابق سعودی مشیر نے اس بات کی تردید کی ہے کہ عدن میں کوئی غیر ملکی فوجی بھیجے گئے۔ سعودی مشیر کا کہنا ہے کہ عدن میں پہنچنے والے جوان یمن کی سپیشل فورس سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ صدر صالح کے حمایتی ہیں جنہیں چھوٹی کشتی کے ذریعے عدن شہر کی حفاظت کے لئے بھجوایا گیا ہے۔ اتحادیوں کے مطابق یمن میں تاحال زمینی کارروائی کے لئے دستے بھجوانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی لڑائی میں 44 افراد مارے گئے۔ آن لائن کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 122 ہو گئی ہے۔ سعودی کمان میں صنعا، عدن، شبوة اور دیگر علاقوں میں حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یمن میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دریں اثناءامریکہ میں سعودی عرب کے سفیر نے بیان میں کہا ہے کہ عدن میں بری فوج بھیجنے پر غور کر رہے ہیں تاہم ابھی دستے نہیں بھیجے گئے۔ ترجمان سعودی فوج نے کہا ہے کہ عدن میں حوثی باغیوں کے خلاف حلیف قبائلیوں اور فوج سے رابطے میں ہیں۔ سعودی اور اتحادی فوج نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر کامیاب حملے کئے ہیں۔ حوثی باغیوں کا جیلیں توڑ کر قیدیوں کو چھڑا لینا افراتفری پھیلانے کے مترادف ہے۔ حوثی باغیوں نے کسی عمارت کا کنٹرول حاصل نہیں کیا۔ کوشش ہے بمباری سے عمارتوں کو نقصان نہ پہنچے صرف باغی ہلاک ہوں۔ امریکہ میں سعودی سفیر نے وضاحت کی کہ تاحال فوجی دستے نہیں بھیجے گئے۔ آئی این پی کے مطابق حوثی باغیوں کے مسلح گروپ انصار اللہ کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ یمن میں عرب اتحادیوں کے فضائی حملے جاری رہے تو انہیں سعودی عرب پر حملہ کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جوابی حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب دوسرے تمام آپشن ختم ہوجائیں گے۔ آئی این پی کے مطابق سعودی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عصیری نے کہا ہے کہ پاکستان نے فوج بھجوانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور پاک فوج کے دستے جلد اتحاد کا حصہ بن جائیں گے۔ دریں اثناءسعودی عرب کی مدد کیلئے ترکی نے اپنا بحری بیڑہ بھیجنے کا اعلان کردیا۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے جمعرات کے روز اپنی عسکری قیادت کے ساتھ مشورے کے بعد فیصلہ کیاکہ سعودی بحری حدود کی حفاظت کیلئے جلد از جلد بحری بیڑہ بحر احمر روانہ کیا جائے گا۔ اس سے قبل ترکی کی جنگی کشتیاں سعودی بحریہ کی مدد کیلئے پہنچ چکی ہیں۔ دریں اثناءیمن میں محصور روسی شہریوں کے انخلاءکیلئے روس کا دوسرا ہوائی جہاز صنعا ائرپورٹ پہنچ گیا۔
یمن لڑائی