سعودی عرب فوج بھجوانے کا معاملہ....پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کو طلب

سعودی عرب فوج بھجوانے کا معاملہ....پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس پیر کو طلب

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے یمن کے تنازع میں سعودی عرب کی مدد کے لئے فوج بھیجنے کے معاملہ پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چھ اپریل کو طلب کر لیا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ سیشن بلانے کا فیصلہ اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ آصف، امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور تینوں مسلح افواج کے سرابراہان اور دفتر خارجہ کے حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں خواجہ آصف نے سعودی حکام سے ہونے والی اپنی بات چیت کے بارے میں بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ یمن میں کارروائیوں کے لیے پاکستان کی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کے معاملے پر پاکستان میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا ایک اجلاس گزشتہ روز کراچی میں منعقد ہوا تھا جس میں خارجہ امور کے اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اور کل جماعتی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جمعرات کو وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیان کے مطابق اجلاس میں غیرریاستی عناصر کی جانب سے یمن میں حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کی گئی اور بحران کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے مذہبی و ثقافتی تعلقات ہیں اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کے خطرے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل آئے گا۔ سیکرٹری خارجہ نے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کو یمن میں محصور پاکستانیوں کے انخلا کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے یمن سے تمام پاکستانیوں کے انخلا کی کوششوں کو جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ وزےراعظم نے پارلےمنٹ کا مشترکہ اجلاس 6 اپرےل 2015ءکو طلب کرنے کیلئے صدر مملکت ممنون حسےن کو اےڈوائس بھجوا دی۔ اس حوالے سے سینٹ کا جاری اجلاس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ مشترکہ اجلاس میں سعودی عرب کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لئے پاکستان کی جانب سے بھرپور حماےت کرنے کی قرارداد منظور کئے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم کی صدارت میں سعودی عرب کی جانب سے پاک فوج بھیجنے کی درخواست پر غور کیا گیا۔ سعودی عرب کے دفاع کے لئے ہرممکن امداد کرنے کے بارے مےں مختلف آپشنز پر غور کےا گےا۔ اجلاس مےں اس بات کا اعادہ کےا گےا کہ پاکستان کا قومی مفاد پاکستان کی پالےسی کا رہنما اصول رہے گا۔ اجلاس مےں فےصلہ کےا گےا پاکستان اور سعودی عرب مضبوط تارےخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں مےں منسلک ہےں، سعودی عرب کی سلامتی کا ہر قےمت پر دفاع کےا جائے گا۔ پاکستانی حکام سعودی عرب کے حکام سے مسلسل رابطے مےں رہےں گے۔ اجلاس مےں ےمن مےں ”غےر رےاستی اداکاروں“ کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کے لئے کی جانے والی کارروائےوں کی مذمت کی اور کہا کہ فرےقےن کو اپنے اےشوز کو پرامن طور پر حل کرنے چاہئےں۔ وزےراعظم محمد نواز شرےف نے اس بحران کے پرامن حل اور مسلم امہ کے اتحاد پر زور دےا۔ وزےراعظم محمد نواز شرےف نے مزےد اس بات پر زور دےا کہ اس معاملہ پر تمام فےصلے پاکستان کے عوام کی خواہشات کے مطابق کئے جائےں گے۔ سعودی عرب کی علاقائی خود مختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ یمن میں تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہئے۔ علاوہ ازیں عالمی بنک کے وفد سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ 2013ءمیں اقتدار سنبھالتے ہوئے جو چیلنجز درپیش ہوئے وہ غیر معمولی تھے تاہم حکومت کی پالیسیوں کی بدولت معاشی اعشارئیے ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہے ہیں۔ حکومت نے توانائی، تعلیم، معیشت اور انتہا پسندی کے خاتمہ کی ترجیحات مقرر کی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کئے ہیں۔ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کر دی گئی ہیں۔ عالمی بنک کے وفد نے حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی۔ دریں ا ثناءوزیراعظم کی صدارت میں اجلاس میں توانائی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی قلت کو دور کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ 3 سال میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی گرمیوں میں شہری علاقوں میں 6 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 8 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی بچت کیلئے دکانوں اور مارکیٹوں کو جلد بند کرانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں۔ دریں اثناءوزیراعظم نوازشریف سے وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس طلب/ وزیراعظم