حکومت عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے: جسٹس جواد

حکومت عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے: جسٹس جواد

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت +آن لائن) سپریم کورٹ نے قانون کی کتابو ں کی غلط اشاعت اور ترجمہ کے بارے میں وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ جوائنٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مطاہر ریاض رانا کو بطور مانیٹرنگ ماہر مسترد کرتے ہوئے نیا ماہر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے  ذمہ داروں کے خلاف انضباطی کارروائی کر کے رپورٹ 8 اپریل تک طلب کر لی ہے خیبر پی کے نے عاصم ریاض‘ سندھ نے ڈاکٹر جاوید خواجہ‘ بلوچستان میں آئی ٹی انچارج کو مانیٹرنگ ماہر مقرر کیا گیا ہے۔ اردو ترجمے کی مانیٹرنگ کے لئے دو سابق سیکرٹریز پنجاب اسمبلی کو 10 لاکھ روپے پر مقرر کیا گیا ہے۔ دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ حکومت عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے جب سرکار کے ذہن میں آتا ہے آرڈیننس جاری ہو جاتا ہے اس کے لئے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا مگر جب عوام کی بھلائی کی بات آتی ہے تو کام نہیں کیا جاتا۔ اٹارنی جنرل کے سامنے سب کچھ ہوتا رہا اب وہ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں۔ وفاقی حکومت نے عدالتی حکم پر عمل نہ کر کے دھوکہ کیا ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین خدائی خدمت گار نہیں،  کیا کام نہ کر کے ایسے تنخواہ لینے والوں کا کوئی احتساب ہوتا ہے یا نہیں‘ آئین کا عجب استعمال ہو رہا ہے انتظار کرو پارلیمنٹ میں قانون نہ بنے‘ پارلیمنٹ جس لمحے گھر جائے گی اسی لمحے آرڈیننس جاری ہو جائے گا ہمارے پاس سوائے توہین عدالت کی کارروائی کے اور کوئی طریقہ نہیں جہاں ضرورت پڑی اسے  انشاء اللہ ضرور استعمال کریں گے۔ مطاہر ریاض رانا کی تقرری پر جسٹس جواد نے کہا کہ ہمارے حکم پر عمل نہیں کیا گیا قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتے ہیں تو بتا دیں، جسے آپ نے مقرر کیا ہے اس کی سی وی دکھائیں۔ مطاہر ریاض نے بتایا کہ انہیں ماہر مقرر کیا گیا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ماہر نہیں تھا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو بلائیں یہ ہو کیا رہا ہے۔ پہلے اور دوسرے  آرڈر پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ وہ عوام کی خیرخواہ ہے۔ آپ ہماری معاونت کریں کہ کسے توہین عدالت کا نوٹس جائے گا۔ اٹارنی جنرل کو ساڑھے گیارہ بجے بلائیں  وہ جواب دیں 13 مارچ تک ماہر مقرر کرنا تھا 2 اپریل ہو گئی ہے یہ رویہ لوگوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ پنجاب بار کونسل نے بتایا کہ بعض وکلاء کا تعلق سپریم کورٹ سے ہے ہم ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے یہ کام پاکستان بار کونسل کا ہے۔ پنجاب بار کونسل کی ممبر بشریٰ نے بتایا کہ مجھے ایکٹ کے ترجمے کا کہا گیا تھا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کے کنڈکٹ ٹربیونلز 2 سال سے غیر فعال ہیں یہ کب تک رہیں گے۔ آپ سپریم کورٹ کے وکلاء کی فہرست دیں ہم سپریم کورٹ بار اور بار کونسل سے بات کریں گے۔ ہمیں ایک وکیل کی کتاب پیش کی گئی۔ میں نے دیکھی تو باہر سے کارآمد تھی یہ ممبئی ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج کی کتاب تھی جسے ہو بہو چھاپا گیا ہے کاما‘ فل سٹاپ تک تبدیل نہیں کیا گیا وہ چھپ رہی اور بک  رہی ہے۔ اٹارنی جنرل وقفے کے بعد پیش ہوئے اور کہا کہ مجھے وقت دے دیں پراگرس کا معلوم نہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عوام کے ساتھ یہ  مذاق ہے ہم مزید وقت نہیں دیں گے۔ آج ہم توہین عدالت نوٹس جاری کریں گے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ جنہوں نے انڈر ٹیکنگ دی تھی ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔  اس شخص کو ایم اے ڈی کا ماہر مقرر کر دیا ہے جس نے کبھی  اس حوالے سے کام نہیں کیا۔ انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ جواب مناسب نہیں اس حد تک عوام کی تضحیک ہو رہی ہے‘ پیسے ان کی جیبوں سے نکالے جا رہے ہیں ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے سب لوگ تنخواہ لے رہے ہیں پھر بھی عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے ۔ تنخواہ لینے والوں کے لئے کوئی احتساب بھی ہے یا نہیں ہمیں اعداد و شمار دیئے جائیں یہ سب پہلے بھی ہم کہہ چکے ہیں وکلاء کے ناموں کی فہرست پاکستان بار کونسل کو بھی دے دیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ ان میں کون کون سے سپریم کورٹ وکلاء ہیں۔ دوران سماعت جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ ایک نااہلی ہوتی ہے‘ دوسرا دھوکہ۔ یہ دھوکہ ہے جو عدالت اور عوام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہم 24 گھنٹے کی مانیٹرنگ نہیںکرسکتے کیوں نہ دھوکہ دینے والوں کیخلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے ۔ عدالت نے اپنے حکمنامہ میں کہا ہے کہ  ہم نے اپنے سابقہ حکم کی روشنی میں وفاق اور صوبوں کے عملدرآمد کا جائزہ لیا ہے جس میں وفاق اور صوبوں نے ڈائریکٹو جاری کئے تھے۔  عدالت نے اپنے حکم کے نکات 1 سے 6 کا جائزہ لے لیا ہے باقی کے 8 اپریل کو لیا جائے گا۔ عدالت ریاستی امور کی انجام دہی میں مطمئن نہیں۔ عدالت کا حکم نہ ماننے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی ہونی چاہئے اس سے قبل عدالت حکومتی اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے حکومت خود ہی عدالتی حکم پر عملدرآمد کرا دے۔سپریم کورٹ نے قانونی کتب کی غلط اشاعت سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق کیس میں چاروں صوبوں کی رپورٹس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کردی۔ وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ عدالت کو قانونی کتب کی غلط اشاعت کے ذمہ داروں اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی رپورٹ 6 اپریل تک پیش کی جائے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے وفاق کی جانب سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے حقوق کی کوئی بات نہیں کرتا بس کاغذی کارروائی کرتے ہوئے عوام سے مذاق کیا جاتا ہے۔ حکومت کا کام حکومت نے ہی کرنا ہے، عدالت نے نہیں، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہونا اور نہیں کرنا تو پہلے بتا دیا جائے، عدالت کو اپنے احکامات پر عمل کروانا آتا ہے آئین میں آرٹیکل 204کے تحت طریقہ کار موجود ہے، بادی النظر میں محسوسس ہوتا ہے کہ جب تک ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوگی حالات نہیں سدھریں گے۔