سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش نے تباہی مچادی، چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں بچوں سمیت پندرہ افراد جاں بحق۔

سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارش نے تباہی مچادی، چھتیں گرنے اور دیگر واقعات میں بچوں سمیت پندرہ افراد جاں بحق۔

اندرون سندھ اور بلوچستان کےمتعدد شہروں میں گزشتہ تین روزسے جاری بارش کے باعث درجنوں مکانات منہدم اور وسیع رقبے پرکھڑی فیصلیں تباہ ہوچکی ہیں،بارش کے باعث گھروں کی دیواریں گرنے سے متعدد افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں اور متعدد زخمی بھی ہیں۔ جعفرآباد کے علاقے میں کرنٹ لگنے سے دوافراد ہلاک ہوگئے،جبکہ جیکب آباد میں مکان کی چھت گرنے سے دو معصوم بچے جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ جیکب آباد میں کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ ادھرلورالائی کی تحصیل وکی میں بارش کے باعث دیوار گرنے سےتین بچیاں ہلاک اورتین شدید زخمی ہوگئیں جبکہ شہداد کوٹ میں گھرکی چھت گرنے سے تین افرادجاں بحق اور بارہ زخمی ہوگئے۔ بارش کے ساتھ چلنے والی تیزآندھی کے سبب دس سے زیادہ درخت بھی جڑسےاکھڑگئے۔ شکارپور میں مکان کی چھت گرنے کے باعث تین بچے جاں بحق اوردوزخمی ہوگئے۔ نوابشاہ میں بھی شدید بارش کے باعث نظام زندگی بری طرح متاثرہوا ہے جس کےباعث سندھ حکومت نےضلع کو آفت زدہ قراردے کرفوری طورپرسات کروڑ روپےکی امدادجاری کردی ہے، ضلع ٹھٹھہ کی نو تحصیلوں میں مسلسل تین دنوں سے بارش جاری ہے جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے، ادھرلوئردیرکےمختلف علاقوں میں بھی شدید بارش کی وجہ سےندی نالوں میں طغیانی پیداہوگئی ہے۔ طوفانی برسات سے کاروبارزندگی معطل ہوکررہ گیا اورندی نالے دریاؤں کامنظرپیش کرنے لگے ہیں،بعض علاقوں میں تین روز سے بجلی بندہونے کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مسلسل بارش سےسڑکوں اورکھیتوں میں جگہ جگہ پانی جمع ہوگیا ہےجس سےفصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ میرپورخاص میں طوفانی بارشوں سےسیم نالوں اور نہروں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ ڈی سی میرپورخاص کے مطابق حفاظتی پشتوں کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے اورضرورت پڑنے پرفوج کوطلب کیا جاسکتا ہے۔